بحر میت کے مخطوطات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زبور کے طومار

بحر میت کے مخطوطات یا بحر مردار کے طومار تقریباً 900 دستاویزوں پر مشتمل ہیں جن میں عبرانی انجیل کا متن بھی شامل ہے۔ انہیں 1947ء تا 1956ء اور 2000ء میں وادی قمران اور اس کے آس پاس کی قدیم خربہ قرمان آبادی کے آثارِ قدیمہ کے قریب بحیرہ مردار کے شمال مغرب میں واقع بارہ غاروں سے عرب بدوؤں نے دریافت کیا۔ وادی مربعات قمران سے بارہ میل جنوب کی طرف اور یروشلم سے تقریباً 15 میل جنوب مشرق کی جانب واقع ہے۔ وادی قمران سے قریباً پون میل کے فاصلہ پر  بحر مراد کے مغرب کی جانب ایک جگہ ہے جس کو خربت قمران کہتے  ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں یشوع کے زمانہ میں شہر نمک بستا تھا۔ (یشوع 15: 61) اب ویران ہوجانے کی وجہ سے خربت (بمعنی اجاڑ) کہلاتا ہے۔

1967ء میں اسرائیلی فوج نے یروشلم کے عجائب گھر سے کچھ مخطوطات چوری کر لیے۔ 2009ء میں جب یہ مخطوطات ٹورانٹو میں نمائش کے لیے لائے گئے تو اردن نے کینیڈا حکومت کو بین الاقوامی قوانین کے تحت ان مخطوطات کو ضبط کرنے کے لیے کہا۔[1]

بحر مردار[ترمیم]

بحر مردار کو بائبل میں"دریائے شور" (پیدائش 14: 3) "یردن پار دریائے میدان جانبِ مشرق" (استشناء 4: 49) اور "مشرقی سمندر" (حزقی ایل  47 : 18) کے نام دیے گئے ہیں۔ یہ سمندر قریباً 48 میل لمبا ہے جس میں چار دریا گرتے ہیں۔ یہودیہ کے کنارے پر اس بحر کا پانی پایاب ہوجاتا ہے اور پھر" نمک زار" (صفنیاہ 2: 9) میں جاکر جذب ہو جاتا ہے۔ اس کے پانی میں مچھلیاں مرجاتی ہیں۔ یسوع مسیح کی پیدائش سے پہلے یہ بحر یہودہ اور اس کے آس پاس کے ممالک موآب اور ادوم کے درمیان میں حد بندی کا کام دیتا تھا۔ (2۔تواریخ 20: 1تا 30)۔

مخطوطات کا انکشاف[ترمیم]

1947ء کے موسم گرما کے اوائل میں ایک بدوی قبیلہ تعمیرہ کا محمد نامی لڑکا بحر مردار کے شمالی مغربی ساحل کے نزدیک  پہاڑیوں کے دامن میں (جہاں قدیم شہر یریحو آباد تھا) اپنی بکریاں چرا رہا تھا۔ اسی دوران میں اس کی ایک بکری بھٹک گئی۔ محمد ان ڈھلوان پہاڑیوں کی چٹانوں پر اس کو تلاش کرتا ایک پہاڑی کی کھوہ کے پاس پہنچا جس کا منہ گول تھا۔ اس خیال سے کہ شاید بکری اس میں گر گئی ہو، اس نے جھک کر دیکھا تو اس کو تاریک غار نظر آیا۔ اس نے پتھر اٹھا کر پھینکا تو اس کو کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔ اس نے سوچا کہ شائد اس میں کوئی جن یا بھوت پریت رہتا ہے۔ وہ ڈر کے مارے وہاں سے سر پر ہاؤں رکھ کر بھاگ اٹھا۔ اگلے روز  وہ ایک اور لڑکے کو اپنے ہمراہ لے کر اس خیال سے واپس وہاں گیا کہ شاید اس غار میں کوئی خزانہ چھپا ہے۔ جب دونوں غار میں اترے تو کیا دیکھتے ہیں وہاں چند بڑے بڑے مرتبان فرش پر رکھے ہیں جن میں ایک محمد کی ضرب سے ٹوٹا پڑا ہے۔ یہ مرتبان رال سے سر بمہر نہایت حفاظت اور احتیاط  سے بند کیے ہوئے تھے۔ ان مرتبانوں  میں ان کو خزانہ کی بجائے چمڑے کے ایک درجن طومار ملے جو کسی غیر مانوس زبان میں لکھے ہوئے تھے اورکپڑے  میں لپٹے  اور رال سے سر بمہر بند کئے ہوئے تھے۔ انہوں نے چند طومار لیے تاکہ ان کو چوری چھپے فروخت کرکے منافع اٹھائیں۔

یہ بدوی لڑکا محمد ایک عرب تھا اور اس کا تعلق ایک ایسے قبیلہ سے تھا جس کا پیشہ یہ تھا کہ وہ بکریوں اور دیگر ممنوعہ اشیا کو اردن پار کنعان میں چوری چھپی لے جاکر فروخت  کیا کرتے تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ حکومتِ اردن نے سخت حکم دے رکھا ہے کہ جو اشیا غاروں میں ملیں وہ حکومت کے حوالے کردی جائیں۔ پس انہوں نے  دیگر ممنوعہ اشیا کو اور ان طوماروں کو لے کر بیت اللحم کا رخ کیا تاکہ وہاں سب ممنوعات کو فروخت کریں۔ گرفتاری کے ڈر سے وہ دریائے اردن کے پُل کو چھوڑ کر دُور جنوب کی جانب چلے گئے تاکہ محصول کی چوکیوں کے پہرہ دار ان کو نہ دیکھ پائیں۔ انہوں نے نالہ کو عبور کیا اور بحر مُردار کی جانب آئے کیونکہ اس کے مضافات کے تمام خشک ویرانہ میں صرف ایک ہی پانی کا چشمہ تھا اور ان کو اپنے لیے اور جانوروں کے لیے پانی درکار تھا۔ یہ مقام ان کے لیے محفوظ بھی تھا کیونکہ ویرانہ میں کوئی شخص آتا جاتا نہ تھا۔ بیت الحم پہنچ کر انہوں نے پہلے دوسری ممنوعہ اشیا کو فروخت کیا اور پھر ایک سوداگر کی تلاش کرنے لگے جو ان طوماروں کو خریدے۔ اتفاق سے یہ سوداگر ملک شام کا رہنے والا مسیحی تھا۔ اس نے اس خیال سے کہ شاید طوماروں کی تحریر قدیم سریانی زبان ہے، ان کو مقدس مرقس کی خانقاہ میں شامی کلیسیا کے میٹروپالی ٹن مارا تھاناسیس یشوع سموئیل کے پاس لے گیا۔ یہ میٹروپالی ٹن یعقوبی شامی کلیسیا کا تھا جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا سلسلہ سیدھا انطاکیہ کے پیٹریارک کے ساتھ ہے جس کی بنیاد مقدس پطرس نے ڈالی تھی۔ میٹروپولیٹن نے تحریر کو دیکھا تو وہ قدیم سریانی نہ تھی بلکہ عبرانی زبان تھی۔ طوماروں کی قدامت  دیکھ کر میٹروپولیٹن نے ان کو خرید لیا۔

پس منظر[ترمیم]

ان طوماروں کی دستیابی کا زمانہ نہایت پُر آشوب تھا۔ برطانوی حکومت نے ارض مقدس کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کرکے ملک سے ہاتھ دھولیے اور اعلان کردیا کہ ہم 14 مئی کے روز تمام کنعان کو خالی کردیں گے۔ ارض مقدس کی سرزمین حکومت اردن اور اسرائيلی حکومت کی باہمی خونریزیوں اور جنگوں کی وجہ سے لالہ زار ہوگئی۔ تمام ملک کے طول و عرض میں امن کا دور اور نظم ونسق کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ دونوں نئے ممالک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ برطانیہ نے ارض مقدس کا انتظام کسی کے ہاتھ میں نہ چھوڑا تھا۔ یہود ہر طرف سے سات عرب ممالک سے گھرے ہوئے تھے جو ان کے جانی دشمن تھے۔ یہ ممالک یہود کو تباہ کرنے اور کنعان سے نکال کر دم لینے پر تلے ہوئے تھے۔ انگریزی فوج کا برگیڈئر گلب (Glubb) عرب ممالک کے لشکروں کا کمانڈر تھا۔ اس نے شہر یروشلم کے یہودی حصہ پر گولہ باری کردی جس کے نزدیک میٹروپالیٹن  کی خانقاہ مقدس مرقس تھی جس کو عرب اور یہود افواج کی گولہ باری سے سخت نقصان پہنچا۔ بیچارہ میٹروپولیٹن  وہاں سے مجبوراً  نکل گیا اور چندے ملک شام میں رہ کر امریکا چلا گیا اور اپنے ساتھ وہ طومار بھی لے گیا۔ 1949ء میں جنوری کے آخر میں امریکا پہنچ گیا۔ اگر میٹروپولیٹن ان طوماروں کو امریکا نہ لے جاتا تو یہ طومار تباہ وبرباد ہوجاتے کیونکہ ان ایام میں نہ کوئی حکومت تھی اور نہ کہیں قانون کا راج تھا۔

بعد از انکشاف[ترمیم]

یہ طومار اس علاقہ سے دستیاب ہوئے جہاں پہلی صدی مسیح سے قبل یہود قمران بستے تھے۔ پس ان طوماروں کو بعض اوقات "قمران کے طومار" کہتے ہیں۔ جب میٹروپولیٹن نے یہ طومار امریکا میں فروخت کئے اور مسیحی فضلا نے ان کا مطالعہ کیا اور اخباروں میں مضامین لکھے تو ادبی اور مذہبی دنیا میں تہلکہ مچ گیا کیونکہ طومار عہد نامہ قدیم کی کتب مقدسہ کے قدیم ترین عبرانی نسخے تھے جو یسوع مسیح سے صدیوں پہلے لکھے گئے تھے۔ جب اخباری دنیا میں ان قدیم ترین عبرانی نسخوں کی دھوم مچی تو حکومتِ اُردن بھی جاگ اٹھی اور بدوی عرب ان کی قدر و قیمت سے واقف ہوگئے۔ قبیلہ کے افراد نے نجی طور پر متعدد مقامات سے انہوں نے اور نسخے برآمد کر لیے۔ انہوں نے متعدد نسخوں کو فروخت کردیا اور ہر نسخہ اور پارہ کے لیے ایک پونڈ فی مربع سینٹی میٹر کے حساب سے زرِ کثیر حاصل کرلیا۔ حکومتِ اُردن نے ان بدوی مثلاً خربت قمران، مربعات، خربت مرد وغیرہ سے بھی طومار حاصل کیے۔ بدویوں نے طمع زر کی خاطر بعض طوماروں کو پارہ پارہ کردیا اور جو پارے دستیاب ہوئے تھے ان کے بھی کاٹ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیے تاکہ زیادہ رقم وصول کرسکیں حتیٰ کہ بعض ٹکڑے ناخنوں کے برابر کردیے۔ علما نے نہایت دیدہ ریزی سے ان ٹکڑوں کو جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور پاروں کو بہزارِ دقت جوڑ کر یک جا کیا اور بھی ہزاروں ٹکڑے باہمدگر پیوست کرنے پڑے ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو چھنّی سے چھان چھان کر یک جا کیے جارہے ہیں تاکہ بعد میں پیوست کئے جائیں۔

دستاویزوں کی تفصیلات[ترمیم]

کھدائی نے یہ ثابت کردیا کہ قمران کے فرقہ یہود نے ایک کتب خانہ جمع کر رکھا تھا جس میں پانچ سو سے زائد کتابیں محفوظ تھیں۔ ان پانچ سو طوماروں میں ایک سو طومار کتبِ عہد نامہ قدیم کے نسخے ہیں۔ ان ایک سو طوماروں میں کتب عہد نامہ قدیم کی تمام کی تمام کتابیں (با استشنائے آتسر) موجود ہیں اور بعض کتب کے ایک سے زائد نسخے ہیں۔ ان کتب مقدسہ کے علاوہ اس کتب خانہ میں ترجمہ سبیعنیہ  کے نسخے اور کتب "ترجم" (Targum) کے نسخے بھی ملے ہیں۔ ایک ارامی زبان کا "ترجم" بھی دستیاب ہوا ہے۔ ان تمام طوماروں میں اہم ترین نسخے وہ ہیں جو 1947ء میں وادی قمران کے قرب وجوار کے گیارہ غاروں سے دستیاب ہوئے ہیں۔ 1958ء میں کتاب استثنا کا ایک نسخہ ملا جو یسوع مسیح سے تین صدیوں پیشتر لکھا گیا تھا اور دو ہزار تین سو سال قدیم ہے۔ ایک اور طومار میں مزامیر 121، 122، 145اور 148 لکھے ملے۔ ایک نسخہ میں ایوب کی کتاب کا "ترجم" نقل کیا ہوا ہے۔ قمران کے طوماروں میں بھی بعض ارامی زبان کے نسخے تھے۔ بعض  تفاسیر تھیں اور متعدد پارے اور نسخے ایسے تھے جو دورِ حاضر کے عبرانی نسخوں سے ایک ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ قدیم زمانہ کے ہیں۔

قمران کے پہلے  غار سے سات طومار برآمد ہوئے ہیں جن میں یسعیاہ کی کتاب کے دو نسخے ہیں۔ یہ نسخے نہایت اچھی حالت میں ہیں۔ ایک نسخہ میں یسعیاہ کی کتاب مکمل لکھی ہے اور دوسرے میں اسکا تیسرا حصہ محفوظ ہے۔ علما ان دونوں نسخوں کے متن کا مروجہ عبرانی میں متن سے مقابلہ کرکے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ تینوں متن حیران کُن طور پر متفق اللفظ ہیں۔ ان میں اگر کوئی فرق ہے تو قرات کا ہے کتابت کا نہیں۔ ان دو نسخوں سے ہم کو اس صحیح تلفظ کا بھی پتہ لگ جاتا ہے جو یسوع مسیح سے صدیوں پیشتر مروج تھا۔ دونوں نسخوں میں سہو کاتب بھی ملتے ہیں۔ مثلاً ایک نسخہ میں الفاظ "خداوند کے پہاڑ" (2: 3) میں نہیں ہیں (6: 3) میں لفظ" قدوس" دوبار لکھا ہے (7: 2) میں الفاظ "اس کے دل" نہیں پائے جاتے۔ لیکن  دوسرے طومار میں تو اس قسم کے خفیف سہو بھی نہیں پائے جاتے۔ حتیٰ کہ الفاظ  کے ہجے اور حروف کے اعراب تک میں کہیں فرق نہیں ملتا۔

سموئیل کی کتاب کے بھی دو طومار ہیں جن میں سے ایک طومار دوسرے سے زیادہ قدیم ہے بلکہ یہ نسخہ قمران کے ان تمام نسخوں سے زیادہ قدیم ہے جو اب تک دستیاب ہوئے ہیں۔ یہ نسخہ سیدنا یسوع مسیح سے تین صدیون قبل کا لکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر فرینک کراس نے ان دونوں طوماروں کا اور مروجہ عبرانی متن کا غائر مطالعہ کیا ہے اور وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ ان  میں وہی عبرانی متن موجود ہے جو سیپٹواجینٹ کے ترجمہ کے مترجمین کے سامنے تھا اور یہ تینوں متن ایک دوسرے کے موافق ہیں۔

پادری سیکہن کتاب استثنا اور زبور کے طوماروں کا مروجہ عبرانی متن سے مقابلہ کر کے اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ ان نسخوں کے مروجہ عبرانی سے جو اختلافات ہیں وہ نہایت خفیف ہیں جو زیادہ تر سہو کتابت ہیں۔

وادی قمران میں دس ایسے غار تھے جن میں مندرجہ بالا  اور دیگز خزانے دفون تھے۔کتابوں کا سب سے بڑا ذخیرہ غار نمبر 4 میں تھا جہاں سے نسخے اور ہزارہ پارے اور ٹکڑے برآمد ہوئے جو قریباً تین سو تیس کتابوں کے پارے تھے۔ قمران کے طوماروں کے مطالعہ نے یہ بھی ظاہر کردیا ہے کہ سامری نسخہ کا متن پانچویں صدی قبل از مسیح کا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب یہودیوں اور سامریوں میں جدائی کی خلیج واقع ہوچکی تھی۔ دوسری صدی مسیحی کے بعد تورات سامری کے متن میں کسی قسم کی تبدیلی کا ہونا غیر ممکن ہوگیا تھا۔

قمران کی کتابِ گنتی کے طومار کا متن وہی ہے جو سامری نسخہ گنتی کا ہے۔ اور سیپٹواجنٹ کے اس عبرانی متن کے موافق ہے جو مترجمین کے سامنے تھا ۔ دانی ایل کی کتاب کے طومار کا متن بھی مروجہ عبرانی متن کے مطابق ہے۔ اور جہاں کوئی خفیف  اختلاف پائے جاتے ہیں وہ سیپٹواجنٹ اور تھیوڈوشن ترجموں کے عبرانی اصل کےمطابق ہیں۔

وادی مربعات سے بنی تعمیرہ کے بدوؤں نے 1952ء میں ایسے نسخے کھود نکالے جو عبرانی اور یونانی زبانوں میں لکھے تھے محکمہ آثارِ قدیمہ نے ان بدوؤں کی امداد حاصل کرکے چار غار ایسے دریافت کئے جن میں سات آٹھ صدی قبل مسیح کے نسخے مدفون تھے۔ بعض نسخے رومی سلطنت کے زمانہ کے تھے جو دوسری صدی قبل از مسیح کے تھے اور چمڑے پر لکھے تھے۔ ان میں سے چار طوماروں کے پاروں پر کتابِ پیدائش ایک پارہ، کتابِ خروج دو پاروں پر اور کتاب استشنا ایک پارہ پر لکھی تھیں۔ ان پاروں پر سر سری نظر ڈالنے ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ رومی افواج کے سپاہیوں نے فتح کے بعد ان کتابوں کو پھاڑ ڈالا تھا۔ ان پاروں میں سے ایک پر یسعیاہ نبی کے صحیفہ کی 1:4 تا 14 لکھی تھیں۔ ایک پر عبرانی بائبل کے چار مقامات (خروج  13: 1تا 10 ۔ 13: 11 تا 16۔ اور استثنا 6: 4 تا 9 ۔ 11: 13 تا 21) کی آیات کے متن متوازی قطاروں میں لکھے ہیں۔ اس کو چمڑے کی ایک تعویذ میں ڈال کر بحکم استثنا 6: 6 تا  8، ماتھے پر اور بائیں بازو پر باندھا جاتا تھا۔ قمران کے غاروں سے بھی اسی قسم کے تعویذ پائے گئے ہیں جن پر مذکورہ بالا آیات کے علاوہ دس احکامِ تورات بھی لکھے تھے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Jordan asks Canada to seize Dead Sea scrollsگلوب اور میل، 31 دسمبر 2009ء، http://www.theglobeandmail.com/news/world/jordan-asks-canada-to-seize-dead-sea-scrolls/article1416369/۔ 
  2. کتاب: صحتِ کتب مُقدسہ، مصنف: قسیس معظم آرچڈیکن علامہ برکت اللہ صاحب