میدان تیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

میدان تیہ ایک تاریخی میدان کا نام ہے۔

لفظ تیہ کی تحقیق[ترمیم]

تاہ یتیہ تیھا (ضرب) وتیھانا مصدر ۔ سرگرداں گھومتے رہیں گے۔ تیۃ لق و دق بیابان۔ وہ بیابان جس میں مسافر گم ہو جائے[1] تیہ کا لغوی معنی ہے حیرت‘ وہ میدان چھ فرسخ کا تھا‘ یعنی اٹھارہ شرعی میل اور ستائیس انگریزی میل کا۔ وہ دن رات چلتے رہتے تھے‘ لیکن اس میدان کو قطع نہیں کر پاتے تھے‘ وہ صبح کو جہاں سے چلنا شروع کرتے‘ شام کو پھر وہیں پہنچ جاتے تھے اور شام کو جہاں سے چلتے تھے‘ صبح وہیں پہنچ جاتے تھے۔ [2]

تاریخ[ترمیم]

فرعون کے دریائے نیل میں غرق ہونے کے بعد تمام بنی اسرائیل مسلمان ہو گئے اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اطمینان نصیب ہو گیا تو اللہ تعالٰیٰ کا حکم ہوا کہ آپ بنی اسرائیل کا لشکر لے کر ارض مقدس (بیت المقدس) میں داخل ہو جائیں۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی قوم کا قبضہ تھا جو بدترین کفار تھے اور بہت طاقتور و جنگجو اور نہایت ہی ظالم لوگ تھے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چھ لاکھ بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر قوم عمالقہ سے جہاد کیلئے روانہ ہوئے مگر جب بنی اسرائیل بیت المقدس کے قریب پہنچے تو ایک دم بزدل ہو گئے اور کہنے لگے کہ اس شہر میں ‘ جبارین ‘ ( عمالقہ) ہیں جو بہت ہی زور آور اور زبردست ہیں۔ لہٰذا جب تک یہ لوگ اس شہر میں رہیں گے ہم ہرگز ہرگز شہر میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہاں تک کہہ دیا کہ اے موسیٰ آپ اور آپ کا خدا جا کر اس زبردست قوم سے جنگ کریں۔ ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ بنی اسرائیل کی زبان سے یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بڑا رنج و صدمہ ہوا اور آپ نے باری تعالٰیٰ کے دربار میں یہ عرض کیا کہ:

قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ۖ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
موسیٰ نے کہا اے میرے رب میرے اختیار میں تو سوائے میری جان اور میرے بھائی کے اور کوئی نہیں سو ہمارے درمیان اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی ڈال دے

چنانچہ اس دعا پر اللہ تعالٰیٰ نے اپنے غضب و جلال کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ:

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
فرمایا تحقیق وہ زمین ان پر چالیس بر س حرام کی گئی ہے اس ملک میں سرگرداں پھریں گے سو تو نافرمان قوم پر افسوس نہ کر

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ چھ لاکھ بنی اسرائیلی لوگ ایک میدان میں چالیس برس تک بھٹکتے رہے مگر اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ اسی میدان کا نام ‘ میدان تیہ ‘ ہے۔ اس میدان میں بنی اسرائیل کے کھانے کیلئے من و سلویٰ نازل ہوا اور پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا مار دیا تو پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہو گئے۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے بار بار مختلف عنوانوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے جس میں سے سورہ مائدہ میں یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ مذکور ہوا ہے جو بلاشبہ ایک عجیب الشان واقعہ ہے جو بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور شرارتوں کی تعجب خیز اور حیرت انگیز داستان ہے مگر اس کے باوجود بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی محبت و شفقت بنی اسرائیل پر ہمیشہ رہی کہ جب یہ لوگ میدان تیہ میں بھوکے پیاسے ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا مانگ کر ان لوگوں کے کھانے کیلئے من و سلویٰ نازل کرایا اور پتھر پر عصا مار کر بارہ چشمے جاری کرا دیئے. علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں : بنواسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ جبارین کے شہر میں داخل ہوں اور ان کے خلاف جہاد کریں‘ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : آپ اور آپ کا رب ان سے جنگ کریں‘ ہم یہیں بیٹھے رہیں گے‘ ان کی اس گستاخی کی سزا کے طور پر ان کو میدان تیہ میں چالیس سال تک سرگرداں رکھا گیا‘ میدان تیہ مصر اور شام کے درمیان پانچ چھ فرسخ (ایک فرسخ تین شرعی میل کا ہوتا ہے) کا ایک وسیع وعریض میدان ہے۔ اس کی تفصیل اور پس منظر اس طرح ہے : بنی اسرائیل کا اصل وطن ملک شام تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں یہ لوگ مصر آکر مقیم ہوئے۔ فرعون مصر کی غلامی کا دور بھی ان لوگوں نے مصر میں گزارا‘ بالآخر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے انہیں نجات عطا فرمائی‘ فرعون سمندر میں غرق ہوا اور بنی اسرائیل نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس دوران ملک شام پر قوم عمالقہ قابض ہوچکی تھی‘ فرعون کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ عمالقہ سے جہاد کرکے ان سے اپنا وطن آزاد کرائیں۔ بنی اسرائیل جہاد کے لیے ملک شام کی طرف روانہ ہوئے‘ جب یہ عمالقہ کی حدود کے قریب پہنچے تو ان کی قوت اور طاقت کا حال سن کر ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے منہ موڑ کر واپس لوٹے‘ اللہ تعالیٰ نے انکے اس جرم کی سزا یوں دی کہ وہ اپنے گھروں تک جانے کی فکر میں دن بھر سفر کرتے‘ رات بسر کرنے کے بعد صبح کو اپنے آپ کو وہیں پاتے جہاں سے گزشتہ صبح انہوں نے سفر کا آغاز کیا ہوتا‘ اسی پریشان حالی کے عالم میں چالیس سال انہوں نے میدان تیہ میں گزار دیئے۔ اس وادی میں نہ کوئی سایا دار درخت تھا اور نہ ہی کوئی عمارت‘ نہ پینے کے لیے پانی نہ کھانے کے لیے کوئی چیز‘ نہ ضروریات زندگی کے دیگر لوازمات‘ اس بے سروسامانی کے عالم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان کے لیے سب سامان مہیا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے دھوپ سے بچاؤ اور سایا کے حصول کے لیے بادل بطور سائبان نازل فرما دیا‘ کھانے کے لیے کوئی چیز‘ نہ ضروریات زندگی کے دیگر لوازمات‘ اس بے سروسامانی کے عالم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان کے لیے سب سامان مہیا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے دھوپ سے بچاؤ اور سایا کے حصول کے لیے باد بطور سائبان نازل فرما دیا‘ کھانے کے لیے من وسلوی بھیج دیا‘ من وسلوی کے بارے میں مختلف اقوال ہیں‘ صحیح قول یہی ہے کہ من سے مراد ترنجبین ہے جو ایک نفیس شیریں ذائقہ دار مادہ تھا جو شبنم کی طرح صبح کے وقت آسمان سے اترتا اور کثیر مقدار میں چھوٹے چھوٹے درختوں پر منجمد ہوجاتا تھا۔[3] امام ابن جریر نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ان کے کپڑے میدان تیہ میں نہ پرانے ہوتے تھے اور نہ پھٹتے تھے۔

ابن منذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ بنو اسرائیل جب اپنے تیہ کے میدان میں تھے تو ان کے کپڑے اس طرح بڑھتے تھے جس طرح وہ جوان ہوتے[4]

  1. ^ انوار البیان، محمد علی،المائدہ26
  2. ^ تفسیر تبیان القرآن ،مولانا غلام رسول سعیدی صاحب،المائدہ،26
  3. ^ تفسیر تبیان القرآن ،مولانا غلام رسول سعیدی صاحب،البقرہ،55
  4. ^ تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی،المائدہ،26