ہند بنت ابی امیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ام المومنین ام سلمہ
تخطيط اسم أم سلمة.png
اہم معلومات
پورا نام ام سلمہ بنت ابی اميہ حذيفہ بن مغیرہ بن عبد الله بن عمر بن مخزوم
نسب بنو مخزوم
لقب ام المومنین
تاريخ ولات نحو 29 قبل ہجرت / 580ء
مقام ولادت مكہ مکرمہ
تاريخ وفات 61 ہجری / 680ء
مقام وفات المدينة المنورة
مقام دفن جنت البقیع
شریک حیات ابو سلمہ بن عبد الاسد
محمد بن عبد الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
اسلام میں
تاريخ قبول اسلام السابقين میں سے (ہاجرت الہجرتين
اہم واقعات 158 احادیث کی روایت


ام المومنین ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا (عربی: هند بنت أبي أمية)، ام سلمہ ان کی کنیت اور اسی سے مشہور ہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔

نام و نسب

ہند بنت ابی امیہ سہیل بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم والدہ کا نام عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ جو بنو فراس سے تھیں[1]

ابتدائی زندگی

وہ قریش کے خاندان بنو مخزوم سے تھیں۔ والد ابو امیہ مخزومی، مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب زاد الراکب مشہور تھا۔[2]


ازدواجی زندگی

آپ کا نکاح 13 سال کی عمر میں ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد مخزومی سے ہوا جو ابو سلمہ کے نام سے مشہور ہیں [3]جو آپ کے پھوپھی زاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے۔ اوائل اسلام ہی میں اپنے شوہر کے ساتھ ایمان لائیں اور ہجرت حبشہ میں ان کا ساتھ دیا۔ یہیں آپ کے پہلوٹی کے بیٹے سلمہ پیدا ہوئے ۔ کچھ عرصے بعد شوہر کے ہمراہ واپس آگئیں ۔ جب مدینے کی طرف ہجرت کا حکم ہوا تو خاندان والوں نے آپ کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہ دی اور گودی کا بچہ بھی چھین لیا۔ لیکن پھر ترس کھا کر بچہ دے دیا اور مدینے بھی جانے دیا۔ آپ پہلی مہاجر خاتون تھیں۔ ابوسلمہ غزوہ احد میں شہید ہوئے تو حضرت ابوبکر اور عمر نے باری باری آپ سے نکاح کی درخواست کی مگر آپ نے انکار کردیا۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیغام بھیجا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آپ کا نکاح 3ھ ( 624ء ) میں ہوا۔

مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

اولاد

آپ کے پہلے شوہر ابو سلمہ عبداللہ سے آپ کے چار بچے پیدا ہوئے۔

وصال

حضرت ام سلمہ نہایت عقلمند اور مدبر خاتون تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔ حضرت عائشہ کے بعد سب سے زیادہ احادیث آپ سے مروی ہیں۔ طبری ، مسعودی ، اور واقدی کی تحقیق ہے کہ آپ کا انتقال 59ھ میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بقیع میں دفن ہوئیں۔ لیکن مصر کے قبرستان باب الصغیر میں ایک مزار ، جس کے دروازے پر ام سلمہ کا کتبہ لگا ہے۔ یہ مزار ترکی خلیفہ سلطان عبدالحمید نے 1327ء میں بنوایا تھا۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ آپ نے 61ھ ( 681ء ) میں انتقال فرمایا۔

حوالہ جات

  1. ^ سیر الصحابہ ،سعید انصاری،جلد6، صفحہ 55، دارالاشاعت کراچی
  2. ^ سیر الصحابہ ،سعید انصاری،جلد6، صفحہ 55، دارالاشاعت کراچی
  3. ^ سیر الصحابہ ،سعید انصاری،جلد6، صفحہ 55، دارالاشاعت کراچی