بنی اسرائیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلسلہ مضامین
یہودیت
Star of David.svg
Lukhot Habrit.svg  Menora.svg

باب یہودیت

ابراہیم کے پوتے اور اسحاق کے بیٹے یعقوب کا عبرانی لقب اسرائیل تھا۔ لہذاان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ یعقوب کے بارہ بیٹے تھے اس لیے ابتدا سے بنی اسرئیل بارہ قبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

بنی اسرائيل کے باره قبیلوں کا نقشہ

ابتدا، عروج اور زوال[ترمیم]

ابراہیم کا آبائی وطن عراق تھا۔ ابراہیم علیہ السلام عراق سے ہجرت کر کے فلسطین میں آباد ہو گئے۔ سفر ہجرت کے دوران آپ نے سارہ اور ہاجرہ سے شادیاں کیں۔ آپ کے چھوٹے بیٹے اسحاق سارہ کے بطن سے تھے جبکہ بڑے بیٹے اسماعیل جو آپ صلی و علیہ وسلم کے جد امجد بھی ہیں ہاجرہ کے بطن سے تھے۔ ابراہیم نے اللہ کے حکم سے اپنے بڑے بیٹے اسماعیل اور ان کی والدہ ہاجرہ کو مکہ میں لاکر آباد کر دیا جبکہ خود سارہ اور چھوٹے بیٹے اسحاق کے ساتھ فلسطین میں ہی مقیم رہے۔

ابراہیم کے چھوٹے صاحبزادے اسحاق کے بیٹے کا نام یعقوب تھا۔ اپنے والد دادا اور چچا کی طرح آپ بھی اللہ کے برگزیدہ نبی ہوئے۔ یعقوب کے باره بیٹے تھے جن میں سب سے چھوٹے یوسف مصر میں ایک بہت بڑے سرکاری عہدے پر متمکن ہوئے تو بیشمار بنی اسرائیل مصر میں جا کر آباد ہو گئے۔ اس دوران بھی اس قوم کی ہدایت کے لیے کئی پیغمبر آئے جن میں حضرت ایوب علیہ السلام کافی مشہور ہیں۔ بنی اسرئیل ایک طویل مدت کی آسائش اور حکمرانی کے بعد قبطیوں کی غلامی میں جکڑے گئے تو ان کی رہنمائی اور آزادی کے لیے موسیٰ تشریف لائے۔

موسیٰ بنی اسرائیل کو قبطیوں کی غلامی سے آزاد کراکر بحر احمر کے پار واپس فلسطین میں لے آئے۔ یہاں آپ کے بعد آپ کے بھائی ہارون پیغمبر اور بادشاہ ہوئے۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک بنی اسرائیل نے فلسطین پر حکومت کی۔ اس دوران ان پر اللہ کی طرح طرح کی نعمتیں نازل ہوئیں۔ جیسے من و سلوى وغیره تاہم اس قوم نے ان کی قدر نہ کی۔ ان میں سیکڑوں نبی بھیجے گئے، کئی کا انکار کیا گیا، کئی کی نبوت تو قبول کی گئی مگر ان کی نافرمانی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔

اس کے بعد بھی اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کے دو باپ بیٹوں داؤد اور سليمان کوعزت بخشی۔ سلیمان نویں صدی ق م میں فلسطین کے مشہور فرمانروا اور پیغمبر تھے۔ ان کی وفات کے بعددس اسرائیلی قبائل نے ان کے جانشین کی مخالفت کی اور اسرائیل کے نام سے شمالی فلسطین میں اپنی بادشاہت قائم کر لی۔

537 قبل مسیح میں بابل اور نینوا کے حکمران فلسطین پر چڑھ دوڑے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو بڑے پیمانے پر قتل کیا اور ہزاروں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

قرآن کریم میں کئی جگہ اسرائیل کا ذکر آتا ہے۔ ایک سورت کا نام ہی سورۃ بنی اسرائیل ہے۔ یہ قوم اگرچہ بڑی دولت مند تھی مگر دنیا کے مختلف ممالک میں منتشر تھی۔ 1917ء میں برطانیہ نے ان سے وعدہ کیا کہ فلسطین میں ان کی آزاد حکومت قائم کر دی جائے گی۔ لیکن اسرائیلیوں نے ایفائے عہد سے پہلے ہی علاقے میں بسنے والے فلسطینیوں پر بے اندازہ مظالم توڑ کر انھیں اپنے اپنے علاقوں سے کھدیڑ ڈالا اور اپنے طور پر آزادی کا اعلان کر دیا جسے غیر منصفانہ طور پر اول روز ہی سے اسرائیل کی پشت پنا ہی کرنے والی طاقتوں امریکا ،برطانیہ روس وغیرہ نے تسلیم کر لیا۔ اور آج تک تقسیم فلسطین کی قراردادیں دنیا بھر کا منہ چڑا رہی ہیں اورغاصب اسرائیلی حکومت قائم ہے۔

بنی اسرائیل کے مشہور انبیا[ترمیم]

بنی اسرائیل کے مشہور صحائف[ترمیم]

بنی اسرائیل کے قبائل[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

  • بنی اسرائیل پر اتارا گیا خوان

بنی اسرائیل پر نازل ہونے والا خوان[ترمیم]

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَـنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنۡكَ‌ۚ وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ۞ ترجمہ:

عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی : اے ہمارے رب : ہم پر آسمان سے کھانے کا خوان نازل فرما تاکہ (وہ دن) ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہوجائے اور تیری طرف سے نشان (ہو جائے) اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی : اے ہمارے رب : ہم پر آسمان سے کھانے کا خوان نازل فرما تاکہ (وہ دن) ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہوجائے اور تیری طرف سے نشان (ہو جائے) اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے۔ (المائدہ : ١١٤)

عام آدمی کی نظر اور نبی کی نظر :

حواریوں نے جب خوان کی درخواست کی تھی تو کہا تھا ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہمیں یقین ہوجائے کہ آپ نے سچ کہا تھا ‘ انہوں نے اس خوان سے دنیاوی غرض ‘ یعنی کھانے کو پہلے ذکر کیا اور اخروی غرض ‘ یعنی ایمان کی پختگی کو بعد میں ذکر کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جب دعا کی تو اخروی غرض کو پہلے ذکر کیا اور وہ ہے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہونا اور اللہ کی طرف سے نشانی ہونا اور دنیاوی غرض کا بعد میں ذکر کیا اور وہ ہے کہ میں رزق عطا فرما اور اس دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی کہ تو سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے ‘ یہ فرق ہے نبی کی نظر میں اور عام آدمی کی نظر میں۔

عید کے دن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے عبادت کی جاتی ہے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نظر پہلے اللہ کی عبادت کی طرف تھی ‘ پھر فرمایا کہ وہ تیری طرف سے نشانی ہوجائے ‘ یعنی لوگ نزول مائدہ میں غور و فکر کر کے اس کے نازل کرنے والے کی طرف رسائی حاصل کریں اور نظر اور استدلال سے خدا کو پہچانیں ‘ یوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نظر ایک بلند مقام سے ‘ اس سے بھی بلند ترک مقام پر پہنچی۔ پھر جب فرمایا ہمیں رزق عطا فرما تو نفس کے حصہ کی طرف نظر کی اور خالق سے مخلوق کی طرف نزول کیا اور جب کہا تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے تو نزول کے بعد پھر خالق کی طرف رجوع کیا ‘ اور یوں اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دو مرتبہ خلق سے خالق اور غیر اللہ سے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ اس دعا کے اول میں بھی ان کی نظر اللہ کی طرف تھی اور آخر میں بھی ان کی نظر اللہ کی طرف تھی اور اہل اللہ کا یہی حال ہوتا ہے وہ ہرحال میں اللہ کی طرف نظر رکھتے ہیں۔ اے اللہ ! ہمیں بھی اس بلند مقام سے حظ وافر عطا فرما ! (آمین)

اول اور آخر کے لیے عید ہونے کا معنی :

تاکہ وہ دن ہمارے اول اور آخر کے لیے عید ہوجائے ابن جریج نے کہا اول سے مراد اس وقت کے زندہ لوگ ہیں اور آخر سے مراد بعد میں آنے والے لوگ ہیں۔

سفیان نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ اس دن ہم دو مرتبہ نماز پڑھیں۔

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ جب ہمارے سامنے خوان رکھا جائے تو اول سے لے کر آخر تک سب لوگ کھا لیں۔

سدی نے کہا جس دن مائدہ نازل ہو اس دن کی تعظیم کرتے ہوئے ہم بھی اس دن عید منائیں اور ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی۔

امام ابن جریر نے کہا صحیح قول یہ ہے کہ اس دعا کا معنی یہ ہے کہ : یہ دن ہمارے لیے عید ہوجائے اور جس دن یہ خوان نازل ہو ‘ اس دن ہم نماز پڑھیں ‘ جیسے لوگ عید کے دن نماز پڑھتے ہیں۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٧٨۔ ١٧٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ)

بنو اسرائیل پر نازل ہونے والے طعام کا خوان :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمار بن یاسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آسمان سے جو خوان نازل کیا گیا تھا ‘ اس میں روٹیاں اور گوشت تھا ‘ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس میں نہ خیانت کریں اور نہ اس کو کل کے لیے بچا کر رکھیں۔ انہوں نے خیانت بھی کی اور کل کے لیے بچا کر بھی رکھا ‘ سو ان کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٠٧٦)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

بنو عجل کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی۔ انہوں نے نماز سے فارغ ہو کر مجھ سے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ بنو اسرائیل کے خوان کا کیا معاملہ ہوا تھا ؟ میں نے نہیں۔ انہوں نے کہا بنو اسرائیل نے حضرت عیسیٰ ابن مریم سے سوال کیا کہ ان کے اوپر کھانے کا ایسا خوان نازل کیا جائے جس سے وہ کھانا کھاتے رہیں اور وہ کبھی ختم نہ ہو ‘ ان سے کہا گیا کہ وہ خوان تمہارے پاس رہے گا بشرطیکہ تم اس میں سے کچھ چھپا کر نہ رکھو اور خیانت نہ کرو اور اس میں سے کوئی چیز نہ اٹھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم نے ایسا کیا تم نے ایسا کیا تو میں تم کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا۔ پھر ایک دن بھی نہیں گذرا حتی کہ انہوں نے اس میں سے چھپایا اور اٹھا لیا اور خیانت کی ‘ سو ان کو ایسا عذاب دیا گیا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا تھا اور اے عرب والو ! تم لوگ اونٹوں اور بکریوں کو چراتے تھے ‘ پھر اللہ نے تم میں تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا ‘ جس کے حسب اور نسب کو تم جانتے اور پہچانتے تھے ‘ تمہارے نبی کی زبان سے تم کو اطلاع دی کہ عنقریب تم پورے عرب پر غلبہ پاؤ گے ‘ اور تم کو سونے اور چاندی کے جمع کرنے سے منع کیا اور بخدا تم اب دن رات سونا اور چاندی جمع کر رہے ہو ‘ اور درد ناک عذاب کے مستحق ہو رہے ہو۔

حضرت عمار بیان کرتے ہیں کہ بنو اسرائیل پر مائدہ نازل کیا گیا اس میں جنت کے پھول تھے ‘ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس میں سے نہ چھپائیں ‘ نہ خیانت کریں ‘ نہ ذخیرہ کریں ‘ ان لوگوں نے خیانت کی ‘ چھپایا اور ذخیرہ کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بندر اور خنزیر بنادیا۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٨٠۔ ١٧٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ)

  • سرائیل، جو بنی اسرائیل نسل ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]