ارض مقدسہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ارض مقدسہ کا 1759ء کا ایک نقشہ

ارض مقدسہ (انگریزی: Holy Land; عبرانی: אֶרֶץ הַקוֹדֵשׁ Eretz HaKodesh، لاطینی: Terra Sancta; عربی زبان: الأرض المقدسة Al-Arḍ Al-Muqaddasah) دریائے اردن اور بحیرہ روم کا درمیانی علاقہ جس میں دریائے اردن کا مشرقی علاقہ بھی شامل ہے۔ کتاب مقدس کے مطابق روایتی طور پر اسے ارض اسرائیل اور تاریخی طور پر فلسطین بھی کہا جاتا ہے۔

اصطلاح سے موجودہ دور میں جدید ریاست اسرائیل، فلسطینی علاقہ جات، اردن، لبنان اور جنوب مغربی سوریہ کا علاقہ مراد ہے۔ یہ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔

اسلامی نقطہ نظر[ترمیم]

ارض مقدسہ یا مقدس سرزمین جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں آیا

Ra bracket.png يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضَ المُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللّهُ لَكُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ Aya-21.png La bracket.png

ترجمہ: "اے میری قوم! داخل ہوجاؤ اس پاک زمین میں جسے لکھ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اور نہ پیچھے ہٹو پیٹھ پھیرتے ہوئے ورنہ تم لوٹوگے نقصان اٹھاتے ہوئے"

ان الفاظ میں موسی ؑ نے بنی اسرائیل کو ارض مقدسہ میں داخل ہونے سے قبل حکم دیا ہے۔ ارض مقدسہ کے متعلق کئی اقوال ہیں۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد طور اور اس کے اردگرد کی زمین ہے۔ قتادہ نے کہا اس سے مراد شام ہے۔ ابن زید نے کہا اس سے مراداریحا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد دمشقفلسطین اور اردن کا بعض علاقہ ہے۔
امام ابو جعفر طبری نے کہا ہے کہ ارض مقدسہ کو عموم اور اطلاق پر رکھنا چاہیے اور اس کو کسی علاقہ کے ساتھ خاص نہیں کرنا چاہیے ‘ کیونکہ بغیر کسی حدیث کے ارض مقدسہ کی تعیین جائز نہیں ہے اور اس سلسلہ میں کوئی حدیث وارد نہیں ہے۔ ڈاکٹر وھبہ زحیلی نے کہا ہے کہ اس سے مراد سرزمین فلسطین ہے۔ اس کو مقدس اس لیے فرمایا ہے کہ یہ جگہ شرک سے پاک ہے ‘ کیونکہ یہ جگہ انبیا علیہم السلام کا مسکن ہے ‘ یا اس لیے کہ اس جگہ عبادت کرنے سے انسان گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔[1]
مجاہد کے نزدیک ارض مقدس سے مراد طور اور حوالی طور ہے۔ ضحاک کے نزدیک ایلیا اور بیت مقدس‘ عکرمہ اور سدی کے نزدیک اریحا۔ کلبی کے نزدیک دمشق فلسطین اور اردن کا کچھ حصہ اور قتادہ کے نزدیک پورا ملک شام۔ حضرت کعب کا بیان ہے کہ میں نے اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب (یعنی تورات) میں پڑھا تھا کہ شام اللہ کی زمین کا خزانہ ہے اور شام کے رہنے والے اللہ کے بندوں میں خزانہ ہیں۔ مقدسہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ارض مذکور انبیا کی قرار گاہ اور اہل ایمان کا مسکن ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر تبیان القرآن غلام رسول سعیدی،سورۃ المائدہ آیت 21
  2. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی ،سورۃ المائدہ آیت 21

بیرونی روابط[ترمیم]