شریعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مجموعہ قوانین کو شریعت یا شرعی قوانین کہتے ہیں۔

شریعت کو نافذ کرنے والے ممالک کو انسانی حقوق ، مساوات ، خواتین کے حقوق ، بچوں کا تحفظ ، انفرادی ترجیحات اور انفرادی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی کمی جیسے معاملات پر بین الاقوامی تنظیموں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔[1] حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں انفرادی حقوق اور آزادیوں کا تصور شامل نہیں ہے ، اسلامی شریعت اور مغربی قانونی تفہیم کے مابین تنازع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔[2]کلاسیکی شرعی طریقوں میں سے کچھ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مشتمل ہیں۔ یہ لوگوں کو "مرتد" یا "منحرف" جیسی تعریفوں اور ان کو دی جانے والی سزاوں کے ساتھ لیبل لگا کر مجرم بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ، مطلق "پردہ - حجاب" کے طریقوں ، جن میں خواتین کی شناخت اور شخصیت کو ختم کرنے کی نوعیت ہے ، جس میں خواتین کو بغیر اجازت اور معاشرتی زندگی میں حصہ لینے کے اپنے گھر چھوڑنے کی ممانعت بھی شامل ہے ، اس دائرہ کار میں ہی اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

مذہبی جنگوں کا آغاز اور انعقاد۔ اس کے نتیجے میں ، شہریوں کو جنگ کے مال غنیمت کے طور پر استعمال کرنا جنگی جرم سمجھا جاسکتا ہے اور جب اس کا باقاعدگی سے اطلاق ہوتا ہے تو ، انسانیت کے خلاف جرم سمجھا جاسکتا ہے۔[3]

26 اگست 2001 کو افغانستان میں انقلابی ویمن لیگ کے ذریعہ چھپے ہوئے تصاویر۔ ایک خاتون کو مذہبی پولیس نے برقع (چہرہ) اتارنے پر عوام میں لاٹھی دے کر سزا دی ہے۔
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

شریعت کی اقسام[ترمیم]

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو شرعی احکام ہمارے سامنے ہیں وہ

  1. شریعت موسوی
  2. شریعت عیسوی
  3. شریعت محمدی

کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔

شریعت کا نفاذ[ترمیم]

کسی بھی شریعت یا قوانین کو نافذ کرنے کا عمل اس شریعت کا نفاذ کہلاتا ہے۔

اسلامی شریعت کا نفاذ[ترمیم]

اسلامی شریعت کے نفاذ کے حوالے سے دیکھا جائے تو صدر اسلام میں دور نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ خلافت راشدہ میں اسلامی قوانین نافذ تھے نیز عہد اسلامی کے کئی درخشاں ادوار میں شریعت کا نفاذ دنیا کے بہت وسیع علاقوں میں رہا ہے۔ موجودہ دور میں کئی ممالک شرعی قوانین کے نفاذ کے دعویدار ہیں۔ جیسے سعودی حکومت یا اسلامی جمہوریہ ایران نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بعض اسوار میں یہ دعوی رہا ہے اسی طرح افغانستان کی سابقہ طالبان حکومت نے اپنے ملک میں اسلامی شرعی قوانین نافذ کرنے کے دعوے کیے۔ اس وقت نائجیریا اور ملائیشیا کے کچھ صوبوں میں شرعی قوانین رائج کرنے کے دعویدار ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے علاقے سوات میں ہونے والا سوات معاہدہ عدل بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

خاص
قوانین بمطابق

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]