مسلمانان اندلس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مسلمانان اندلس یا مور (انگریزی زبان میں: Moors) ان مسلمانوں کو کہتے ہیں جو مغربی افریقا اور مراکش سے آئبیریا (موجودہ ہسپانیہ اور پرتگال) میں آ کر آباد ہو گئے۔ ان مسلمانوں کے رسم و رواج اور طرز رہن سہن کو مورش یا اصطباغی کہتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

ملکہ برطانیہ کی طرف مورش سفیر

مسیحی ہسپانیہ میں مسلمانوں کا داخلہ 711ء میں بربر سپہ سالار طارق بن زیاد کی قیادت میں ہوا جس نے آٹھ سال کے عرصہ میں آئبیریا ( ہسپانیہ اور پرتگال کے جزیرہ نما کا قدیم نام) کے زیادہ تر حصہ پر اسلامی حکومت قائم کر دی۔ انھوں نے شمال میں پائرین کی پہاڑیاں میں آگے بڑھنے کی کوشش کی جس میں انہیں 732ء میں ٹورز کی لڑائی میں فرانک، چارلس مارٹل کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں نے ماسوائے شمال مغربی پائرین کی پہاڑیوں میں باسکو کے علاقہ کے باقی تمام آئبیریا اور شمالی افریقا پر کئی دہائیوں تک حکومت کی۔ اگرچہ مسلمان تعداد میں کم تھے، لیکن وہ کافی زیادہ تعداد میں مقامی لوگوں کو تبدیل کرنے میں کامیاب رہے۔ "اسلامز بلیک سلیو" (اسلام کے سیاہ غلام) کے مصنف رونالڈ سہگل کے مطابق ستر لاکھ آئبیریائی باشندوں میں سے 1200ء تک چھپن لاکھ مسلمان تھے جو اصل میں مقامی ہی تھے۔ اندلسی حکومت کو 750ء کی دہائی میں اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑا۔

ملک جاگیروں میں بٹ چکا تھا جو زیادہ تر مسلمان تھیں اور پھر قرطبہ کے خلیفہ کے زیر اثر متحد ہوئیں۔ لیکن شمال اور مغرب میں موجود مسیحی ریاستیں آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی گئیں اور مسیحی فتح نو (فوجی مہم) کے جھنڈے تلے آسٹوریس، نوارے، گالیسیا، لےاون، پرتگال، آراغون، کتالونیہ اور قسطلہ کی حکومتیں پھیلاؤ اور اندرونی مضبوطی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ قرطبہ کے ابتدائی دور خلافت میں عیسائی، مسلمان اور یہودی مل جل کر رہے، لیکن بعد میں یہودیوں کو دھکیلا جانے لگا اور مسیحی مسلمانوں کے تحت دوسرے درجے کے شہری قرار پائے۔ 1031ء میں سقوطِ قرطبہ وقوع پذیر ہوگیا اور آئبیریا کی حکومت شمالی افریقا کے المرابطین کے ہاتھ آئی۔

مسلم آئبیریا نے شہری منصوبہ بندی میں بڑی ترقی کی اور عظیم شہر تعمیر کیے۔ ایک مورخ کے مطابق قرطبہ میں 471 مساجد، 300 عوامی غسل خانے، 63,000 امرا کے مکانات اور 200,077 عام لوگوں کے مکانات تھے۔ کاروباری مراکز میں 80,000 دکانیں ان کے علاوہ تھیں۔ پہاڑوں سے پانی شہر کے ہر کونے میں پہنچایا گیا تھا، جس کے لیے خالص سونا، چاندی، تانبا اور جست کے مختلف شکلوں کے پائپ بنائے گئے تھے۔ ان کے ذریعے پانی بڑی جھیلوں، تالابوں ٹینکون اور سنگ مرمری فواروں تک پہنچایا جاتا تھا۔ مکانات میں گرمیوں میں باغات کی تازہ معطر ہوا کے گزر کا اہتمام تھا اور سردیوں میں دیواروں میں نصب گرم ہوا نلوں کی مدد سے گھروں کو گرم رکھا جاتا تھا۔ مزید اہم کاموں میں بڑے راستوں پر جو محلات کی طرف جاتے تھے، روشنی کا اہتمام تھا۔ ان بڑے محلات میں سے ایک ازہارہ کا محل تھا جس کے 15,000 دروازے تھے۔ بلاشبہ خلافت کے دور عروج میں قرطبہ یورپ کا اہم دار الحکومتوں اور دنیا کے عظیم شہروں میں سے ایک تھا۔

1212ء میں قسطلہ کے الفانسو ہشتم کی قیادت میں مسیحی حکمرانوں کا گروہ مسلمانوں کو مرکزی آئبیریا سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا لیکن غرناطہ کی مسلم حکومت جزیرہ نما آئبیریا کے جنوبی حصہ میں قائم رہی۔ یہ امارت جدید زمانہ میں اپنے شاہکار الحمرا کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ 2 جنوری، 1492ء کو آخری مسلمان حکمران نے اراغون کے فردینانڈ دوم اور قسطلہ کی ازابیلہ کے درمیان شادی سے بننے والے اتحاد کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ باقی ماندہ مسلمانوں کو آئبیریا چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا یا ان کو مسیحیت قبول کرنی پڑی۔ اور ان کی اولاد موریسکوس قرار پائی جو کئی ریاستوں مثلاً اراغون، بلنسیہ، اندلسیہ وغیرہ میں بطور کسان رہے، یہاں تک کہ 1609ء سے 1614ء کے دوران ان سب کو بے دخل کر دیا گیا۔ ہنری لاپیئر کے مطابق اس بے دخلی سے جزیرہ نما کے کل 80 لاکھ رہائشیوں میں سے تین لاکھ متاثر ہوئے۔

اسلامی حکومت کے اس عروج میں مسلمانوں نے مغرب میں صرف آئبیریا میں ہی حکومت نہیں کی بلکہ مشرق میں ہندوستان، جزیرہ نما ملائیشیا، انڈونیشیا میں منڈاناؤ تک بھی حکومت کی۔

ماخذ[ترمیم]

رومی لفظ مور(Maur ) شمالی افریقا نسل کے باشندوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو جدید تیونس کے مغرب میں ہے۔اس کے مقابلہ میں مزید جنوب میں رہنے والے ایتھوپیائی باشندوں کو 'ایتھیوپس' (Aethiopes ) اور مصریوں کو 'آئجپتس' (Aegyptus) کہا جاتا تھا۔ ان میں کئی رنگ و نسل کے لوگ شامل تھے۔ ڈاکٹر کےئتا (Dr. Keita) کے مطابق یہ سب مقامی ہی تھے، چاہے انکا رنگ سفید تھا یا ان کے بال سفید تھے۔ یہ خصوصیات اس علاقہ کی اپنی تھیں نہ کہ یہاں آ کر آباد ہونے والے یورپی (یونانی، رومی وغیرہ) یا عربوں کی وجہ سے ۔

بحث و تحقیق[ترمیم]

مور 'Moor ' کا ماخذ یونانی لفظ 'ماؤروز' (Mavros) ہے جس کا مطلب سیاہ یا گہرا ہے اور جو لاطینی رومی زبان میں تبدیل ہو کر مورو (Mauro) کہلایا۔ رومی زبان میں سیاہ یا گہرے کے لیے 'نیگر' (Niger) یا 'فسکس' (Fuscus) کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، نہ کہ مور۔ مورشمالی افریقہ کے ان باشندوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا جو 'المغرب' کے رہنے والے تھے جو موجودہ تیونس کے مغرب میں ہے۔ مورخ ہیروڈوٹس لکھتا ہے کہ شمالی افریقی اقوام دو طرح کی تھیں، شمالی لیبیا میں سفید رنگت والی اقوام اور گہری رنگت والے اقوام۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

خارجی ربط[ترمیم]