ام ہانی بنت ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ام ہانی بنت ابی طالب

(عربی: أم هانئ بنت أبي طالب)

اہم معلومات
پورا نام فاختہ بنت ابی طالب بن عبد المطلب
نسب ہاشمیہ
لقب ام ہانی
تاريخ ولات
مقام ولادت مکہ مکرمہ
تاريخ وفات 40 ہجری
شریک حیات ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی
نسبی رشتے والد: ابو طالب
والدہ: فاطمہ بنت اسد
اسلام میں
تاريخ قبول اسلام عام الفتح

ام ہانی بنت ابی طالب علی ابن ابی طالب کی بہن تھیں۔ فتح مکہ کے موقع پراسلام لائیں۔ چونکہ ان کے خاوند ہبیرہ بن ابی وہب اسلام نہیں لائے اس لیے ان میں جدائی ہو گئی۔ فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مکان پر غسل فرمایا ، اور کھانا نوش فرمایا ، پھر آٹھ رکعت نماز چاشت ادا فرمائی۔[1]۔

آپ کے ذمے کچھ عرصہ کے لیے حضرت فاطمہ الزھرا کی تربیت بھی کی گئی تھی۔

شادی[ترمیم]

حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کی شادی ہبیرہ بن ابی وہب سے ہوئی جو قبیلہ مخزوم کے سردار [2] اور شاعر تھے.[3] ام ہانی کے 4 بچے تھے ہانی، جن کی وجہ سے ان کی کنیت ام ہانی پڑی، یوسف، عمر اور جعدہ کے علاوہ صحیح بخاری میں اُن کے پانچویں بچے نام فولان بھی لکھا ہوا ہے تاہم یہ معلوم نہیں کہ یہ پانچواں بیٹا ہے یا چار بچوں میں سےہی کسی کا متبادل نام ہے[4]۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو طالب سے ام ہانی سے شادی کے لیے کہا تھا مگر حضرت ابوطالب نے اس کی شادی ہبیرہ بن ابی وہب سے کردی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح ترمذی ج1، صفحہ 62، اور صحیح بخاری باب منزل النبی یوم الفتح
  2. محمد ابن اسحاق. سیرت رسول اللہ. ترجمہ از Guillaume, A. (1955). The Life of Muhammad, p. 356. Oxford: Oxford University Press.
  3. Ibn Ishaq/Guillaume pp. 404, 557.
  4. Bukhari 1:8:353. Bukhari 4:53:396.

بیرونی روابط[ترمیم]