جہمیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

جہمیہ یہ جہم بن صفوان کے ساتھی ہیں۔
اس فرقے کا بانی جہم بن صفوان تھا ان کا عقیدہ تھا کہ انسان اپنے افعال میں مجبور محض ہے نہ اس میں قدرت پائی جاتی ہے نہ ارادہ اور نہ اختیار ۔(جمادات کی طرح کوئی قدرت نہیں رکھتے)ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ نے انسان کو جبرا گناہو ں پر لگا رکھا ہے۔ ایمان کے بارے میں اس کا عقیدہ تھا کہ ایمان صرف معرفت کا نام ہے جو یہودی نبی ﷺ کے اوصاف سے با خبر ہیں وہ مومن ہیں یہ فرقہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا منکر تھا ۔یہ کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے متصف نہیں کیا جا سکتا جن کا اطلاق مخلوق پر ہوتا ہے ۔ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا انکار کرنا توحید ہے ۔ جنت و دوزخ میں لوگوں کو داخل کر کے فنا کر دیا جائےگااس کے بعد فقط اللہ کی ذات باقی رہے گی۔[1]

فرقہ جہمیہ کے عقائد[ترمیم]

فرقہ جہمیہ کے چند اصولی اور بنیادی عقائدکا ذکر کیا جاتا ہے جو اہل سنت کے عقائد سے الگ ہیں ۔

  • (1) ایمان صرف معرفت قلب کا نام ہے اگر وہ حاصل ہے تو انکار لسان کے باوجود بندہ کامل الایمان ہے ۔
  • (2) ایمان کے بعد اعمال صالحہ کی کوئی ضرورت نہیں اور افعال سیۂ سے بھی ایمان متا ثر نہیں ہوتا ۔
  • (3) تمام افعال کا اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے ۔
  • (4) بندہ مجبور محض ہے اسے کوئی اختیار نہیں ۔
  • (5) کلام اللہ حادث اور مخلوق ہے ۔
  • (6) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی چیز قدیم نہیں ۔
  • (7) رؤیت باری تعالیٰ محال اور قطعا نا ممکن ہے ۔
  • (8) انبیاء اور ان کے امتیوں کا ایمان یکساں اور ایک درجہ کا ہے اس میں کوئی تفاوت نہیں ۔
  • (9) اللہ تعالیٰ کا علم حادث ہے کسی چیز کے وجود اور اسکی خلقت سے پہلے اللہ کو اس کا علم نہیں ہوتا ۔
  • (10) جنت اور جہنم کو ان کے مستحقین کے داخل ہو نے کے بعد فنا کر دیا جائیگا قرآن کریم وحدیث میں خالدین وغیرہ جیسے الفاظ کثرت کے معنیٰ میں وارد ہوئی ہیں ۔
  • (11) اللہ کو کسی ایسی صفت کے ساتھ متصف کرنا جائز نہیں جو بندوں میں پائی جاتی ہو یہی وجہ ہے کہ جہمیہ نے اللہ تعالیٰ کے حی اور عالم ہو نے کا انکار کردیا کیونکہ یہ بندوں کے بھی اوصاف ہیں اور اللہ تعالیٰ کو صرف فاعل وقادر قراردیا کیونکہ یہ بندوں کے اوصاف نہیں ہیں ۔
  • (12) جہمیہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا صراحتا انکار کرتے ہیں ۔
  • (13) معتزلہ کی طرح یہ بھی ہر اس غیبی خارق عادت ثابت شدہ امر کا ناکار کرتے ہیں جو ان کی عقل سے با ہر ہو ۔
  • (14) باری تعالیٰ کیلئے تحیز با لمکان کے قائل ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خزائن التعریفات ، محمد انس رضا قادری، صفحہ 124،والضحیٰ پبلیکیشنز لاہور
  2. http://algazali.org/index.php?threads/%D9%81%D8%B1%D9%82%DB%81-%D8%AC%DB%81%D9%85%DB%8C%DB%81.8417/