انجیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


متی اور لوقا کی انجیل کے ایک بنیادی ماخذ کا مفروضہ، جس کے مطابق ان کا ایک ماخذ مرقس ہے اور ایک دوسرا ماخذ بھی ہے ، جس کا ایک بڑا حصہ دونوں اناجیل میں ملتا ہے۔ جس کو اس تصویر کی مدد سے واضح کیا گيا ہے۔

انجیل (انگریزی: gospel، یونانی اصل الکلمہ، بمعنی خوشخبری) مسیحیت کی مقدس کتب میں شامل ہے جو مسیحیت کے مطابق کلامِ یسوع المسیح اور اسلام کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی ہے۔
چار اناجیل ہی کو عام طور پر مسیحی بڑے فرقے مانتے ہیں، مگر اس کے علاوہ دیگر کئی اناجیل کا ثبوت بھی موجود ہے۔عہد نامہ جدید میں چار اناجیل کو شامل کیا گيا ہے جن میں سے پہلی تین کو اناجیل متوافقہ کہتے ہیں کیونکہ ان میں واقعات کے ایک ہی سلسلہ کے خلاصہ جات دیے گئے ہیں۔ چوتھی انجیل میں دوسری قسم کے واقعات کا بیان ہے۔
عہد نامہ جدید ان اناجیل سے شروع ہوتا ہے جن میں مسیح کی پیدائش، رسالت، تبلیغ، معجزات، رومیوں کے ہاتھوں قتل اور تین دن بعد دوبارہ زندہ ہونے کی کہانی ہے اور یسوع المسیح کی اس قربانی سے انسان کی بقا اور بہبود کی خوشخبری ہے۔


اشتقاقیات

انجیل

یونانی زبان کے لفظ ایون جولین/euangelion سے عربی میں (براستہ حبشہ[1]) یہ لفظ انجیل بن گیا، (قرآن: سورۃ الحدید:27) میں آ جانے کی وجہ سے پھر جہاں جہاں اسلام پہنچا اس زبان میں بھی مسیحی عہد نامہ جدید کی پہلی چاروں کتب اور بعض اوقات سارے عہد نامہ جدید کے مجموعہ کو انجیل کہا جانے لگا۔

قرآن میں لفظ انجیل (الانجیل) اس صحیفے کے ليے استعمال ہوا ہے جو اسلامی عقیدے کے مطابق عیسیٰ نبی پر نازل ہوا۔[2] جبکہ کہ مسیحیت میں انجیل مسیح (عیسیٰ نبی) پر نازل نہيں ہوئی بلکہ بعد میں کچھ حواریوں یا ان کے شاگردوں (جن پر اختلاف ہے) نے الہام سے اپنے الفاظ کے مطابق لکھیں۔

یہ لفظ ایون جولین/euangelion عہد نامہ جدید میں تقریباً سو بار آیا ہے۔ اردو پروٹسٹنٹ ترجمہ میں صرف گیارہ مرتبہ ہی اس کا ترجمہ انجیل گیا گیا ہے۔ باقی تمام مقامات پر خوشخبری کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ نئے عہد نامہ کے پروٹسٹنٹ ترجمہ میں لفظ انجیل اور خوشخبری بلا متیاز ایک دوسرے کی جگہ استعمال کئے گئے ہیں[3]۔کیتھولک ترجمہ (اردو) میں ہر جگہ انجیل ہی ترجمہ کیا گیا ہے۔

عہد نامہ جدید میں کسی جگہ بھی انجیل سے مراد کوئی کتاب نہیں ہے۔[4] بلکہ ہر جگہ یہ مسیحی عقیدہ کہ مسیح نے ان کے لیے جان دی اور نجات کا ذریعہ بنا، اور وہ پھر واپس آئے گا، یہ ہی خوشخبری کے معنی رکھتا ہے۔ 150ء کے بعد ہی انجیل کا لفظ نئے عہد نامہ کے لئے استعمال ہونا شروع ہوا۔[5]

گاسپل

(انگریزی: gospel) قدیم انگریزی زبان میں گاڈ-سپل (gōd-spell) تھا[6]، (شاذ و نادر ہی godspel (جوڑ کر) لکھا جاتا)، جس کا مطلب "اچھی خبر" یا "خوشخبری" ہے۔[7]

خوشخبری (یعنی انجیل اور گاسپل) سے مراد شروع کے ہی مسیحی پیغام کا بنیادی جزو تھی[8] جس سے مراد مسیح کی آمد ثانی اور خدا کی بادشاہی کا قیام تھا۔ شروع میں جو تحریریں لکھی گئیں، کیونکہ ان میں اسی آمد اور جلد ہی بادشاہت (مسیح کی) قائم ہونے کی پیشگوئی کی جاتی رہی ۔ اس لیے ان تحاریر کو انجیل یعنی خوشخبری کہا جاتا تھا۔

گاسپل یونانی لفظ εὐαγγέλιον (ایون جولین) کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ہے، (eu- "اچھا"، -angelion "پیغام") یا یہ آرامی زبان کے لفظ (ܐܘܢܓܠܝܘܢ ewang'eliyawn) کا ترجمہ ہے۔

ارتقا اور تشکیل

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: کیو ماخذ

پروفیسر، جون رچچز کے بقول اکثر ماہرین کو اس بات پر شک ہے کہ اناجیل عینی شاہدین نے لکھی تھیں[9]۔مذہب پر لکھنے والی دور حاضر کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مصنفہ کیرن آرم سٹرانگ کا کہنا ہے کہ

ہمیں بلکل نہیں معلوم کہ اناجیل کس نے لکھی ہیں۔ جب وہ پہلی بار ظہور پذیر ہوئیں تو انہیں گمنام تحریروں کی حیثیت سے پھیلایا گیا۔ بعد میں انہیں رفتہ رفتہ ابتدائی دنوں کے کلیسیا کی اہم شخصیتوں سے منسوب کیا جانے لگا[10]

تمام اناجیل میں کسی مصنف کا نام مذکور نہیں[11]، عام طور پرمسیحی فرقوں کا نظریہ ہے کہ؛ متی نے پہلے عبرانی زبان میں ایک انجیل (یا تحریر لکھی جس میں اقوال مسیح تھے) پھر اس نے خود ہی اس کا یونانی میں ترجمہ کیا، یا پھر ایک انجیل یونانی میں لکھی۔ بعد والوں نے اپنی اپنی لیاقت کے مطابق اس سے ترجمہ کیا [12]۔

شروع میں لوگيا، اگرافا (زبانی روایات) کو تحریر میں لایا گیا، اس بات میں شدید اختلاف ہے کہ پہلے کون سی انجیل لکھی گئی، ایک نظریہ یہ ہے کہ پہلے ایک انجیل (زبانی روایات کی بنیاد پر) تحریر ہوئی، پھر دوسرے مصنف نے اس پہلی انجیل اور کچھ دیگر زبانی روایات لے کر دوسری انجیل لکھی، پھر تیسرے مصنف نے پہلی دو اناجیل اور دیگر زبانی روایات لے کر تیسری انجیل لکھی۔ مگر یہ سوال کہ پہلے کون سی انجیل لکھی گئی اس کے متعلق کئی ترتیبات مختلف دلائل کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔ جو درجہ ذیل ہیں۔

6 نظریات [13] 1 2 3 4 5 6
ترتیب زمانی لوقا متی مرقس لوقا مرقس متی متی لوقا مرقس متی مرقس لوقا مرقس متی لوقا مرقس لوقا متی

اس پر اکثر ماہرین متفق ہیں کہ چاروں اناجیل 60 عیسوی سے لے کر 100 عیسوی کے درمیان لکھی گئیں[14]، لیکن اس وقت تک ان میں موجود داستان اس طرح مسلسل نہیں تھی۔ 170 عیسوی میں ططیان نے بھی ایک کوشش کی، اس نے متی، مرقس، لوقا اور کچھ زبانی روایات کو لے کر ایک ہی متفقہ (بلا تکرار واقعات) ترتیب دی۔[9] اس دور میں کئی اناجیل کا ثبوت ملتا ہے، خود لوقا کی پہلی آیت میں ہی اس بات کا اقرار ہے کہ بہتوں نے ایسی تحاریر لکھی ہیں۔ غناسطی اناجیل، اور دیگر کئی، جن میں سے کچھ کے مخطوطات جدید دور میں دریافت ہوئے ہیں، اور وہ شائع کی جا چکی ہیں۔ جیسے توما کی انجیل، پطرس کی انجیل، مانی کی انجیل اور یہوداہ اسکریوتی، برناباس، مسیح، مریم مگدلینی اور دیگر کئی اہم ابتدائی مسیحی شخصیات سے منسوب اناجیل کے حوالے، اور مخطوطات تاریخ میں محفوظ ہیں۔

150ء کے بعد ہی ان تحریروں کو انجیل (کتاب کے معنوں میں) بولا جانے لگا[15] ۔ نیقیہ کونسل میں پہلی بار اناجیل اربعہ کو عہد نامہ جدید کا حصہ مانا گیا، اور باقی سب اناجیل کو بدعتی اور گمراہ قرار دے کے ان کے پڑھنے، سننے، لکھنے، اپنے پاس محفوظ رکھنے پر پابندی لگا دی گئی۔

اناجیل متوافقہ

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضامین کے لئے ملاحظہ کریں: متی کی انجیل، مرقس کی انجیل اور لوقا کی انجیل
متی، مرقس اور لوقا کی انجیل کو اناجیل متوافقہ کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کے متن کا ایک بڑا حصہ ایک جیسا ہے، جو کہ یوحنا کی انجیل میں نہیں ہے۔اناجیل متوافقہ میں کئی کہانیاں، اقوال، خطبات، امثال ایک جیسی ہیں جیسے کنواری سے بیت الحم میں پیدائش، پہاڑی کا واعظ، پہاڑی وعظ میں برکت کی بشارتیں، آخری عشائیہ اور صلیبی موت وغیرہ۔

یوحنا کی انجیل

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: یوحنا کی انجیل

متنازع اناجیل

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضامین کے لئے ملاحظہ کریں: فہرست اناجیل، غناسطی اناجیل اور انجیل برناباس
یوں تو مسیحیت کے تقریباً تمام فرقے چار اناجیل کو تصدیق شدہ مانتے ہیں۔ البتہ یہ بات بھی واضح ہے کہ چار سے کئی زیادہ اناجیل لکھی گئی تھیں جن کو چرچ کے علماء نے سوچ بچار کے بعد غیر مصدق قرار دیا تھا۔[16] تاہم سب چرچ (مثلاً کیتھولک، پروٹسٹنٹ، مالابار) اس بات پر متفق نہیں کہ کون سی اناجیل غیر مصدقہ ہیں۔ ان میں سے خاص طور سے ہندوستان میں بسنے والے شامی مسیحی فرقہ (سیرین کرسچن) توما کی انجیل کو بھی اصلی اور تصدیق شدہ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ المسیح کا رسول توما جب تبلیغ کرنے ہندوستان آئے تو کیرالا پہنچ کر وہاں چرچ قائم کیا اور وہاں کہ لوگوں نے بالآخر انکو قتل کیا [17]ـ

اسی طرح ایک انجیل بربناس بھی ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام فارقلیط دیا گیا تھا، جس کا ترجمہ مسلمان احمد کرتے ہیں اور مسیحی اس انجیل کو جعلی قرار دیتے ہیں۔ اور اس انجیل اور یوحنا کی انجیل میں موجود نام فارقلیط کو روح القدس ہی قرار دیتے ہیں۔

اسلامی نظریہ

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: اسلام میں انجیل
اہلِ اسلام گاسپل کو انجیل کہتے ہیں، اور یقین رکھتے ہیں کہ یہی اصلی انجیل تھی ج وخود عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی نا کہ کسی حواری کو الہام ہوا۔ انجیل قران میں بیان کردہ چار بڑی کتب جو اللہ کی طرف سے انبیاء پر نازل ہوئیں ان میں سے ایک ہے۔ مسلمان انجیل کو الہامی کتاب مانتے ہیں البتہ اس کی موجودہ صورت کو تحریف شدہ قرار دیتے ہیں، اور اس کو قرآن کے نزول کے بعد منسوخ سمجھتے ہیں۔انجیل اور انجیل کی منسوخی کا قرآن میں جگہ جگہ ذکر ہے۔ اسلام کا نظریہ قرآن پر مبنی ہے کہ اناجیل میں وقتاً فوقتاً تحریف ہوتی رہی ہے اور اس لیے انجیل کے موجودہ متن پر پورا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ مسیحیت کے پیروکار اس بات کی تردید کرتے ہیں۔

سب سے پہلے 631ھ اور 640ھ کے درمیان عمر بن سعد کے حکم سے انجیل کا عربی میں ترجمہ کیا گیاحوالہ درکار؟ اور اس کے بعد خود مسلمانوں نے عربی دان مسیحیوں سے اس کا ترجمہ کرایا۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ^ قاموس الکتاب (لغات بابئل)، طبع ہشتم، 2005ء صفحہ 93، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور۔
  2. ^ قرآن مقدس، سورۃ الحدید، آیت 27
  3. ^ رومیوں،1:15، 16:2، افسیوں 1:13، 16:19
  4. ^ قاموس الکتاب (لغات بابئل)، طبع ہشتم، 2005ء صفحہ 93، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور۔
  5. ^ جس کا متن میں موجود انجیل کے مفہوم سے تعلق نہیں ہے
  6. ^ "Gospel – Definition and More from the Free Merriam-Webster Dictionary". Merriam-webster.com. 2012-08-31. http://www.merriam-webster.com/dictionary/Gospel۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-12-25.
  7. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Woodhead_2004_n.p کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  8. ^ "Gospel". Cross, F. L., ed. The Oxford dictionary of the Christian church. New York: Oxford University Press. 2005
  9. ^ 9.0 9.1 Riches، John (2000). The Bible: A Very Short Introduction. Oxford: Oxford University Press. pp. 45. ISBN 978-0-19-285343-1.
  10. ^ ۔کیرن آرم سٹرانگ، دا بائبل دا بائیو گرافی، صفحہ 77، طباعت (اردو ترجمہ، 2009ء)، نگارشات پبلشرز، لاہور
  11. ^ ہماری کتب مقدسہ، جی ٹی مینلی، صفحہ 451، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور، طبع 2009ء
  12. ^ یوسیبیس، کلیسائی تاریخ، جلد 3، صفحہ 39
  13. ^ مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ، چودھری غلام رسول، صفحہ 471، شیخ محمد بشیر اینڈ سنز، لاہور، طبع ششم، 1981ء
  14. ^ Riches، John (2000). The Bible: A Very Short Introduction. Oxford: Oxford University Press. pp. 46. ISBN 978-0-19-285343-1.
  15. ^ قاموس الکتاب (لغات بابئل)، طبع ہشتم، 2005ء صفحہ 93، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور۔
  16. ^ حوالہ درکار
  17. ^ حوالہ درکار