اردن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈومین .jo

اردن جسے سرکاری طور پر (عربی: المملکۃ الأردنیۃ الہاشمیۃ) بھی کہا جاتا ہے، دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر واقع مغربی ایشیا کا ملک ہے۔ اس کے مشرق میں سعودی عرب اور مغرب میں اسرائیل واقع ہے۔ اردن اور اسرائیل بحیرہ مردار کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اردن کی واحد بندرگاہ اس کے جنوبی سرے پر خلیج عقبہ پر واقع ہے۔ اس بندرگاہ کو اسرائیل، مصر اور سعودی عرب بھی مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اردن کا زیادہ تر حصہ صحرائے عرب پر مشتمل ہے۔ تاہم شمال مغربی سرے پر ہلال نما زرخیز علاقہ موجود ہے۔ اس کا دارلحکومت عمان ہے۔

تاریخی اعتبار سے یہاں بہت ساری تہذیبیں آباد ہوتی رہی ہیں۔ کچھ عرصے کے لئے اردن پر مصری فرعونوں کا بھی قبضہ رہا ہے جو عظیم تر اسرائیلی مملکت کے حصے پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ یہاں مقدونیائی، یونانی، رومن، بازنطینی اور عثمانی ثقافتوں کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ ساتویں صدی عیسوی سے یہاں مسلمانوں اور عربوں کی ثقافت کے اثرات گہرے ہونے لگے ہیں۔  

ہاشمی بادشاہت یہاں کی آئینی بادشاہت ہے اور یہاں عوام کی نمائندہ حکومت بھی کام کرتی ہے۔ حکمرانِ وقت ملک کا بادشاہ ہوتا ہے جو ملکی افواج کے سپہ سالار کا کام بھی کرتا ہے۔ بادشاہ اپنے اختیارات کو وزیرِ اعظموں اور وزراء کی کونسل یا کابینہ کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔ کابینہ جمہوری طور پر منتخب ہاؤس آف ڈپٹیز اور ہاؤس آف نوٹیبلز یعنی سینٹ کو جواب دہ ہوتی ہے۔ ہاؤس آف ڈپٹیز اور سینٹ مل کر قانون سازی کا کام کرتے ہیں۔ عدلیہ حکومت سے آزاد رہ کر کام کرتی ہے۔

جدید اردن کی زیادہ تر آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ سی آئی اے کی ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق اردن کو فری مارکیٹ اکانومی کے حوالے سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے۔ علاقے کے دیگر ممالک کی نسبت اردن نے سب سے زیادہ آزاد تجارت کے معاہدے کئے ہوئے ہیں۔ یہاں کی حکومت مغرب نواز ہے اور امریکہ اور برطانیہ سے ان کے گہرے تعلقات ہیں۔ 1996 میں اردن امریکہ کا اہم غیر ناٹو اتحادی بن گیا۔ خطے میں مصر کے علاوہ اردن واحد ملک جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ عرب لیگ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، عرب پارلیمنٹ، عالمی بینک، عالمی عدالتِ انصاف اور اقوامِ متحدہ وغیرہ کا یہ بانی رکن بھی ہے۔ مزید برآں اردن یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ساتھ بھی تعلقات گہرے کر رہا ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

اردن کا نام دریائے اردن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مختلف زبانوں میں اردن کے مختلف مطالب ہیں۔ قدیم عربی زبان میں اردن کا مطلب ڈھلوان ہے جبکہ ارامیک زبان میں اردن کے معنی "وہ جو اُترتا ہے"۔

تاریخ[ترمیم]

اپنے وقت کی نمایاں ترین تہذیب جسے عربی میں الأنباط کہا جاتا ہے، یہاں قائم تھی۔ اس کا دارلحکومت پیٹرا نامی شہر تھا۔  انہی لوگوں نے جدید عربی رسم الخط ایجاد کیا تھا۔ ایرانی سلطنت میں جذب ہونے سے قبل صدیوں تک پیٹرا نے آزادی اور خوشحالی کے مزے لوٹے۔ بعد ازاں اس علاقے پر رومن سلطنت چھا گئی۔

بعد ازاں یہاں اسلام کی آمد ہوئی جو مختلف خلفاء کے دور پر مشتمل تھی۔ ان خلفاء میں خلفائے راشدین ، بنو امیہ اور عباسی خلفاء شامل تھے۔ عباسیوں کے زوال کے بعد اس علاقے پر منگول، عیسائی صلیبی جنگجو، ایوبی اور مملوک قابض رہے۔ 1516 میں یہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا۔

جدید اردن[ترمیم]

پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر سلطنتِ عثمانی کے زوال کے بعد لیگ آف نیشنز اور اتحادی افواج نے بحیرہ روم کے شمالی ساحل کا نقشہ از سرِ نو بنانے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً فرانسیسی شام اور برطانوی فلسطین کا قیام عمل میں آیا۔

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام تک یہ علاقہ برطانیہ کے زیر انتظام تھا۔ 1946 میں برطانویوں نے اقوامِ متحدہ سے درخواست کی کہ وہ اردن کو آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ برطانوی درخواست کے بعد یہاں کی پارلیمان نے شاہ عبدللہ کو ہاشمی بادشاہت کے سلسلے کا پہلا حکمران منتخب کر لیا۔ شاہ عبدللہ اوّل 1995 تک حکمران رہے اور اسی سال جب وہ مسجدِ اقصٰی سے نکل رہے تھے تو ایک فلسطینی عرب نے قتل کر دیا۔

1958 میں عرب سرد جنگ کے دوران عراق اور اردن نے مل کر عراق اور اردن کی عرب فیڈریشن بنائی جس کے حکمران ہاشمی بادشاہ تھے۔ بعد ازاں اسی سال ہاشمی بادشاہ کو بغداد میں قتل کر دیا گیا اور روس کی مدد سے دیگر ممالک جیسا کہ مصر، شام اور یمن نے اردن کے لئے مشکلات پیدا کرنی شروع کر دیں۔ تاہم شاہ حسین نے امریکہ اور برطانیہ سے مدد مانگی۔ امریکی اور برطانوی ہوائی جہازوں نے اردن کی سرحدوں کی فضائی گشت شروع کر دی جبکہ برطانوی فوجی عمان پہنچ گئے۔

1965 میں سعودی عرب اور اردن نے زمین کا تبادلہ کیا۔ اردن نے مختصر ساحلی پٹی کے بدلے کافی بڑا صحرائی رقبہ سعودی عرب کو دے دیا۔

1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ویسٹ بینک اور کچھ دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ تاہم بعد کے معاہدے کے تحت مقدس مقامات کے حوالے سے اردن کا عمل دخل بڑھا دیا گیا۔

1967 کی جنگ کے بعد اردن میں فلسطینی فدائین کی تعداد بڑھنے لگی اور جلد ہی انہوں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کر لی۔ شاہ حسین نے فوج کو ان فدائین کے خاتمے کا حکم دیا اور جون 1970 میں عام لڑائی شروع ہو گئی۔ نتیجتاً مختلف فلسطینی گروہوں کے فدائین کو اردن سے نکال دیا گیا۔

1973 میں عرب لیگ کی متحدہ افواج نے اسرائیل کے خلاف یوم کپور کی جنگ شروع کی اور دریائے اردن کے کنارے کی جنگ بندی کی لکیر پر لڑائی شروع ہو گئی۔ اردن نے شام میں موجود اسرائیلی افواج پر حملے کے لئے بریگیڈ بھی بھیجا۔

اگرچہ 1990 کی خلیج جنگ کے دوران اردن نے حصہ نہیں لیا تاہم شاہ حسین پر یہ الزام لگا کہ انہوں نے ڈھکے چھپے صدام حسین کی مدد جاری رکھی جس کی وجہ سے کویت سے عراق کے انخلاء میں مشکلات پیش آئیں۔ اس وجہ سے اقوامِ متحدہ اور عرب ممالک نے اردن کی مالی امداد بند کر دی اور 7 لاکھ سے زیادہ اردنی باشندے جو عرب ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے، کو اردن واپس لوٹنا پڑا۔ مزید برآں لاکھوں عراقی جان بچا کر اردن پہنچے جس سے اردن کی معیشت پر دباؤ پڑا۔

1991 میں اردن نے شام، لبنان اور عرب فلسیطنی فدائین کے ہمراہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ لیا۔ ان مذاکرات میں روس اور امریکہ ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان مذاکرات میں کامیابی کے بعد اسرائیل نے اظہارِ تشکر کے لئے شاہ حسین کی تصویر والی ڈاک کی ٹکٹ جاری کی۔ امریکہ نے نہ صرف سالانہ اردن کو لاکھوں ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا بلکہ یہ بھی کہ اگر ایک خاص مقدار میں اسرائیل سے خریدے گئے خام مال سے تیار شدہ مصنوعات امریکہ برآمد کرنے پر اردن پر برآمدی ٹیکس بھی نہیں لگایا جائے گا۔

شاہ حسین کے سرطان کا علاج امریکہ میں لمبے عرصے تک جاری رہا۔ اردن واپسی پر انہوں نے اپنے بھائی شاہ حسن کی جگہ اپنے بڑے بیٹے عبدللہ کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کچھ سیاسی قیدی بھی آزاد کئے۔ کچھ عرصہ بعد 1999 میں شاہ حسین انتقال کر گئے اور شاہ عبدللہ دوم ان کی جگہ بادشاہ بنے۔ستمبر 2000 میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ اور دوسری انتفادہ تحریک کے دوران اردن کی حکومت نے دونوں پارٹیوں کو مدد کی پیش کش کی۔ اس کے بعد سے اردن نے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ امن سے رہنے کا عہد کیا ہے۔ اردن کے شاہی خاندان میں اسرائیل کے لئے خاصہ نرم گوشہ ہے اور حکومت اسرائیل مخالف مظاہروں کو روکتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ اردنی اخبارات وغیرہ سے بھی اسرائیل مخالف مواد حذف کر دیا جاتا ہے۔

1997 میں آخری بار اردن اور اسرائیل کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب دو اسرائیلی ایجنٹ کینیڈا کے پاسپورٹوں کی مدد سے اردن میں داخل ہوئے اور حماس کے اہم رہنما خالد مشعل کو زہر دیا۔ شاہ حسین نے اسرائیل کو نہ صرف اس زہر کا تریاق دینے بلکہ بہت سارے اردنی اور فلسطینی قیدی بھی آزاد کرنے پر مجبور کیا۔ ان قیدیوں میں شیخ یٰسین بھی تھے جو بعد ازاں 2004 میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں شهيد ہوئے۔

9 ستمبر 2005 کو عمان کے کئی ہوٹلوں میں بیک وقت دہشت گردوں نے تین بم دھماکے کئے۔ ان دھماکوں میں 57 افراد ہلاک اور 115 زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی تاہم القاعدہ کی شمولیت کے ثبوت نہیں ملے۔

حال ہی میں اردن نے ہزاروں فلسیطنیوں کی اردنی شہریت بھی ختم کر دی ہے تاکہ اسرائیل کسی بھی طرح سے ان افراد کو اردن میں ہی مستقل بسنے پر مجبور نہ کرے۔

جغرافیہ[ترمیم]

اردن کا مشرقی حصہ بنجر ہے اور نخلستانوں اور موسمی ندیوں سے سیراب ہوتا ہے۔ مغرب کے بلند علاقے نہری ہیں اور سدا بہار جنگلات بھی موجود ہیں۔ دریائے اردن کی عظیم وادئ شق اردن کو مغربی کنارے اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ اردن کا بلند ترین مقام جبل ام الدانی ہے جو 1٫854 میٹر بلند ہے۔ اس کی چوٹی برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ نشیبی ترین مقام بحیرہ مردار کے کنارے سطح سمندر سے 420 میٹر نیچے ہے۔ اردن جس علاقے میں واقع ہے، اس علاقے کو تہذیب کو گہوارا کہتے ہیں۔

اہم شہر دارلحکومت عمان، اربد، جرش، زرقا، مادبا، کرک اور عقبہ ہیں۔

موسم[ترمیم]

اردن کا موسم گرمیوں میں نیم خشک رہتا ہے اور اوسط درجہ حرارت 30 سے 35 ڈگری رہتا ہے۔ سردیاں نسبتاً سرد تر ہوتی ہیں اور اوسط درجہ حرارت 13 ڈگری کے آس پاس رہتا ہے۔ مغربی حصے میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے اور عمان میں نومبر سے مارچ تک برفباری بھی ہوتی ہے۔ عمان کی اوسط بلندی سطح سمندر سے 1٫280 میٹر ہے۔ عظیم وادئ شق کے علاوہ سارا ملک ہی سطح سمندر سے 300 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔

نومبر سے مارچ تک موسم نم رہتا ہے اور باقی پورا سال موسم نیم خشک رہتا ہے۔ گرم ، خشک گرمیاں اور ٹھنڈی سردیاں جن میں کبھی کبھار برفباری یا بارش بھی ہو سکتی ہے، ہوتی ہیں۔ عموماً سمندر سے جتنا دور ہوتے جائیں، موسمی درجہ حرارت میں اتنی ہی تبدیلی زیادہ اور بارش کم ہوتی جاتی ہے۔ گرمیوں میں ہوا کا دباؤ نسبتاً یکساں ہی رہتا ہے جبکہ سردیوں میں یہ دباؤ زیادہ تر کم ہی رہتا ہے۔

زیادہ تر رقبے پر 24 انچ سے کم کی اوسط بارش ہوتی ہے۔ جوں جوں زمین بلند ہوتی جاتی ہے، بارش بڑھتی جاتی ہے۔ وادئ اردن میں سالانہ بارش کی اوسط 35 انچ سے زیادہ رہتی ہے۔ بحیرہ مردار کے قریب کے علاقے میں بارش کی مقدار سالانہ 5 انچ سے کم رہتی ہے۔

اگست کے موسم میں گرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ جنوری عموماً سرد ترین مہینہ ہوتا ہے۔ گرمیوں میں رات اور دن کے درجہ حرارت میں کافی فرق ہو سکتا ہے۔ گرمیوں میں دن کا اوسط درجہ حرارت 32 ڈگری رہتا ہے۔ جبکہ ستمبر سے مارچ تک یعنی سردیوں میں درجہ ھرارت کی اوسط 3.2 ڈگری رہتی ہے۔ شمال مغربی بلند علاقوں پر برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ عموماً سردیوں میں دو بار برفباری ہوتی ہے۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

وزارتِ داخلہ نے ملک میں داخلی طور پر 12 صوبے بنائے ہوئے ہیں۔ ہر صوبے کے حکمران یعنی گورنر کا تقرر صدر کرتا ہے۔ اپنے صوبوں کی حد تک گورنر خود مختار ہوتے ہیں۔

شمار محافظہ دارالحکومت
Administrative divisions of Jordan.png
1 محافظہ اربد اربد
2 محافظہ عجلون عجلون
3 محافظہ جرش جرش
4 محافظہ مفرق مفرق
5 محافظہ بلقاء سلط
6 محافظہ عمان عمان (شہر)
7 محافظہ زرقاء زرقاء
8 محافظہ مادبا مادبا
9 محافظہ کرک الکرک
10 محافظہ طفیلہ طفیلہ
11 محافظہ معان معان
12 محافظہ عقبہ عقبہ

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

2004 کی مردم شماری کے مطابق اردن کی کل آبادی 51٫00٫981 ہے۔ تاہم اس میں کم از کم 1٫90٫000 افراد ایسے ہیں جنہیں شمار نہیں کیا گیا۔

مذہب[ترمیم]

اردن میں اکثریتی مذہب اسلام ہے جو عرب اور غیر عرب، دونوں ہی گروہوں کی اکثریت کا مذہب ہے۔ سرکاری مذہب بھی اسلام ہی ہے اور 92 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ آبادی کی اکثریت سنی فقہہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اسلامیات کا مضمون سکولوں میں مسلمان طلباء و طالبات کو پڑھایا جاتا ہے جبکہ غیر مسلموں کے لئے لازمی نہیں۔ علاقے اور دنیا بھر میں، اردن آزادئ مذہب کا علم بردار ہے۔ تاہم مذہبی علماء کا حکومت پر کوئی عمل دخل نہیں اور انہیں حکومتی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں۔

اردن میں مقامی عیسائی افراد بھی موجود ہیں۔ عرب اور غیر عرب، دونوں ہی گروہوں میں عیسائی مذہب کے پیروکار پائے جاتے ہیں۔ عیسائی مذہب کے پیروکاروں کی تعداد کل آبادی کا 6 فیصد ہے۔ 1950 میں عیسائی افراد ملکی آبادی کا 30 فیصد تھے لیکن پھر یورپ، کینیڈا اور امریکہ کو منتقلی اور مسلمانوں کی نسبت کم شرحِ پیدائش کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہو گئی ہے۔

دیگر مذاہب میں دروز اور بہائی اہم ہیں۔

زبانیں[ترمیم]

سرکاری زبان کا درجہ عربی کو حاصل ہے۔ انگریزی کو اگرچہ سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا گیا تاہم ملک میں عام طور پر بولی جاتی ہے۔ کاروباری اور بینکاری کے علاوہ تعلیم میں بھی اس کا استعمال وسیع پیمانے پر ہوتا ہے۔

کسی حد تک ہسپانوی، فرانسیسی، آرمینین، کرکاشیئن، چیچن کے علاوہ ترکی، سربو کروشیئن، یونانی اور بوسنین بھی بولی جاتی ہیں۔

سیاست[ترمیم]

ملک کا اصل حکمران بادشاہ ہے اور ملک میں آئینی طور پر بادشاہت قائم ہے۔ بادشاہ کے پاس زیادہ تر طاقت ہوتی ہے تاہم جمہوری طور پر منتخب پارلیمان کے اختیارات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

آئین[ترمیم]

اردن میں آئینی طور پر بادشاہت قائم ہے اور یہ آئین 8 جنوری 1952 میں منظور ہوا۔ حکومتی اختیارات بادشاہ اور وزراء کی کونسل کے پاس ہوتے ہیں۔ بادشاہ تمام قوانین کی منظوری اور عمل درآمد کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ تاہم بادشاہ کے فیصلے کو قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے اسے رد کیا جا سکتا ہے۔ بادشاہ حکم کے ذریعے عدالتوں کے ججوں کا تقرر کرنے کے علاوہ انہیں عہدے سے ہٹا بھی سکتا ہے۔ آئین میں ترامیم کی منظوری، اعلانِ جنگ اور مسلح افواج کی کمان بھی بادشاہ کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ کابینہ کے فیصلے، عدالتی فیصلے اور ملکی کرنسی بھی بادشاہ کے نام سے جاری ہوتے ہیں۔ کونسل آف منسٹرز کی صدارت وزیرِ اعظم کرتا ہے جس کا تقرر بادشاہ کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم کی درخواست پر بادشاہ وزیروں کو ان کے عہدوں سے برخاست بھی کر سکتا ہے۔  عام پالیسی کے حوالے سے کابینہ چیمبر آف ڈپٹیز کو جواب دہ ہوتی ہے اور پچاس فیصد ووٹ سے اسے برخاست بھی کیا جا سکتا ہے یا پچاس فیصد ووٹوں سے اس کی توثیق کی جاتی ہے۔

آئین میں تین قسم کی عدالتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں شہری، مذہبی اور خصوصی عدالتیں شامل ہیں۔ انتظامی اعتبار سے ملک کو 12 صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر صوبے کے گورنر کو بادشاہ مقرر کرتا ہے۔ اپنے صوبوں میں ہر گورنر کے پاس حکومتی اور ترقیاتی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

قانونی نظام اور قوانین[ترمیم]

اردن کا قانونی نظام فرانسیسی نظامِ عدل پر مبنی ہے اور اس میں مصری شہری قوانین کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لئے اسلامی قوانین بھی موجود ہیں۔ دیگر اقلیتی مذاہب کے لئے ان کے مذہب کے مطابق عدالتیں موجود ہیں۔ اردن نے عالمی عدالتِ انصاف کو تسلیم نہیں کیا۔

اردن میں سیاسی جماعتوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ ان میں انتہائی دائیں اور انتہائی بائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 97 کے تحت عدلیہ کو آزاد بنایا گیا ہے۔ اس کے مطابق ججوں کو صرف اور صرف قانون کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ ججوں کی تقرری اور تنزلی کا حق بادشاہ کے پاس ہے۔

اردن کے قوانین میں مقامی روایات اور اسلام قوانین اور رسوم کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 99 کے تحت عدالتوں کو شہری، مذہبی اور خصوصی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شہری یعنی سول عدالتوں کے اختیار میں تمام شہری اور تمام امور آتے ہیں۔ یہ عدالتیں ملکی قوانین کے مطابق سول اور کرمنل مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔

مذہبی عدالتوں میں شرعی عدالتیں اور دیگر مذاہب کے مذہبی ٹربیونل آتے ہیں۔ یہ عدالتیں خانگی معاملات جیسا کہ شادی، طلاق، وراثت اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے معاملات کو دیکھتی ہیں۔ اسلامی طور پر وقف کے معاملات بھی ان عدالتوں کے ذمے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی معاملہ ایک سے زیادہ مذہب کے درمیان باعثِ تنازعہ ہو تو عام عدالتیں اس کا فیصلہ کرتی ہیں۔

روایتی طور پر مردوں کی اکثریت قانونی نظام سے وابستہ ہوتی تھی لیکن اب خواتین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔غیرت کے نام پر ہر سال 15 سے 20 عورتیں قتل کر دی جاتی ہیں۔ عام خیال کے برعکس غیرت کے نام پر قتل جرم ہے اورکسی ایک مذہب کے پیروکاروں تک محدود نہیں۔ تاہم انصاف کا حصول بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

بادشاہ[ترمیم]

برطانیہ سے آزادی کے بعد شاہ عبدللہ اول اردن کے بادشاہ بنے۔ 1951ء میں ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے شاہ طلال کچھ عرصے کے لئے بادشاہ بنے۔ شاہ طلال کی اہم ترین کامیابی اردن کے دستور کی تیاری تھی۔ شاہ طلال کو دماغی بیماری کے باعث 1952ء میں ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ ان کے بیٹے شاہ حسین کم عمر تھے، کی بجائے ایک کمیٹی نے ملکی امور کی دیکھ بھال کی۔

1953 میں جب شاہ حسین 18 سال کے ہوئے تووہ 1999 تک ملک کے بادشاہ رہے۔ ان کے دورِ اقتدار میں کئی مسائل پیش آئے لیکن انہیں کوئی ہٹا نہ سکا۔ اردن میں انہیں یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ شاہ حسین نے 1991 میں مارشل لا ختم کیا اور 1992 میں سیاسی جماعتوں پر عائد پابندی ہٹا لی۔ 1989 اور 1993 میں اردن میں صاف اور شفاف انتخابات ہوئے۔تاہم انتخابی قوانین میں ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں بنیاد پرست اسلامی جماعتوں نے 1997 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

فروری 1999 میں شاہ حسین کے انتقال پر ان کے بیٹے شاہ حسین دوم بادشاہ بنے۔ انہوں نے فوراً ہی اسرائیل کے ساتھ ہوئے امن معاہدے اور اقوام متحدہ کے ساتھ معاہدوں کی توثیق کی۔ اپنے اقتدار کے پہلے سال انہوں نے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل جاری رکھا۔

پارلیمان[ترمیم]

1952 کے آئین میں قومی اسمبلی کے دو ایوان بنائے گئے ہیں جو چیمبر آف ڈپٹیز اور سینیٹ ہیں۔سینٹ میں 60 سینیٹر ہوتے ہیں جو بادشاہ براہ راست مقرر کرتا ہے۔ ۔ چیمبر آف ڈپٹیز میں 120 جمہوری طو رپر منتخب اراکین ہوتے ہیں۔ ان 120 نشستوں میں سے12 خواتین کے لئے، 9 عیسائیوں کے لئے، 9 بدوؤں کے لئے جبکہ 3 چیچن باشندوں کے لئے مختص ہوتی ہیں۔ آئین کے مطابق سینٹ کے اراکین ہاؤس آف ڈپٹیز کی نصف سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔

سینیٹرکو چار سال کے لئے بادشاہ مقرر کرتا ہے اور ان کی تقرری دوبارہ بھی ہو سکتی ہے۔ ہر سینیٹر کی عمر کم از کم 40 سال ہونی چاہیے اور فوج یاحکومت میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکا ہو۔ ڈپٹیوں کو بھی چار سال کے لئے چنا جاتا ہے اور ان کی عمر 35 سال سے زیادہ ہونی چاہیے اور بادشاہ کے خونی رشتہ دار نہ ہوں اور نہ ہی کسی حکومتی ٹھیکے سے معاشی فائدے اٹھا سکتے ہیں۔

انسانی حقوق[ترمیم]

2010 میں عرب دنیا میں ڈیموکریسی انڈیکس کے مطابق 15 عرب ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر تھا۔ 2009 میں فریڈم ہاؤس نے اردن کو “غیر آزاد” قرارد یا۔ 21 ممالک کی عرب دنیا میں اردن کو آزاد پریس کے حوالے سے 5واں نمبر دیا گیا ہے۔

2007 میں عرب دنیا میں اردن کو حکومتی شفاف کارکردگی کے حوالے سے چوتھا نمبر ملا ہوا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اردن کی جیلوں میں تشدد اور برا سلوک عام بات ہے۔ اس کے علاوہ مقدمے کی کارروائی کا شفاف نہ ہونا اور سزائے موت بھی اہم مسائل ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق تشدد سے لئے گئے اعترافی بیان کو بنیاد بنا کر سزائے موت دے دی جاتی ہے اور اس پر عمل بھی کر دیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق غیرت کے نام پر لڑکیوں اور عورتوں کا قتل عام بات ہے۔ ہر سال اوسطاً 20 عورتیں غیرت کے نام پرقتل کر دی جاتی ہیں۔ تاہم اب اس صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کے مقدمے کی سماعت ڈیڑھ سال کے اندر اندر مکمل کر دی جاتی ہے۔ گذشتہ سال سے غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم پر عدالتیں نسبتاً سخت سزائیں دے رہی ہیں۔ ماضی میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے جرم میں مردوں کو عموماً ایک سال سےکم مدت کی سزا دی جاتی تھی لیکن اب کم از کم سزا 7 سے 15 سال تک مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کے سلسلے میں عوام کی ذہنیت بدل رہی ہے۔مزید برآں خواتین کے حقوق کے لئےنئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق اردن میں غیر ملکی گھریلو ملازماؤں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہزاروں فلپائنی خواتین اپنے سفارت خانے پناہ لینے پہنچ جاتی ہیں۔تاہم نئے قوانین کے مطابق مذہبی آزادی، صحت کی سہولیات، 10 گھنٹےکام کا دورانیہ، آجر کے خرچے پر ملازمہ کاہر ماہ ایک بار اپنےملک جانا، سالانہ 14 دن کی چھٹی بمع تنخواہ اور 14 دن جتنی بیماری سے ہونےو الی تعطیلات بمع تنخواہ شامل ہیں۔

اردن کے آئین کے مطابق ہر فرد کو مذہب کی آزادی ہے اور ریاست کے رواج کے مطابق ان پر عمل کیا جا سکتا ہے تاہم اس سے عوام کے اخلاق پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ ریاستی مذہب اسلام ہے۔ ریاستی سطح پر غیر مسلوں کو مسلمان بنانے کی حمایت کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کو تبدیلی مذہب کی اجازت تو ہے لیکن اسے سرکاری حمایت حاصل نہیں۔

معیشت[ترمیم]

اردن ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اس کے قدرتی ذرائع محدود ہیں۔ فی الوقت اردن میں پانی کی مقدار بہت کم ہے جسے بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ توانائی کے سلسلے میں اردن زیادہ تر بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔ 1990 کی دہائی میں خام تیل زیادہ تر عراق اور دیگر ہمسائیہ ممالک سے آتا تھا۔ 2003 کے اوائل سےخلیج تعاون کونسل اردن کو تیل مہیا کر رہی ہے۔ مزید برآں مصر سے عرب گیس پائپ لائن 2003 میں مکمل ہوئی اورعقبہ کے جنوبی ساحلی شہر تک آتی ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس پائپ لائن کو شمال میں عمان اور اس سے آگے تک تعمیر کیا جائے گا۔

شاہ عبدللہ دوم نے 1999 میں اقتدار سنبھالا اور معاشی میدان میں اصلاح کی پالیسی اپنائی۔ اس سے معاشی عروج شروع ہوا جو اب تک یعنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں اردن چوتھی بڑی آزاد معیشت ہے۔ اس طرح اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور لبنان اردن سے پیچھے ہیں۔ اردن کا بینکاری کا نظام بہت جدید اور پالیسیاں بہترین ہیں جن کی وجہ سے اردن 2009 کے عالمی معاشی بحران سے آسانی سے گذرا۔

اردن اور عراق میں موجود عدم استحکام کی وجہ سے اردن کو مستقبل کا بیروت اور علاقائی معاشی مرکز کہا جا رہا ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے معاشی ترقی کی شرح 7 فیصد ہے۔اردن کی معیشت بیرونی امداد کی بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہو رہی ہے۔

کسی بھی دوسرے عرب ملک کی نسبت اردن نے سب سے زیادہ آزادانہ تجارتی معاہدے کئے ہیں۔ یہ معاہدے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپی یونین کے علاوہ بھی بہت سارے دیگر ممالک کے ساتھ ہیں۔

اردن کی معاشی ترقی میں سب سے زیادہ مشکلات پانی کی کمی، توانائی کے سلسلے میں دیگر ممالک پر انحصار اور علاقائی عدم استحکام ہیں۔

ریاستی ملکیت کی صنعتوں اور اداروں کی نجکاری سے معیشت کی ترقی زور پکڑ رہی ہے۔

امریکہ کے ساتھ ہونے والا آزادنہ تجارتی معاہدہ دسمبر 2001 سے نافذ العمل ہوا۔ 2010 تک تقریباً تمام ہی تجارتی سامان پر عائد سارے ٹیکس ختم ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ مواصلات، تعمیر، فنانس، صحت، نقل و حمل اور خدمات کے شعبے کی حالت بہتر ہوگی۔ 1996 میں اردن اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت دونوں ملکوں میں شہری ہوا بازی کے لئے راستے کھول دیے ہیں۔ 2000 سے اردن عالمی تجارتی ادارے کا رکن بھی ہے۔

بہت سارے عراقی اور فلسطینی تاجروں نے اپنے اہم دفاتر اردن میں بنائے ہوئے ہیں ۔ ان دونوں ملکوں میں عدم استحکام کی وجہ سے بہت سارے عراقی اور فلسطینی یہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔

خطے میں ہنر یافتہ افراد کا تناسب ارد میں سب سے زیادہ ہے۔ سیاحت کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس وقت ایک ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ آمدنی کا ذریعہ ہے۔ ادویہ سازی بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ جائداد کی خرید و فروخت اور تعمیر کی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بھی اربوں ڈالر میں ہے۔ سٹاک مارکیٹ کا حجم تقریباً 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

فی کس آمدنی 2007 میں 5,100 ڈالر ہے۔ تعلیم اور خواندگی کی شرح اور سماجی بہبود خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح 2.8 فیصد سالانہ ہے۔ بے روزگاری کی شرح کافی زیادہ ہے اور سرکاری اعداد و شمار میں ساڑھے بارہ فیصد ہے۔ تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار بے روزگاری کی شرح کو 30 فیصد ظاہر کرتے ہیں۔ افراطِ زر کی شرح 2.3 فیصد ہے۔

مستقبل میں معاشی ترقی کے حوالے سے اردن کی توقعات سیاحت، یورینئم اور تیل کی برآمدات اور تجارت وغیرہ پر ہے۔

2006 میں عمان کو عرب ممالک میں سب سے مہنگا شہر قرار دیا گیا تھا۔ دبئی دوسرے نمبر پر آیا تھا۔ تاہم 2009 میں دبئی، ابو ظہبی اور بیروت کے بعد عمان چوتھے نمبر پر مہنگا ترین شہر بن گیا ہے۔

اردن میں مصر، جنوبی ایشیا، انڈونیشیا، شام اور فلپائن سے کم ہنر یافتہ اور نیم ہنر یافتہ افرادی قوت آتی ہے۔ اردن میں غیر ملکی ورک فورس کا تخمینہ 3,00,000 سے 7,00,000 کے درمیان ہے جو کل ملکی ورک فورس کے 20 سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ یہ غیر ملکی افراد زیادہ تر تعمیرات ٹیکسٹائل، بلدیاتی شعبے اور گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں کی گئی قانونی ترمیم کے بعد ان افراد کو بہت سارے فائدے مل گئے ہیں اور ان کو قانونی تحفظ بھی دیا گیا ہے جو عرب دنیا میں پہلی بار ہوا ہے۔

کل آبادی کے اعتبار سے اردن دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہنر یافتہ کارکنان کا برآمد کنندہ ہے۔ کل ابادی کا چوتھائی یعنی 6,00,000 افراد دیگر ممالک میں زیادہ تر اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

چھوٹے حجم کے باوجود اردن میں بہت سارے عالمی اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔ ان میں عرب بینک، ارامیکس، مکتوب اور کردی گروپ شامل ہیں۔ 2009 سے اردن کی دو کمپنیاں عرب بینک اور عرب پوٹاش فوربزگلوبل 2,000 میں شامل ہیں۔ مزید برآں اردن میں کئی ارب پتی افراد بھی موجود ہیں۔

قدرتی ذرائع[ترمیم]

اگرچہ قدرتی ذرائع کے اعتبار سے اردن اتنا خوش قسمت نہیں لیکن پھر بھی یہاں تیل اور یورینئم پایا جاتا ہے۔

تاہم اردن دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی انتہائی شدید کمی ہے۔ لکڑی اور جنگلاتی پیداوار بھی انتہائی کم ہے۔

فاسفیٹ[ترمیم]

فاسفیٹ کی کانیں بھی اردن میں موجدو ہیں اور اردن دنیا مین سب سے زیادہ فاسفیٹ پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ دیگر عناصر میں پوٹاشیم، نمک، قدرتی گیس اور پتھر وغیرہ اہم ہیں جو نکالے جاتے ہیں۔

یورینئم[ترمیم]

دنیا بھر میں یورینئم کے ذخائر کے اعتبار سے اردن ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں یہ بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اردن کے ذخائر دنیا کے کل 2 فیصد کے برابر ہیں۔ اندازا ہے کہ اردن میں 80,000 ٹن یورینئم نکالی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملکی فاسفیٹ کے ذخائر میں 1,00,000 ٹن مزید یورینئم موجود ہے۔ اردن میں 2035 تک ملک کی توانائی کی ضروریات کا 70 فیصد ایٹمی توانائی سے پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ چار ایٹمی پلانٹ لگائیں جائیں گے جن میں سے پہلا پلانٹ 2017 میں کام شروع کرے گا۔

ہائیڈرو کاربن[ترمیم]

اردن میں قدرتی گیس 1987 میں دریافت ہوئی ہے اور اس کے ذخائر کا تخمینہ 230 ارب کیوبیک فٹ لگایا گیا ہے۔

خام تیل کے اعتبار سے اردن کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن تیل رکھنے والی پتھریلی چٹانوں کے ذخائر بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح کے ذخائر کے اعتبار سے کینیڈا کے بعد اردن دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

پاور پلانٹوں کو اب انہی تیل رکھنے والی پتھریلی چٹانوں پر منتقل کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تیل کا درآمدی بل تقریباً نصف رہ جائے گا۔

نقل و حمل[ترمیم]

عراق اور فلسطینی ریاست کو جانے والے سامان کی نقل و حمل کے لئے اردن بنیادی مرکز ہے۔ اردن میں نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ بہت اچھی حالت میں ہے۔

اردن میں کل تین تجارتی ہوائی اڈے ہیں جہاں بین الاقوامی پروازیں آتی جاتی ہیں۔ ان میں سے دو عمان میں ہیں اور تیسرا عقبہ کے شہر میں ہے۔ سب سے بڑا ہوائی اڈا ملکہ عالیہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ ہے جو عمان مین واقع ہے۔ یہ ہوائی اڈا رائل جارڈنین ائیرلائن کا مرکزی اڈا ہے۔ شاہ حسین ائیرپورٹ عقبہ شہر کو عمان اور دیگر جگہوں سے ملاتا ہے۔

اردن میں 7,999 کلومیٹر طویل پختہ شاہراہیں ہیں۔

اردن میں نیشنل ریل سسٹم منظور ہو چکا ہے جو تمام بڑے شہروں اور قصبوں کو مسافر بردار اور سامان بردار ٹرینوں کے ذریعے ملائے گا۔

عقبہ کی بندرگاہ اردن کی واحد بندرگاہ ہے۔ یہاں سے عراق، اردن اور بعض صورتوں میں ویسٹ بینک کے لئے ساز و سامان کی منتقلی کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اصل بندرگاہ کو جنوب میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کی توسیع پر کام جاری ہے۔ ابو ظہبی کنسورشیئم پانچ ارب ڈالر کے اس منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ 2013 تک مکمل ہوگا۔

کرنسی اور شرح تبادلہ[ترمیم]

اردن کی کرنسی اردنی دینار ہے جو مزید دس درہم یا سو قرش یا ہزار فلس پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک دینار 1.414044 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔

طبی سیاحت یعنی میڈیکل ٹورزم[ترمیم]

1970 کی دہائی سے مشرقِ وسطٰی میں اردن کو میڈیکل ٹورزم کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ 2008 میں 48 ممالک کے 2,10,100 مریض یہاں علاج کی غرض سے آئے تھے اور اس سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی کمائی ہوئی تھی۔ خطے میں پہلے جبکہ دنیا بھر میں اردن میڈیکل ٹورزم کے اعتبار سے پانچویں نمبر پر آتا ہے۔

جنوب مغربی ایشیائی تنازعے کا اثر[ترمیم]

عرب اسرائیل تنازعہ، خلیج کی جنگ اور خطے کے دیگر مسائل کی وجہ اردن کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔ دیگر ممالک سے امن معاہدوں اور اندرونی استحکام کی وجہ سے فلسطینی، لبنانی، خلیج فارس کے افراد اور پناہ گزینوں کے لئے اردن پرکشش ملک ہے۔ اسی وجہ سے ہی اردن کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اردنی قوانین کے مطابق ہر فلسطینی اردن کی شہریت لینے کا حقدار ہے لیکن وہ اپنی اصل فلسطینی شہریت نہیں چھوڑ سکتا۔ فلسطینی شہریت چھوڑے بغیر فلسطینی اردن میں جائداد نہیں خرید سکتے۔ 2005 کے نومبر میں ہونے والے تین خودکش بم دھماکوں کے بعد سے اردن کے شاہ عبدللہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

خارجہ تعلقات[ترمیم]

اردن نے مسلسل مغرب نواز پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور روایتی طور پر امریکہ اور برطانیہ سے گہرے تعلقات رکھے ہیں۔ انہی تعلقات کی وجہ سے اردن کی غیر جانبداری بھی متائثر ہوئی ہے اور عراق سے تعلقات بھی خلیج کی جنگ کی وجہ سے متائثر ہوئے ہیں۔ اردن اپنی غیر جانبدار اور امن پسند پالیسی کی وجہ سے اپنے ہمسائیوں سے بہترین تعلقات بنائے ہوئے ہیں۔

کشیدگی کے دور میں اردن کو ہمیشہ سے ثالث سمجھا جاتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں ہی شاہ حسین نے ایران سے مذاکرات کئے جس کے بعد ایران نے بحرین کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے لشکر کشی کا ارادہ ترک کر دیا۔ 1990 کی دہائی میں شاہ حسین نے امریکہ اور عراق کے درمیان مصالحت کاری کی۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے لئے ہمیشہ سب سے آگے رہتا ہے۔ شاہ عبدللہ دوم اسرائیل اور عرب لیگ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

خلیج کی جنگ کے بعد اردن نے مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات زیادہ تر بحال کر دیے۔ شاہ حسین کی وفات کے بعد اردن کے تعلقات خلیجی ممالک سے بہت بہتر ہو گئے۔ عراق میں صدام حسین کے بعد اردن نے عراق میں استحکام اور سکیورٹی کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردن نے اتحادی افواج کے ساتھ ایک یاداشتی مفاہمت پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت 30,000 عراقی پولیس اہلکاروں کی تربیت اردن میں کی جائے گی۔

اردن نے اسرائیل کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔

اردن اور اسرائیل کے تعلقات عموماً ایک دوسرے کے ساتھ 1994 کے امن معاہدے سے قبل بھی اچھے تھے۔ کئی مواقع پر اردن نے اسرائیل کو مصر اور شام کے حملوں کے بارے خبردار کیا تھا۔

روایتی اعتبار سے اردن کے تعلقات امریکہ سے قریبی رہے ہیں۔ اہم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات شاہ عبدللہ دوم کے دور میں اپنے عروج کو پہنچ گئے تھے۔ برطانیہ کے ایم آئی 6 کے بعد اردن کی سرکاری خفیہ ایجنسی کو امریکی سی آئی اے کی دوسری بہترین ساتھی کہا جاتا ہے۔ اردن امریکہ کے لئے عراق اور افغانستان میں فوجی اڈوں کے لئے ہر طرح کی مدد فراہم پہنچاتا ہے۔

فوج[ترمیم]

امریکی، برطانوی اور فرانس کی مدد اور حمایت کے ساتھ اردن کی افواج بہت طاقتور ہو چکی ہیں۔ اردن کی پولیس بھی انتہائی جدید اور ترقی یافتہ ہے اور فوج کے ساتھ ساتھ پولیس بھی ہر طرح کی ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خصوصی مسلح دستوں کی مدد سے اردن کسی بھی ہنگامی صورتحال سے انتہائی تیزی سے نپٹ سکتا ہے۔

بیرون ملک امن کی بحالی[ترمیم]

50,000 کے لگ بھگ اردنی فوجی اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں امن کی بحالی کے لئے جد و جہد کر رہے ہیں۔ یہ فوجی دفاع، مقامی پولیس کی تربیت، طبی امداد اور فلاحی کاموں میں شریک ہوتے ہیں۔ اردن نے بہت سارے ممالک بشمول عراق، مغربی کنارے، لبنان، افغانستان، ہیٹی، انڈونیشیا، کانگو، لائبیریا، ایتھوپیا، اریٹیریا، سیرا لیون اور پاکستان وغیرہ میں دہشت گردی اور قدرتی آفات سے متائثر علاقوں میں اپنے فیلڈ ہسپتال بھیجے ہیں۔

دفاعی صنعت[ترمیم]

اردن میں ملکی سطح پر دفاعی صنعت کو ترقی دینے کے لئے کنگ عبدللہ ڈیزائن اینڈ ڈیویلپمنٹ بیورو 1999 میں بنایا گیا ہے جو مختلف شعبوں پر مشتمل ہے۔

پولیس[ترمیم]

اردن کی پولیس انتہائی جدید اور بہترین تربیت یافتہ ہے۔ اردن کو پولیس کی خدمات کے حوالے سے دنیا بھر میں 14ویں جبکہ علاقے میں پہلے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔ منظم جرائم کی روک تھام کے لئے اردن کو دنیا میں 9ویں اور علاقے میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اس طرح اردن دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

صحتِ عامہ[ترمیم]

اردن میں صحتِ عامہ کا نظام کافی جدید ہے۔ اردن کی حکومت کے مطابق کل ملکی آمدنی کا 7.5 فیصد جبکہ انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق9.3 فیصد صحت کے شعبے پر خرچ ہوتا ہے۔ اردن میں صحتِ عامہ کو سرکاری اور پرائیوٹ شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اردن میں 86 فیصد افراد کے پاس ہیلتھ انشورنس ہے جو حکومت اس سال کے آخر تک 100 فیصد تک پہنچانے والی ہے۔ سالانہ اردن میں میڈیکل ٹورزم کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی ہوتی ہے۔

سی آئی اے کی فیکٹ بک کے مطابق اردن میں اوسط زندگی کا اندازا 78.55 سال ہے جو علاقے میں اسرائیل کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

پانی اور گندے پانی کی نکاسی کا نظام جو 1950 میں محض دس فیصد لوگوں کی پہنچ میں تھا، اب 99 فیصد افراد اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

اردن نے تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اسی شعبے کی وجہ سے اردن آج زراعت کی بجائے صنعت کے حوالے سے اہم ہو چکا ہے۔ عرب دنیا میں اردن کے نظامِ تعلیم کو پہلے جبکہ ترقی پزیر ممالک میں بہترین ممالک میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یونیسکو نے اردن کے نظامِ تعلیم کو صنفی امتیاز سے بالاتر اور تعلیم کے معیار کے حوالے سے 18ویں نمبر پر رکھا ہے۔ اردن میں کل حکومتی اخراجات کا 20 فیصد سے زیادہ تعلیم کے شعبے پر خرچ ہوتا ہے۔

اسلامی دنیا میں سائنسی محققین کی تعداد کے لحاظ سے اردن سب سے آگے ہے جہاں ہر دس لاکھ افراد میں 2,000 محقق موجود ہیں۔ یہ شرح برطانیہ اور اسرائیل سے بھی زیادہ ہے۔

اردن میں ناخواندگی کی شرح تقریباً 7 فیصد ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین اردن[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]