ام ہانی بنت ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ام ہانی بنت ابی طالب

(عربی: أم هانئ بنت أبي طالب)

فاختہ بنت ابی طالب بن عبد المطلب
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 576  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ مکرمہ
تاریخ وفات سنہ 661 (84–85 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لقب ام ہانی
شوہر ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی
اولاد جعدہ بن ہبیرہ المخزومی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 4   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو طالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ فاطمہ بنت اسد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
رشتے دار والد: ابو طالب
والدہ: فاطمہ بنت اسد
عملی زندگی
نسب ہاشمیہ
تاریخ قبول اسلام عام الفتح

فاختہ بنت ابی طالب یا ہند بنت ابی طالب المعروف ام ہانی علی ابن ابی طالب کی بہن تھیں۔ فتح مکہ کے موقع پراسلام لائیں۔ چونکہ ان کے خاوند ہبیرہ بن ابی وہب اسلام نہیں لائے اس لیے ان میں جدائی ہو گئی۔ فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مکان پر غسل فرمایا اور کھانا نوش فرمایا، پھر آٹھ رکعت نماز چاشت ادا فرمائی۔ ۔[1]

آپ کے ذمے کچھ عرصہ کے لیے حضرت فاطمہ الزھرا کی تربیت بھی کی گئی تھی۔

شادی[ترمیم]

ام ہانی بنت ابی طالب کی شادی ہبیرہ بن ابی وہب سے ہوئی جو قبیلہ مخزوم کے سردار[2] اور شاعر تھے .[3] ام ہانی کے 4 بچے تھے ہانی، جن کی وجہ سے ان کی کنیت ام ہانی پڑی، یوسف، عمر اور جعدہ کے علاوہ صحیح بخاری میں اُن کے پانچویں بچے نام فولان بھی لکھا ہوا ہے تاہم یہ معلوم نہیں کہ یہ پانچواں بیٹا ہے یا چار بچوں میں سے ہی کسی کا متبادل نام ہے۔[4] نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو طالب سے ام ہانی سے شادی کے لیے کہا تھا مگر حضرت ابوطالب نے اس کی شادی ہبیرہ بن ابی وہب سے کردی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح ترمذی ج1، صفحہ 62 اور صحیح بخاری باب منزل النبی یوم الفتح
  2. محمد ابن اسحاق۔ سیرت رسول اللہ. ترجمہ از Guillaume, A. (1955). The Life of Muhammad, p. 356. Oxford: Oxford University Press.
  3. Ibn Ishaq/Guillaume pp. 404, 557.
  4. Bukhari 1:8:353. Bukhari 4:53:396.

بیرونی روابط[ترمیم]