باب:اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بسم اللہ الرحمن الرحيم

باب اسلام

اسلام
اللہ کا خطاطی نام، اللہ مسلمانوں کا واحد خدا ہے
اللہ کا خطاطی نام، اللہ مسلمانوں کا واحد خدا ہے

رہنما موجودہ: کوئی نہیں
اول خلیفہ: ابو بکر صدیق
آخر خلیفہ: عبد المجید ثانی (بمطابق اہل سنت)
بانی محمد بن عبد اللہ
مقام ابتدا مکہ، حجاز، غرب جزیرہ نما عرب۔
تاریخ ابتدا اوائل ساتویں صدی۔
ارکان شہادت ونماز وزکوۃ وصوم وحج
فرقے مُتفق علیہا: سنیت، شیعیت، اباضیت
غیر مُتفق علیہا: احمدیت، دروز، نصیریت۔
مقدس مقامات مسجد حرام، مکہ، Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
مسجد نبوی، مدینہ منورہ، Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
مسجد اقصیٰ، یروشلم، Flag of Palestine.svg فلسطین
قریبی عقائد والے مذاہب یہودیت، مسیحیت، مندائیت، بہائیت، سکھ مت
مذہبی خاندان ابراہیمی مذہب
پیروکاروں کی تعداد 1.8 بلین (2015ء) [1]
دنیا میں جنوب مشرقی ایشیا، وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا، بلاد البلقان، اور باقی عالم میں مسلمان اقلیت ہیں۔
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے آخری رسول و نبی، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن)[2] اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد[3] اس کو پڑھتے ہیں ؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی[4] ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت[2] ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔

لغوی معنی

لفظ اسلام لغوی اعتبار سے سلم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی اطاعت اور امن، دونوں کے ہوتے ہیں۔ ایسا در حقیقت عربی زبان میں اعراب کے نہایت حساس استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں کہ اردو و فارسی کے برعکس اعراب کے معمولی رد و بدل سے معنی میں نہایت فرق آجاتا ہے۔ اصل لفظ جس سے اسلام کا لفظ ماخوذ ہے، یعنی سلم، س پر زبر اور یا پھر زیر لگا کر دو انداز میں پڑھا جاتا ہے۔

  • سَلم جس کے معنی امن و سلامتی کے آتے ہیں۔
  • سِلم جس کے معنی اطاعت، داخل ہو جانے اور بندگی کے آتے ہیں۔

قرآنی حوالہ

  • اسلام کا ماخذ سَلم اپنے امن و صلح کے معنوں میں قرآن کی سورت الانفال کی آیت 61 میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (ترجمہ: اور اگر جھکیں وہ صلح (امن) کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اس کی طرف اور بھروسا کرو اللہ پر۔ بے شک وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے)۔[5]
  • سلم (silm) کا لفظ اپنے اطاعت کے معنوں میں قرآن کی سورت البقرہ کی آیت 208 میں ان الفاظ میں آیا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (ترجمہ: اے ایمان والو! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقشِ قدم پر بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)۔ حوالے کے لیے دیکھیے حوالہ برائے امن و صلح۔

اسلام کیا ہے؟

یہاں وضاحت، اسلام کیا ہے؟ کو دوبارہ درج کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ اس کا جواب مضمون کے ابتدائیہ میں آچکا ہے۔ جہاں تک رہی بات اس سوال کی کہ اسلام ہے کیا؟ یعنی وہ کیا اجزاء ہیں کہ جو اسلام کی تشکیل کرتے ہیں؟ تو اس وضاحت کی الگ سے ضرورت مختلف خود ساختہ فرقوں کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک درکارِ لازم حیثیت رکھتی ہے۔ ماسوائے چند (جیسے اھل القرآن)[6] تمام فرقے قرآن اور سیرت النبی (سنت) ہی کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد قرار دینے پر نا صرف اجتماع رکھتے ہیں بلکہ اپنے اپنے طور اس پر قائم ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں جیسے اھل سنت۔[7] اور اھل حدیث[8] وغیرہ۔ یہی دعویٰءِ اصلِ اسلام، اھل تصوف سے متعلق کتب و دستاویزات میں بھی دیکھا جاتا ہے[9] اھل تشیع فرقے والے سنت پر ایک خاص اور محتاط نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور سنیوں کے برعکس ان کے نزدیک جو سنت (حدیث)، اھل بیت سے منحرف ہوتی ہو وہ مستند نہیں، مزید یہ کہ اس فرقے میں قرآن اور سنت کی بجائے قرآن اور اھل بیت کا تصور بھی ملتا ہے۔[10]

قرآن

سنت

اجزائے ایمان

عکس 1۔ ایمان کے اجزا (بالائی سرخ لکیر) کو بیان کرنے والا ایک مشہور کلمہ جسے ایمان مفصل کہا جاتا ہے۔

ارکانِ اسلام

پانچ_ارکانِ_اسلام: تعارفی_کلمات
کلمۂ شہادت مسلمان کی جانب سے بنیادی اقرار؛ خالق اور رسول پر یقین کی گواہی دینا شہادت کہلاتا ہے۔
نماز معینہ اوقات پر دن میں پانچ بار عبادت (نماز) فرض ہے ؛ جو انفرادی یا اجتماعی طور پر ادا کی جاسکتی ہے۔
روزہ ماہ رمضان میں طلوع تا غروبِ آفتاب، خرد و نوش سے پ رہی ز رکھنا۔ بعض حالتوں میں غیر لازم یا ملتوی ہو جاتا ہے۔
زکوۃ اپنی ضروریات پوری ہوجانے کے بعد مفلسوں کی امداد میں اپنے مال سے چالیسواں حصہ ادا کرنا۔
حج اگر استطاعت اور اہلِ خانہ کی کفالت کا سامان ہو تو زندگی میں ایک بار، مکہ (کعبہ) کی جانب سفر و عبادت کرنا۔

تاریخِ اسلام

خلافت راشدہ

661ء تا 1258ء

خلافت تا خلافتیں

طوائف الملوک تا استعماریت

اجمالی جائزہ

  • یقیناً ہم نے بھیجا ہے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔
    اور نہیں ہے کوئی امت مگر ضرور آیا ہے اس میں کوئی منتبہ کرنے والا۔ (قرآن؛ 35:24)

اسلام و دیگر مذاہب

مذکورہ بالا آیت سے دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کے نظریے کی وضاحت سامنے آجاتی ہے۔

اسلام میں انبیا

قرآن ہی کی سورت 35 (فاطر) کی آیت 24 کے مطابق، قرآن میں درج 25 انبیاء و مرسال[11] کے علاوہ اسلامی عقائد کے مطابق ایسے انبیا اکرام بھی ہیں کہ جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، قطعہ بنام اجمالی جائزہ میں درج آیت سے یہ بات عیاں ہے کہ ہر امت میں نبی (یا انبیا) بھیجے گئے، اس سلسلے میں ایک حدیث بھی مسند احمد بن حنبل اور فتح الباری بشرح صحیح البخاری میں آتی ہے جس میں پیغمبران کی تعداد 124000 بیان ہوئی ہے۔[12][13][14]؛ ظاہر ہے کہ ان میں ان مذاہب کے وہ اشخاص منطقی طور پر شامل ہو جاتے ہیں کہ جن کو آج ان مذاہب کی ابتدا کرنے والا یا ان مذاہب کا خدا مانا جاتا ہے ؛ مثال کے طور پر سدھارتھ گوتم بدھ مت اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے[15]، گوتم بدھ کے بارے میں بعض علما کا خیال ہے کہ یہ پیغمبر ذو الکفل علیہ السلام (الانبیاء آیت 85) کی جانب اشارہ ہے اور kifl اصل میں سنسکرت کے لفظ (Kapilavastu) کو تشبیہ ہے، [16] گو یہ خیال سنی[16] اور شیعہ [17] کے علاوہ خود بدھ مذہب والوں میں بھی پایا جاتا ہے[18] لیکن چونکہ گوتم بدھ کا نام براہ راست قرآن میں نہیں آتا اس لیے متعدد علما اس وضاحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد کے بارے میں متعدد نظریات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے علما کے نزدیک یہ عدد کوئی معین یا ناقابل ترمیم نہیں ہے[19]

اسلام پر انتقاد

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. آخر اسلام کیوں دنیا کا تیزی سے ترقی پاتا ہوا مذہب ہے – Pew Research Center
  2. ^ ا ب Is the Qur'an for Arabs Only? By Abul A'la Mawdudi آن لائن موقع آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ islamonline.net (Error: unknown archive URL)
  3. مسلم آبادی 1.6 ارب آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ dimension.ucsd.edu (Error: unknown archive URL) اور 1.82 ارب کا بیان
  4. Learning Arabic at Berkeley By Sonia S'hiri اسی کروڑ آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ ls.berkeley.edu (Error: unknown archive URL)
  5. اردو ترجمے کے ساتھ ایک موقع بنام آسان قرآن آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ asanquran.com (Error: unknown archive URL)
  6. ahl al-quran at oxford islamic studies online آن لائن صفحہ
  7. the ahle sunnat wal jamaat آن لائن صفحہ آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ nooremadinah.net (Error: unknown archive URL)
  8. Ahl-i Hadith آن لائن بیان
  9. see: sachal sarmast at dargahs of india and the world آن لائن صفحہ آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ aulia-e-hind.com (Error: unknown archive URL)
  10. shia encyclopedia at scribd آن لائن صفحہ آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ scribd.com (Error: unknown archive URL)
  11. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ messengers نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  12. فتح الباری بشرح صحیح البخاری آن لائن آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ hadith.al-islam.com (Error: unknown archive URL)
  13. پاکستان لنک نامی ایک موقع آن لائن بیان آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ pakistanlink.com (Error: unknown archive URL)
  14. دارالافتاء پر ایک بیان آن لائن موقع آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ askimam.org (Error: unknown archive URL)
  15. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ آن لائن مضمون نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  16. ^ ا ب تنظیم اسلامی کی ویب سائٹ پر بیان القرآن؛ Surah An-Nisa (Ayat 158-176) آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ tanzeem.org (Error: unknown archive URL) (پیڈی ایف فائل)
  17. ایک شیعہ موقع پر ایک لاکھ چوبیس ہزار کے عدد کا ذکر آن لائن مضمون آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ www26.brinkster.com (Error: unknown archive URL)
  18. قرآن میں گوتم بدھ کے بارے میں بدھ موقع آن لائن
  19. darul ifta; question آن لائن ربط آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ darulifta-deoband.org (Error: unknown archive URL)

ملاحظات

کتابیات

دائرۃ المعارف

مزید پڑھیے

بیرونی روابط


منتخب مضمون

سنت ، عربی کا لفظ ہے اور اس کے بنیادی معانی ، روش یا راہ کے ساتھ دیگر معانی بھی ہوتے ہیں لیکن اسلامی دستاویزات میں اس سے عام طور پر مراد حضرت محمدMohamed peace be upon him.svg کی اختیار کردہ روشِ حیات یا طریقۂ زندگی کی ہی لی جاتی ہے۔ 569ء سے 632ء تک جو عرصہ محمدMohamed peace be upon him.svg نے اس دنیا میں انسانوں کے سامنے کتاب کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے گزارا وہ سنت کہلاتا ہے۔ خاتم الانبیا ہونے کی وجہ سے محمدMohamed peace be upon him.svg کی وفات نے آخری کتاب کے بعد ، اسلام کی تکمیل کرنے والے دوسرے منبع پر بھی اختتام کی مہر ثبت کردی۔ اس وقت سے لےکر آج تک مسلمان اسلام کے ان دو بنیادی ماخذ ، قرآن اور سنت ، کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

منتخب تصویر

پہلی چیچن جنگ کے دوران چیچن علیحدگی پسند لڑاکا دعا کرتے ہوئے۔
تصویر: میکائیل

پہلی چیچن جنگ کے دوران چیچن علیحدگی پسند لڑاکا دعا کرتے ہوئے۔

اس ماہ

ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہا) کا خطاطی نام

  • 902ء: 1 اگست — اغالبہ نے سسلی کے علاقہ تاورمینا کا محاصرہ کرلیا اور تاورمینا پر مکمل مسلم قبضہ ہوگیا۔ تاورمینا کی فتح کے بعد سسلی میں مسلم فتوحات مکمل ہوگئیں۔ یہ فتوحات جون 827ء میں شروع ہوئی تھی۔ اغالبہ نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر سسلی پر مکمل قبضہ کرلیا اور سسلی دولت اغالبہ کا حصہ بن گیا۔
  • 974ء: 4 اگست — عباسی خلیفہ المطیع باللہ 60 سال کی عمر میں بغداد میں فوت ہوا۔ اُس کا بیٹا الطائع باللہ خلیفہ بنا۔
  • 833ء: 9 اگست — عباسی خلیفہ مامون الرشید شام کے شہر الرقہ میں فوت ہوا۔المعتصم باللہ خلیفہ مقرر ہوا۔
  • 847ء: 10 اگست — عباسی خلیفہ الواثق باللہ فوت ہوا۔ المتوکل علی اللہ تخت نشیں ہوا۔
  • 819ء: 11 اگست — عباسی خلیفہ مامون الرشید بغداد میں داخل ہوا۔مامون الرشید نے بغداد کو دارالحکومت قرار دیا۔
  • 908ء:13 اگست — عباسی خلیفہ المکتفی باللہ بغداد میں 31 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ المعتضد باللہ کا دوسرا بیٹا المقتدر باللہ خلیفہ بنا۔
  • 902ء: 14 اگست — عباسی وزیر بدر المعتضدی کو بحالت نماز شہر المدائن میں قتل کردیا گیا۔ وہ 892ءمیں عباسی وزیر بنایا گیا تھا۔
  • 643ء: 22 اگست — کو ابوبکر صدیق (تصویر) کی وفات ہوئی۔
  • 944ء: 26 اگست — عباسی خلیفہ المتقی باللہ کو معزول کر دیا گیا۔بعد ازاں اُسے اندھا کر دیا گیا۔المستکفی باللہ خلیفہ بنا۔
  • 979ء: 29 اگست — ابو تغلب امیرموصل کو شہر رملہ میں قتل کردیا گیا۔

خبروں میں:

تازہ خبریں
ویکی اخبار باب اسلام
Read and edit Wikinews

زمرہ:اسلام

منتخب شخصیت

سلیمان اول

سلیمان اول (المعروف سلیمان قانونی اور سلیمان اعظم) سلطنت عثمانیہ کے دسویں فرمانروا تھے جنہوں نے 1520ء سے 1566ء تک 46 سال تک حکمرانی کے فرائض انجام دیئے۔ وہ بلاشبہ سلطنت عثمانیہ کے سب سے عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے بے مثل عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت پوری مملکت اسلامیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مملکت کے لئے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کا اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

Al-Musta'sim

ویکی منصوبے

منتخب اقتباس

مجھے اسلامی تصوف کی انسان دوستی، ذوق و وجدان، خدا سے بندوں کے تعلق اور انسانوں کے باہمی تعلقات کے متعلق واضح احکامات نے اسلام کی طرف ماہل کیا۔ (نو مسلم)
تصوف

مساجد


MoroccoMarrakech KoutoubiaMosqueTop.jpg

مسجد کتبیہ یا جامع کتبیہ (عربی: جامع الكتبية) مراکش کے شہر مراکش کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس مسجد کا مینار موحدین کے خلیفہ یعقوب المنصور (1184ء تا 1199ء) کے دور حکومت میں مکمل ہوا۔ یہ مسجد کتبیہ اس لئے کہلاتی ہے کیونکہ اس کے نیچے کتابوں کی دکانیں تھیں۔ اس زمانے میں مراکش میں لکھنے پڑھنے کا شوق انتہا درجے تک پہنچا ہوا تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کتابوں کی ان دکانوں کی تعداد ڈھائی سو تھی۔ اس مسجد کا مینار 69 میٹر (221 فٹ) بلند ہے۔ یہ مینار طرز تعمیر میں اپنے ہم عصر میناروں اشبیلیہ کے جیرالڈ اور رباط کے برج الحسان کے جیسا ہے کیونکہ یہ تینوں یعقوب المنصور کے عہد میں ہی تعمیر ہوئے۔ جیرالڈا اشبیلیہ کی جامع مسجد کا مینار ہے جبکہ برج الحسان یعقوب کے نامکمل منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یعقوب نے رباط میں دنیا کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر شروع کروائی لیکن اس کی تکمیل سے قبل ہی انتقال کر گیا جس کے باعث یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا اور صرف برج حسان اور بنیادی تعمیر ہی مکمل ہو سکی جو آج تک موجود ہے۔ مکمل مضمون

مسلمانوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہتے ہیں۔لفظ 'مسجد' کا لغوی مطلب ہے ' سجدہ کرنے کی جگہ'۔ اردو سمیت مسلمانوں کی اکثر زبانوں میں یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ عربی الاصل لفظ ہے۔ انگریزی اور یورپی زبانوں میں اس کے لیے موسک (Mosque) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اگرچہ بعض مسلمان اب انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں میں بھی 'مسجد' استعمال کرتے ہیں۔تاریخی طور پر یہ کئی حوالوں سے اہم ہیں مثلاً عبادت کرنے کے لیے، مسلمانوں کے اجتماع کے لیے، تعلیمی مقاصد کے لیے حتیٰ کہ مسلمانوں کے ابتدائی زمانے میں مسجدِ نبوی کو غیر ممالک سے آنے والے وفود سے ملاقات اور تبادلہ خیال کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مساجد (مسجد کی جمع) سے مسلمانوں کی اولین جامعات (یونیورسٹیوں) نے بھی جنم لیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی طرزِ تعمیر بھی بنیادی طور پر مساجد سے فروغ پایا ہے۔

منتخب مواد

اسلام میں مرد و عورت: قرآن ؛ واضح الفاظ میں عورت کو مرد کے مساوی حقوق فراھم کرتا ہے؛ ترجمہ؛ اور عورتوں کے بھی معروف طریقے پر حقوق ہیں ویسے ہی جیسے ان پر ہیں (مردوں کے) البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے (قرآن 2:228)۔ قرآن کی اس آیت کے بعد اسلام میں عورت کے مرد کی طرح معاشرے کا متحرک جز ہونے کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا۔ عورتوں کو جو مشکلات موجودہ اسلامی ممالک میں درپیش ہیں ان کی وجہ قرآن یا اسلام کی تعلیمات میں نہیں بلکہ اسکی بنیادی وجہ بذات خود قرآن کی تعلیمات سے ہٹے ہوۓ معاشرے اور (دانستہ یا نادانستہ) مذہب میں مدغم کر کے پیروی کی جانے والی علاقائی ثقافت و رسومات میں ہے۔ تعلیم کی کمی نے اسلامی معاشرے کو علوم و فنون میں تو ناکارہ کیا، اس کمی سے قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے کا عمل بھی متاثر ہوا۔ مندرجہ بالا آیت میں مردوں کو ایک درجہ بلند حاصل ہونے سے عورت کا درجہ معاشری یا انسانی حقوق کے اعتبار سے کم ہونے کا مفہوم نہیں نکلتا، اس موضوع کی مزید وضاحت مکمل مضمون میں آجاۓ گی۔ مکمل مضمون

زمرہ جات

C Puzzle.png

اسلامتاریخ اسلامبلحاظ براعظمبلحاظ ملکبلحاظ خطہبلحاظ مقامقرآنسنتسیرتحدیثفقہکتبادبمتونشاعریمعماریزمرہ:صحابہزمرہ:صحابیاتشخصیات

اسلام اور ۔ ۔ ۔

دیگر مذاہبسیاستغلامیمعاشرہجانورتشددرقص

آپ کیا کیا کرسکتے ہیں؟

آپ کیا کرسکتے ہیں؟
  • اسلامی مضامین کے آخر میں {{باب|اسلام}} کا اضافہ کرسکتے ہیں۔
  • اسلام سے متعلق مضامین تحریر کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
  • اس کے علاوہ آپ اسلام سے متعلق مضامین میں اضافہ کر کے بھی مدد کر سکتے ہیں۔
  • انگریزی ویکیپیڈیا سے اسلامی مضامین کا اردو میں ترجمہ کرسکتے ہیں۔

متعلقہ ابواب

ویکیمیڈیا ساتھی منصوبے

اسلام اسلام اسلام اسلام اسلام اسلام اسلام
ویکی اخبار
آزاد متن خبریں
ویکی اقتباسات
مجموعہ اقتباسات متنوع
ویکی کتب
آزاد نصابی ودستی کتب
ویکی منبع
آزاد دارالکتب
وکشنری
لغت ومخزن
ویکیورسٹی
آزاد تعلیمی مواد ومصروفیات
العام
انبار مشترکہ ذرائع
Wikinews-logo.svg
Wikiquote-logo.svg
Wikibooks-logo.svg
Wikisource-logo.svg
Wiktionary-logo-en.svg
Wikiversity-logo.svg
Commons-logo.svg
باب کو تازہ کیجیے