سارہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الخلیل میں حضر ت سارہ کی قبر

حضر ت سارہ (عبرانی: שָׂרָה؛ لاطینی: Sara؛ عربی: سارة؛ فارسی: سارا) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی تھیں۔ حضرت سارہ حضرت ابراہیم کی بیوی حضرت اسحاق کی والدہ تھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ کو ان کے بیٹے حضرت اسحاق کی خوشخبری دی اور حضرت اسحاق کے بعد ان کے بیٹے حضرت یعقوب کی بھی خوشخبری دی۔ حضرت سارہ کو خوشخبری دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو مَردوں سے زیادہ ہوتی ہے، نیز یہ بھی سبب تھا کہ حضرت سارہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی اور حضرت ابراہیم کے فرزند حضرت اسمٰعیل موجود تھے، اس بشارت کے ضمن میں ایک بشارت یہ بھی تھی کہ حضرت سارہ کی عمر اتنی دراز ہوگی کہ وہ پوتے کو بھی دیکھیں گی۔ [1] ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاحضرت ابراہیم نے سارہ کے ساتھ ہجرت کی ان کو لے کر ایسی آبادی میں پہنچے جہاں باشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم حکمران رہتا تھا اس سے بیان کیا گیا کہ ابراہیم یہاں ایک خوبصورت عورت لے کر آئے ہیں آپ کے پاس اس نے ایک آدمی دریافت کرنے کو بھیجا کہ اے ابراہیم یہ عورت تمہارے ساتھ کون ہے آپ نے فرمایا میری بہن ہے پھر حضرت ابراہیم لوٹ کر سارہ کے پاس گئے اور کہا کہ میری بات کو جھوٹا نہ کرنا میں نے لوگوں کو بتایا کہ تو میری بہن ہے واللہ اس زمین پر میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں اور حضرت سارہ کو اس بادشاہ کے پاس بھیج دیا وہ بادشاہ حضرت سارہ کے پاس گیا وہ کھڑی ہوئیں اور وضو کر کے نماز پڑھی اور دعا کی کہ اللہ اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کی بجز اپنے شوہر کے حفاظت کی ہے تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر تو وہ بادشاہ زمین پر گر کر خر اٹے لینے لگا یہاں تک کہ پاؤں زمین پر رگڑنے لگا ۔ابوہریرہ نقل کیا کہ سارہ نے کہا یا اللہ اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اس عورت نے اس کو قتل کیا اس کی یہ حالت جاتی رہی بادشاہ نے دوسری یا تیسری بار کہا کہ واللہ تم نے میرے پاس ایک شیطان کو بھیجا اس کو ابراہیم کے پاس لے جاؤ اور (ہاجرہ) لونڈی ان کو دیدو وہ لوٹ کر حضرت ابراہیم کے پاس گیئں تو کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اس کو ذلیل کیا اور ایک لونڈی خدمت کے لئے دلوائی۔ [2] حضرتِ عبداللہ ابنِ عبّاس سے روایت ہے کہ ايک بارحضرتِ سارہ اور حضرتِ ہاجِرہ ميں کچھ چَپقَلش ہو گئی ۔ حضرتِ سارہ نے قسم کھائی کہ مجھے اگر قابو ملا تو ميں ہا جِرہ کا کوئی عُضو کاٹوں گی ۔ اللہ نے حضرتِ جبرئيل کوحضرت ابراہیم خلیلُ اللہ کی خدمت ميں بھیجا کہ ان ميں صُلح کروا ديں ۔ حضرتِ سارہ نے عرض کی ، مَاحِيلَۃُ يمينی يعنی ميری قسم کا کيا حِيلہ ہو گا ؟ تو حضرتِ ابراھیم خلیلُ اللہ پر وَحی نازِل ہوئی کہ حضرتِ سارہ کو حکم دو کہ وہ حضرتِ ہاجِرہ کے کان چَھيد ديں ۔ اُسی وقت سے عورَتوں کے کان چَھيدنے کا رَواج پڑا۔ [3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صِرَاطُ الْجِنَان فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآن صفحہ 467
  2. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2127
  3. غمزعُيون البصائر شرح الاشباہ والنظائر،ج3،ص295