ام کلثوم بنت علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


ام کلثوم بنت علی
معلومات شخصیت
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شوہر عمر ابن الخطاب
عون بن جعفر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
والد علی بن ابی طالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ فاطمۃ الزھراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
Fatimah Calligraphy.png
زندگی
فہرست القابات فاطمۃ الزھراء · اختلاف مالی فاطمہ و عباس با خلافت · واقعہ در و دیوار · خطبه فدکیہ · وفات فاطمہ
قرآن میں
سورہ دہر · سورہ کوثر · آیت تطہیر · آیت مباہلہ · آیت نور
مقامات
مکہ میں: محلہ بنی‌ ہاشم · شعب ابی طالب · مدینہ میں: جنت البقیع · بیت‌الاحزان · درخت کنار · سقیفہ · مسجد نبوی  · شمال حجاز میں: فدک
افراد
خاندان محمد · خدیجہ  · علی
فرزند حسن · حسین · زینب · ام‌ کلثوم · محسن
وفد فضہ نوبیہ · ام ایمن · اسماء  · سلمان
دیگر قنفذ · مغیره · عمر · ابوبکر
مرتبط
تسبیحات فاطمہ · مصحف فاطمہ · لوح فاطمہ · واقعہ مباہلہ · ایام فاطمیہ

زینبِ صغریٰ المعروف " کنیّت ام کلثوم" علی بن ابی طالب اور فاطمہ بنت محمد کی چوتھی اولاد تھیں اور عون بن جعفر کی زوجہ تھی۔ واقعۂ طف یعنی معرکۂ کربلائے معلّٰی میں بی بی زینب (الکبرے ٰ) کی دستِ راست تھیں۔ دربارِ یزید میں آپ کے خطبات تاریخی حیثیت رکتے ہیں۔

عقد حضرت ام کثوم بنت علی[ترمیم]

وہ لوگ جن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح عظمت آل محمد کو گھٹائیں اور خود ساختہ حدیثوں کے ذریعہ اپنی خود ساختہ ہستیوں کو بلند کریں۔ انھوں نے ایک اور افسانہ گھڑا کہ حضرت عمر نے اپنی خلافت کے آخری دور میں 17ھ میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نواسی اور حضرت فاطمہ زہرا کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم سے عقد کیا تھا۔ تحقیق کی جائے تو یہ افسانہ ویسا ہی ہے جیسے اور دیگر افسانے وضع کیے گئے ہیں اور کیے جا رہے ہیں۔ وضع رہے کہ 20ھ میں حضرت عمر فوت ہوئے اس وقت ان کی عمر 63 سال بتائی جاتی ہے۔

چناچہ اپنے اس دعوی کی تائید میں صحیح بخاری کتاب المغازی باب ام سلیط سے یہ حدیث پیش کرتے ہیں: حدثنا یحی بن بکیر حدثنا الیلث عن یونس، عن اب شہاب، وقال ثعلبة بن أبی مالک: إن عمر بن خطاب قسم مروطا بین نساء أھل المدینة فبقی منھا مرط جید، فقال له بعض من عنده: یا أمیر المومنین أعط بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم التی عندک، یریدون أم کلثوم بنت علی۔

حضرت عمر جب مدینہ میں چادریں عورتوں میں تقسیم کر رہے تھے جب ایک چادر بچ رہی تو جو لوگ ان کے پاس بیٹھے تھے ان میں سے کسی نے(ان کا نام معلوم نہیں) یوں کہا:

امیر المومنین یہ چادر آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کو دے دیجئے یعنی ام کلثوم بنت علی۔

جواب میں حضرت عمر نے کہا:

نہیں یہ میں ام سلیط کو دوں گا جنہوں نے احد میں زخمیوں کو پانی پلایا تھا۔[1] مترجم نے عندک کے معنی یہ بتلاے کہ جو آپ کے پاس ہیں۔ اس روایت میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ام کلثوم وہ جو زوجہ ہیں حضرت عمر کی یا آپ کی زوجہ ام کلثوم کو۔ اس عندک سے یہی اخذ ہوتا ہے کہ جو چادر(عندک) آپ کے پاس ہے یعنی بچ گئی ہے وہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دیجئے۔ اس روایت سے یہ بالکل واضح ہے ام کلثوم زوجہ حضرت عمر نہیں ہو سکتی اس لئے کہ کسی کا سفارش کرنا یہ بتلا رہا ہے کہ حضرت عمر کو اس کا علم نہیں تھا کہ اپنی زوجہ ام کلثوم کو چادر کی ضرورت ہے، اور یہ زوجہ تھیں تو حضرت عمر کے گھر کے حالات کا دوسرے کو کیسے علم؟۔ چناچہ اس سفارش کے جواب میں حضرت عمر نے کہا: نہیں یہ میں ام سلیط کو دوں گا جنہوں نے احد میں زخمیوں کو پانی پلایا تھا۔ یہ پانی پلانا حضرت عمر کا چشم دید واقعہ نہیں ہو سکتا اس لئے کہ یہ ثابت ہے کہ حضرت عمر نے احد میں فرار اختیار کیا تھا اور دور ایک پہاڑ پر بکری کی طرح کود رہے تھے۔

کان یوم أحد ھزمنا ففرت حتی صعدت الجبل

عمر بن خطاب نے کہا کہ جب ہم کو احد کے دن ہزیمت اٹھانی پڑی تو ہم سب بھاگ گئے یہاں تک کہ میں پہاڑ پر چڑھ گیا۔ وہاں میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ اس طرح اچھل کود رہا ہوں جیسے بکری کودتی ہے۔[2][3][4]

حافظ ابوعمر معروف به ابن عبد البر قرطبی متوفی 403ھ نے دو سلسلوں سے اس عقد والی روایت کو نقل کیا ہے۔[5] اس کتاب کے علاوہ مکمل راویوں کے ساتھ اور کتابوں میں یہ حدیث نہیں ملی اس لئے صرف اس کتاب کے راویوں پر تبصرہ کرنا مناسب ہے۔

پہلی روایت یوں ہے:۔

حدثنا عبدالوارث حدثنا قاسم حدثنا الخشني حدثنا أبی عمر حدثنا سفيان عن عمرو بن دینار عن محمد بن علی أن عمر بن الخطاب خطب إلی علی ابنته أم کلثوم فذکر له صغرها فقیل له:

إنه ردک فعاودہ فقال له علی:

أبعث بھا إلیک فان رضیت فھی امراتک فارسل بھا إلیه فکشف عن ساقھا فقالت:

مه واللہ لولا أنک أمیر المومنین للطمت عینک۔

ترجمہ: عمر بن خطاب نے علی سے ان کی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ طلب کیا تو انھوں نے فرمایا:

کہ وہ ابھی چھوٹی ہیں۔

تو ان سے کہا گیا:

کہ علی علیہ السلام نے رشتہ مسترد کر دیا ہے تم دوبارہ رجوع کرو۔

علی علیہ السلام نے فرمایا:

میں انھیں تمہارے پاس بھیجتا ہوں اگر وہ راضی ہو جائیں تو تم انھیں اپنی بیوی بنا لو۔

علی علیہ السلام نے ام کلثوم کو عمر کے پاس بھیجا تو انھوں نے ان کی پنڈلی کو برہنہ کر دیا۔

ام کلثوم نے کہا:

رک جاؤ اگر تم امیر المومنین نہ ہوتے تو میں تمہاری آنکھ پر تھپڑ مارتی۔

دوسری روایت یوں ہے:

و ذکر ابن وھب عن عبدالرحمن بن زید بن أسلم عن أبیه عن جدہ أن عمر بن الخطاب تزوج أم کلثوم بنت علی بن ابی طالب علی مھر أربعین ألفاً۔

ترجمہ: یہ کہ عمر بن خطاب نے ام کلثوم بنت علی سے عقد کیا چالیس ہزار مہر کے عوض۔

اًبو عمر: ولدت أم کلثوم بنت علی لعمر بن الخطاب زید بن عمر الأکبر و رقیة بنت عمر و توفیت أم کلثوم و ابنھا زید فی وقت واحد و قد کان زید أصیبفی حرب کانت بین بنی عدی لیلاً کان قد خرج لی صلح بینھم فضربه رجل منھم فی الظلمة فشجه و صرعه فعاش أیاماً ثم مات وھو وأمه فی وقت واحد وصلی علیھما ابن عمر قدمه الحسن بن علی و کانت فیھما سنتان فیما ذکرو الم یورث واحد منھما من صا حبه لأنه لم یعرف أولھما موتاً و قد زید قبل أمه مما یلی الامام۔

ترجمہ: ام کلثوم بنت علی نے جنم دیا عمر ابن خطاب سے زید بن عمر اکبر اور رقیہ بنت عمر کو۔ اور ام کلثوم اور ان کا بیٹا زید ایک ہی وقت میں وفات پا گئے۔ زید کو ایک جنگ میں زخم لگے جو بنی عدی کے درمیان ہوئی رات کے وقت وہ اس لیے نکلے تھے کہ ان کے درمیان صلح کرائیں۔ ایک شخص نے اندھیرے میں انھیں مارا اور ان کے سر کو زمین پر پچھاڑ دیا۔ کچھ دن زندہ رہے اس کے بعد وہ اور ان کی والدہ ایک ہی دن انتقال کر گئے۔ اور ابن عمر نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، حسن بن علی نے انھیں آگے بڑھا دیا۔ مبصرین اور نقاد نے کسی بھی روایت کی صداقت لے لئے علم الرجال سے اس روایت کے راویوں کی تحقیق کرنا اہم جانا ہے۔

علامہ ذہبی کی کتاب میزان الاعتدال راویوں کی تحقیق کے سلسلے میں علم الرجال میں ایک مسلمہ بے نظیر کتاب ہے۔ لہذا اسی کتاب طبع دار المعارفتہ بیروت لبنان کا سہارا لیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں:۔

پہلی روایت کے راوی ہیں عبد الوارث:

اس سلسلے میں 6 عبدالوارث کا تذکرہ کیا گیا ہے۔[6]

1. پہلے عبدالوارث کوفی ہیں ان سے کسی قاسم کی روایت کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ اور بظاہر یہ کہ ابوعمر جو اس روایت کے سلسلے میں ہیں۔ وہ قرطبہ کے رہنے والے تھے اور یہ یورپ میں واقع ہے ان کو اس عبدالوارث کی روایت نہیں پہنچ سکتی۔

2. دوسرے عبدالوارث بن سعید:

إلا أنه قدری متعصب لعنرو بن عبید و کان حماد بن زید ینھی المحدثین عن الحمل عنه للقدر۔

ترجمہ: یہ کہ یہ فرقہ قدری سے تھا اور متعصب تھا اور حماد بن زید محدثین کو تاکید کرتے تھے کہ ان سے کوئی روایت نہیں لینا اس لئے کہ یہ قدری ہے۔

3۔ تیسرے عبد الوارث بن صخر الحمصی:

مجھول یعنی ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

عبد الوارث بن غالب:

عن ثابت البنانی: لا یعرف و الخبر منکر

ان کو کوئی نہیں جانتا اور ان کی روایات سے انکار کیا جائے۔

5. عبدالوارث:

ضعفه الدار قطنی۔ قال الدار قطنی: یصع ھزا وقال الترمزی۔ عن البخاری: عبد الوارث منکر الحدیث۔ و قال ابن معین: مجھول والحدیث المذکور فرواہ مندل:

یعنی امام دار قطنی نے کہا ان کی روایات ضعیف ہیں اور امام ترمذی نے بخاری سے بیان کیا کہ عبدالوارث کی احادیث سے انکار ہے۔ اور ابن معین نے انہیں مجہول کہا ہے۔

6. چھٹے عبد الوارث ہیں:

قال الأزدی کا یکتب حدیثه:

لکھا ہے کہ ان کی بیان کردہ احادیث مت لکھو۔

راویان کی فہرست میں دوسرے قاسم ہیں ان کی ولدیت کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ اس لئے کچھ اس سلسلے میں تحقیق کرنے سے معذور ہیں مگر میزان الاعتدال جلد 3 صفحہ 368 تا 383 میں ہر نام کے ساتھ مجہول، منکر، کذاب یا خبیث لا یحتج به۔ لیس بال متین لکھا ہے۔

تیسرے اس فہرست میں الخشنی

الحسن بن یحیی الخشنی الدمشقی البلاطی: قال ابن معین: لیس بشىٌ قال النسائى ليس بثقة، قال الدار قطنى: متروك اخرجه ابن الجوزى فى الموضوعات۔[7]مزید وضاحت درکار نہیں ہے۔

چوتھے اس فہرست میں ابن ابی عمر:

عمر بن ریاح أبوحفص العبدی البصری۔ وھو عمر بن أبی عمر العبدی: قال الفلاس: دجال=(Trash)، قال الدار قطنی: متروک الحدیث، وقال ابن عدی: الضعف على حديثه بین۔[8]

پانچویں راوی ہیں۔

سفیان بن عينة: و کان یدلس(Fraud): مالک ابن عینة یخطی فی نحو۔[9]

چھٹے راوی ہیں۔

عمرو بن دینار البصری: وھو مولی آل زبیر، قال احمد بن حنبل: ضعیف قال ابن معین: ذاھب یعنی متروک، وقال مرة: لیس بشئ وقال النسائی: ضعیف[10] یہ تھے پہلے سلسلہ روایت کے راویان۔ ایک بھی ان میں قابل قبول نہیں ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تیسیر الباری صحیح بخاری اردو جلد 5، صفحہ 321
  2. جامع البیان طبری جلد 4، صفحہ 193
  3. تفسیر در منثور سیوطی جلد 2، صفحہ 88
  4. کنز العمال جلد 2، صفحہ 376
  5. استعیاب صفحہ 365، جلد 2
  6. میزان الاعتدال، جلد 2، صفحہ 677 تا 678
  7. میزان الاعتدال جلد 1، صفحہ 524 سلسلہ 1958
  8. میزان الاعتدال جلد 3، صفحہ 194، سلسلہ 6109
  9. میزان الاعتدال جلد 2، صفحہ 170، سلسلہ 6109
  10. میزان الاعتدال جلد 3 صفحہ 259، سلسلہ 6366