باب:اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بسم اللہ الرحمن الرحيم

باب اسلام

اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے آخری رسول و نبی، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں ؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔ مزید دیکھیے۔۔۔

منتخب مضمون

سنت ، عربی کا لفظ ہے اور اس کے بنیادی معانی ، روش یا راہ کے ساتھ دیگر معانی بھی ہوتے ہیں لیکن اسلامی دستاویزات میں اس سے عام طور پر مراد حضرت محمدDUROOD3.PNG کی اختیار کردہ روشِ حیات یا طریقۂ زندگی کی ہی لی جاتی ہے۔ 569ء سے 632ء تک جو عرصہ محمدDUROOD3.PNG نے اس دنیا میں انسانوں کے سامنے کتاب کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے گزارا وہ سنت کہلاتا ہے۔ خاتم الانبیا ہونے کی وجہ سے محمدDUROOD3.PNG کی وفات نے آخری کتاب کے بعد ، اسلام کی تکمیل کرنے والے دوسرے منبع پر بھی اختتام کی مہر ثبت کردی۔ اس وقت سے لےکر آج تک مسلمان اسلام کے ان دو بنیادی ماخذ ، قرآن اور سنت ، کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

منتخب تصویر

ہلال رمضان
تصویر: Mona Maher

اردن میں اکثر ماہِ رمضان کے موقع پر اس قسم کے ہلال روشن کیے جاتے ہیں

اس ماہ

ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہا) کا خطاطی نام

  • 902ء: 1 اگست — اغالبہ نے سسلی کے علاقہ تاورمینا کا محاصرہ کرلیا اور تاورمینا پر مکمل مسلم قبضہ ہوگیا۔ تاورمینا کی فتح کے بعد سسلی میں مسلم فتوحات مکمل ہوگئیں۔ یہ فتوحات جون 827ء میں شروع ہوئی تھی۔ اغالبہ نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر سسلی پر مکمل قبضہ کرلیا اور سسلی دولت اغالبہ کا حصہ بن گیا۔
  • 974ء: 4 اگست — عباسی خلیفہ المطیع باللہ 60 سال کی عمر میں بغداد میں فوت ہوا۔ اُس کا بیٹا الطائع باللہ خلیفہ بنا۔
  • 833ء: 9 اگست — عباسی خلیفہ مامون الرشید شام کے شہر الرقہ میں فوت ہوا۔المعتصم باللہ خلیفہ مقرر ہوا۔
  • 847ء: 10 اگست — عباسی خلیفہ الواثق باللہ فوت ہوا۔ المتوکل علی اللہ تخت نشیں ہوا۔
  • 819ء: 11 اگست — عباسی خلیفہ مامون الرشید بغداد میں داخل ہوا۔مامون الرشید نے بغداد کو دارالحکومت قرار دیا۔
  • 908ء:13 اگست — عباسی خلیفہ المکتفی باللہ بغداد میں 31 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ المعتضد باللہ کا دوسرا بیٹا المقتدر باللہ خلیفہ بنا۔
  • 902ء: 14 اگست — عباسی وزیر بدر المعتضدی کو بحالت نماز شہر المدائن میں قتل کردیا گیا۔ وہ 892ءمیں عباسی وزیر بنایا گیا تھا۔
  • 643ء: 22 اگست — کو ابوبکر صدیق (تصویر) کی وفات ہوئی۔
  • 944ء: 26 اگست — عباسی خلیفہ المتقی باللہ کو معزول کر دیا گیا۔بعد ازاں اُسے اندھا کر دیا گیا۔المستکفی باللہ خلیفہ بنا۔
  • 979ء: 29 اگست — ابو تغلب امیرموصل کو شہر رملہ میں قتل کردیا گیا۔

خبروں میں:

تازہ خبریں
ویکی اخبار باب اسلام
Read and edit Wikinews

زمرہ:اسلام

منتخب شخصیت

سلیمان اول

سلیمان اول (المعروف سلیمان قانونی اور سلیمان اعظم) سلطنت عثمانیہ کے دسویں فرمانروا تھے جنہوں نے 1520ء سے 1566ء تک 46 سال تک حکمرانی کے فرائض انجام دیئے۔ وہ بلاشبہ سلطنت عثمانیہ کے سب سے عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے بے مثل عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت پوری مملکت اسلامیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مملکت کے لئے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کا اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

Al-Musta'sim

ویکی منصوبے

منتخب اقتباس

مجھے اسلامی تصوف کی انسان دوستی، ذوق و وجدان، خدا سے بندوں کے تعلق اور انسانوں کے باہمی تعلقات کے متعلق واضح احکامات نے اسلام کی طرف ماہل کیا۔ (نو مسلم)
تصوف

مساجد


Chinese-style minaret of the Great Mosque.jpg

جامع مسجد شیان چین کے صوبہ شانسی کے شہر شیان میں واقع ملک کی قدیم اور مشہور ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ اسے پہلی بار تانگ خاندان کے ژوان زونگ (685ء تا 762ء) کے دور حکومت میں شاہراہ ریشم کے مشرقی کنارے پر قائم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ کئی مرتبہ (خصوصاً منگ خاندان کے شاہ ہونگ وو کے دور حکومت میں) تعمیر نو کے مراحل سے گذری. یہ مسجد ژیان کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے اور آچ بھی چین کے مسلمان اسے عبادت گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مسجد کے عام روایتی طرز تعمیر کے برعکس جامع مسجد ژیان مکمل طور پر چینی طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ تاہم اس میں قرآنی آیات کی خطاطی ضرور کی گئی ہے۔ جامع مسجد ژیان کا کوئی گنبد یا مینار نہیں۔ مکمل مضمون

مسلمانوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہتے ہیں۔لفظ 'مسجد' کا لغوی مطلب ہے ' سجدہ کرنے کی جگہ'۔ اردو سمیت مسلمانوں کی اکثر زبانوں میں یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ عربی الاصل لفظ ہے۔ انگریزی اور یورپی زبانوں میں اس کے لیے موسک (Mosque) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اگرچہ بعض مسلمان اب انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں میں بھی 'مسجد' استعمال کرتے ہیں۔تاریخی طور پر یہ کئی حوالوں سے اہم ہیں مثلاً عبادت کرنے کے لیے، مسلمانوں کے اجتماع کے لیے، تعلیمی مقاصد کے لیے حتیٰ کہ مسلمانوں کے ابتدائی زمانے میں مسجدِ نبوی کو غیر ممالک سے آنے والے وفود سے ملاقات اور تبادلہ خیال کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مساجد (مسجد کی جمع) سے مسلمانوں کی اولین جامعات (یونیورسٹیوں) نے بھی جنم لیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی طرزِ تعمیر بھی بنیادی طور پر مساجد سے فروغ پایا ہے۔

منتخب مواد

اسلام میں مرد و عورت: قرآن ؛ واضح الفاظ میں عورت کو مرد کے مساوی حقوق فراھم کرتا ہے؛ ترجمہ؛ اور عورتوں کے بھی معروف طریقے پر حقوق ہیں ویسے ہی جیسے ان پر ہیں (مردوں کے) البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے (قرآن 2:228)۔ قرآن کی اس آیت کے بعد اسلام میں عورت کے مرد کی طرح معاشرے کا متحرک جز ہونے کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا۔ عورتوں کو جو مشکلات موجودہ اسلامی ممالک میں درپیش ہیں ان کی وجہ قرآن یا اسلام کی تعلیمات میں نہیں بلکہ اسکی بنیادی وجہ بذات خود قرآن کی تعلیمات سے ہٹے ہوۓ معاشرے اور (دانستہ یا نادانستہ) مذہب میں مدغم کر کے پیروی کی جانے والی علاقائی ثقافت و رسومات میں ہے۔ تعلیم کی کمی نے اسلامی معاشرے کو علوم و فنون میں تو ناکارہ کیا، اس کمی سے قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے کا عمل بھی متاثر ہوا۔ مندرجہ بالا آیت میں مردوں کو ایک درجہ بلند حاصل ہونے سے عورت کا درجہ معاشری یا انسانی حقوق کے اعتبار سے کم ہونے کا مفہوم نہیں نکلتا، اس موضوع کی مزید وضاحت مکمل مضمون میں آجاۓ گی۔ مکمل مضمون

زمرہ جات

C Puzzle.png

اسلامتاریخ اسلامبلحاظ براعظمبلحاظ ملکبلحاظ خطہبلحاظ مقامقرآنسنتسیرتحدیثفقہکتبادبمتونشاعریمعماریزمرہ:صحابہزمرہ:صحابیاتشخصیات

اسلام اور ۔ ۔ ۔

دیگر مذاہبسیاستغلامیمعاشرہجانورتشددرقص

حج
مکہ

آپ کیا کیا کرسکتے ہیں؟

آپ کیا کرسکتے ہیں؟
  • اسلامی مضامین کے آخر میں {{باب|اسلام}} کا اضافہ کرسکتے ہیں۔
  • اسلام سے متعلق مضامین تحریر کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
  • اس کے علاوہ آپ اسلام سے متعلق مضامین میں اضافہ کر کے بھی مدد کر سکتے ہیں۔
  • انگریزی ویکیپیڈیا سے اسلامی مضامین کا اردو میں ترجمہ کرسکتے ہیں۔

متعلقہ ابواب

ویکیمیڈیا ساتھی منصوبے

اسلام اسلام اسلام اسلام اسلام اسلام اسلام
ویکی اخبار
آزاد متن خبریں
ویکی اقتباسات
مجموعہ اقتباسات متنوع
ویکی کتب
آزاد نصابی ودستی کتب
ویکی منبع
آزاد دارالکتب
وکشنری
لغت ومخزن
ویکیورسٹی
آزاد تعلیمی مواد ومصروفیات
العام
انبار مشترکہ ذرائع
Wikinews-logo.svg
Wikiquote-logo.svg
Wikibooks-logo.svg
Wikisource-logo.svg
Wiktionary-logo-en.svg
Wikiversity-logo.svg
Commons-logo.svg
باب کو تازہ کیجیے