آمنہ بنت وہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آمنہ بنت وہب
(عربی میں: آمنة بنت وهب خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 557  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 مئی 577 (19–20 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ابواء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شوہر عبد اللہ بن عبد المطلب (23 جولا‎ئی 570–1 جنوری 571)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد محمد بن عبد اللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد وہب بن عبد مناف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ برہ بنت عبد العزیٰ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

آمنہ بنت وہب (پیدائش: 557ء– وفات: 23 مئی 577ء) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ محترمہ ہیں۔

سوانح[ترمیم]

آپ کے والد کا نام وہب بن عبد مناف تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو زہرہ سے تھا جو قریش ہی کا ایک ذیلی قبیلہ تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جدِ امجد عبد مناف بن قصی سے ملتا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد عبد اللہ بن عبد المطلب شادی کے کچھ عرصہ بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش سے تقریباً چھ ماہ پہلے وفات پا گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آمنہ کے زیرِ پرورش رہے۔ آمنہ مکہ اور یثرب (مدینہ) کے درمیان ایک سفر کے دوران ابواء کے مقام پر وفات پا گئیں۔ یہ 577ء تھا اور آمنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یثرب (مدینہ) لے جا رہی تھیں تاکہ وہ اپنے ماموں سے ملیں اور اپنے والد عبد اللہ کی قبر کی زیارت بھی کریں۔

آپ اپنے قبیلہ میں سیرت النساء کے نام سے مشہور تھیں۔[1] آخری حج کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی قبر مبارک کی زیارت کی اور ان کو یاد کر کے روئے۔ یہ جگہ ایک پتھریلا علاقہ ہے جو ایک پہاڑی کا ہموار حصہ ہے۔

مآخذ[ترمیم]

  1. البدایۃ والنہایۃ از ابن کثیر جلد دوم۔ اردو ترجمہ شائع کردہ از نفیس اکیڈمی کراچی۔ صفحہ 156