ابن تیمیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن تیمیہ
ابن تیمیہ

معلومات شخصیت
پیدائش 22 جنوری 1263[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
حران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 ذوالقعدہ 728ھ، بمطابق 26 ستمبر، 1328ء (عمر 64–65)[2][3]
دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش حران (1263–1268)
دمشق (1268–1328)
قلعہ صلاح الدین ایوبی (1306–1308)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
قومیت شام، زیر اقتدار باہری سلطنت مملوک Mameluke Flag.svg
نسل کردی یا عربی
فرقہ اہل سنت[4]
فقہ حنبلی[4][5]
عملی زندگی
مادر علمی مدرسہ در الحدیث الشکریہ
قابل ذکر شاگرد ابن قیم،  ذہبی،  ابن کثیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان،  فقیہ،  مفسر قرآن،  محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل اسلامی الٰہیات،  فقہ،  تفسیر قرآن،  علم حدیث،  سیاست  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر احمد بن حنبل،[4] ابن قدامہ
متاثر ابن القیم، علامہ ذہبی، شمس الدین محمد بن مفلح، حافظ مزی، محمد بن عبد الہادی، ابن کثیر، ابن الوردی، شاہ ولی اللہ، محمد بن عبدالوہاب
P islam.svg باب اسلام

ابن تیمیہ کا اصل نام احمد، کنیت ابوالعباس اورمشہور ابن تیمیہ ہے621ھ میں پیدا ہوئے اور قلعہ دمشق ملک شام (سوریا) میں بحالت قید و بند 20 ذوالقعدہ 728ھ میں وصال ہوا۔

ابتدائی زندگی

کسی عالم کی عظمت اور مرتبے کا اندازہ اس کے شاگردوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ امام ابن تیمیہ کے شاگردوں میں امام ابن قیمؒ اور مشہور مفسر قرآن حافظ ابن کثیرؒ جیسی عظیم المرتبت علما بھی شامل ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ 661 ہجری میں موجودہ ترکی کے علاقے حران میں پیدا ہوئے۔ ان کے بچپن میں ان کا گھرانہ تاتاریوں کے حملوں کی وجہ سے ہجرت کرکے شام آ گیا۔

شیخ الاسلام تقی الدین ابو العباس احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن عبد اللہ بن الخضر بن محمد بن الخضر بن علی بن عبد اللہ ابن تیمیہ نمیرى، حرانى، دمشقى، حنبلى، عہد مملوکى کے نابغہ روزگار علما میں سے تھے۔ اللہ تعالى نے انہیں ایک مجدد کى صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ نے عقائد، فقہ، رد فرق باطلہ، تصوف اور سیاست سمیت تقریبا ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور اہل علم میں منفرد مقام پایا۔ آپ بہت فصیح اللسان اور قادر الکلام تھے۔ علم وحکمت، تعبیر وتفسیر اور علمِ اصول میں انہیں خاص مہارت حاصل تھی۔

پہلا درس

اپنے والد کى وفات کے بعد دمشق کے دارالحدیث السکریة کى مسندِ حدیث پر جب آپ نے پہلا درس دیا، اس وقت آپ کى عمر بیس سال کے قریب تھی، اس میں قاضی القضاة اور دیگر مشایخ زمانہ موجود تھے۔ آپ نے صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بارے میں اتنے نکات بیان کیے کہ سامعین دنگ رہ گئے۔ شیخ الاسلام تاج الدین فزارى شافعى ( 690 ہجرى) نے ان کا پورا درس حرف بحرف قلم بند کر کے دارالحدیث السکریة کے کتب خانہ میں محفوظ کروا دیا۔

علمی مناظرے

ذہانت اور بے پناہ علمى قابلیت کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی۔ آپ نے اپنے دور کے کئى علما کے ساتھ علمى مناظرے بھی کیے اور حکومتِ وقت کے ساتھ مل کر تاتاریوں اور باغیوں کے خلاف عملى جہاد میں بھی حصہ لیا۔ نفاذِ شریعت کى کوششوں کے سلسلہ میں آپ کئى تجاویز و شکایات لے کر وفود کے ساتھ حکام کے پاس بھی جاتے رہے۔ آپ کا انداز محققانہ اور محتاط تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو قاضى کا عہدہ بھی پیش کیا گیا مگر آپ نے حکومتى شرائط سے متفق نہ ہونے کى وجہ سے اسے قبول نہیں کیا۔

تاتاری بادشاہ غازان سے ملاقات

موصوف کى انسانیت دوستى کا یہ عالم تھا کہ شام کے جنگی قیدیوں کى رہائی کے لیے تاتارى مسلمان بادشاہ غازان کے پاس جا پہنچے۔ اس نے آپ کے احترام میں صرف مسلمان قیدیوں کى رہائی کا اشارہ دیا تو آپ اس پر راضى نہ ہوئے اور یہ کہہ کر سب قیدیوں کى رہائی پر اصرار کیا کہ یہودی اور نصرانى بھی ہماری رعایا ہیں اور ان کے جان ومال کى حفاظت ہم پر ضرورى ہے چنانچہ سبھی کو رہا کر دیا گیا۔ آپ بے باک اس قدر تھے کہ 27 ربیع الاول 699 ہجرى کو جب شام کے شہر حمص اور سلمیہ کے درمیان وادى خازندار میں تاتارى سلطان غازان اور سلطانِ مصر ملک ناصر محمد بن قلاؤن کے درمیان سخت لڑائی کے نتیجے میں بہت تباہی ہوئی، مصرى اور شامى فوجوں کا بہت نقصان ہوا اور ملک ناصر بھی فرار ہو کر قاہرہ پہنچ گئے تو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مشائخ دمشق کو لے کر 3 ربیع الثانی 699 ہجری کو بعلبک کے قریب تاتارى بادشاہ غازان سے ملاقات کرنے پہنچ گئے۔ انہوں نے بادشاہ کے سامنے بہت پر حوش انداز میں عدل و انصاف کى خوبیاں بیان کیں اور اس کے آباؤ اجداد کے مظالم کے ساتھ ساتھ ان کے بعض اصولوں اور وفائے عہد کا تذکرہ کیا۔ غازان اگرچہ اس سے قبل ہی مسلمان ہو چکا تھا مگر تاتارى اور غیرتاتارى کى لڑائی تسلسل سے جارى تھی۔ آپ کى تقریریں اس قدر سخت اور جملے اس قدر تندوتیز تھے کہ پورے وفد کو آپ کے قتل ہو جانے کا یقین ھو چلا تھا۔ غازان نے انہیں قتل کرنے کى بجائے اپنے امرا کے سامنے ان کى بے باکى اور شجاعت کى تعریف کى اور ان سے دعاؤں کى درخواست کى۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کے لیے یہ دعا کى : " اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ غازان تیرا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑ رہا ہے اور وہ تیرى راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہے تو تو اس کى مدد کر۔ اور اگر تیرے علم میں ہے کہ وہ مال ودولت حاصل کرنے کے لیے نکلا ہے تو اس کو اس کى پوری جزا عطا کر ۔" غازان اس پوری دعا پر آمین کہتا رہا! آپ کى حق گوئی اور بے نفسى کا یہ عالم تھا کہ غازان نے آپ کے وفد کے لیے دسترخوان لگوایا مگر آپ نے وہاں کھانے سے انکار کر دیا اور کہا: "میں یہ کھانا کیسے کھا سکتا ہوں جب کہ اس کو لوٹ کھسوٹ کے مال سے تیار کیا گیا ہے؟"

ابن تیمیہ کے بعض عقائد ومسائل

امام ابن تیمیہ کے زمانے میں مسلمانوں میں یونانی فلسفہ اور منطق کا بہت چرچا تھا۔ یونانی فلسفے کے آمیزش کی وجہ سے مسلمانوں کے بہت سے عقائد خراب ہو گئے تھے۔ فلسفیوں اور خود فلسفے سے متاثرہ مولویوں نے بھی عجیب و غریب عقائد کو فروغ دینا شروع کر دیا تھا۔ بات یہ ہے کہ اسلام بہت ہی سادہ سا دین ہے۔ ایک عام انسان بھی قرآن و حدیث کو سمجھ کر پڑھ سکتا اور اس سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ جہاں کوئی بات سمجھ نہ آئے وہاں انسان علما سے رہنمائی حاصل کرے۔ قرآن و حدیث میں توحید، رسالت، جہاد، سود، زنا، نماز، روزہ، زکوۃ غرض تمام تر شعبوں میں سادہ زبان میں رہنمائی کی گئی ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ قرآن و حدیث میں عجیب و غریب موشگافیاں کرتے اور نت نئی تاویلات پیش کرکے سادہ لوح لوگوں کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عجیب و غریب فلسفے جھاڑتے ہیں۔ شاید ان کا مقصد اپنی بڑائی کا اظہار کرنا، علم کا رعب جمانا ہوتا ہے۔ یا پھر وہ نادان یا بھٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ تو امام ابن تیمیہؒ جب پیدا ہوئے وہ دور بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ امام ابن تیمیہ نے فلسفے کا پرزور انداز میں رد کیا۔ مسلمان جو یونانی فلسفے سے بہت زیادہ مرعوب ہو گئے تھے، انہیں اس سحر سے نکالا۔ اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کو بہت سادہ اور آسان کرکے عوام الناس کے سامنے پیش کیا۔

ابن عربی کا رد

ان کے زمانے میں ایک فلسفی تھا ابن عربی جس نے ’’عقیدہ وحدۃ الوجود‘‘ کو نئے سرے سے پیش کیا۔ عام لوگ تو ایک طرف علمی طبقوں میں بھی ابن عربی کی تعلیمات و عقائد کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے عقائد میں بہت زبردست بحران پیدا ہوا۔ امام ابن تیمیہؒ نے پرزور انداز میں عقیدہ وحدہ الوجود اور ابن عربی کے افکار کا رد کیا اور اسے قرآن و حدیث کے خلاف ثابت کیا۔ دیکھا جائے تو مسلمانوں پر امام ابن تیمیہؒ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کے چشمہ صافی کو بدعات و خرافات سے پاک صاف کر دیا۔

شاہ ولی اللہ کا بیان

ہم فقہا یا ائمہ کی پیروی یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کے عالم ہیں۔ لیکن اگر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی صحیح حدیث پہنچ جائے جو اس عالم کے موقف کے برخلاف ہو، تو اس کے بعد اگر ہم حدیث کو رد کرکے اپنے فقہ کی پیروی کریں تو ہم سے زیادہ ظالم اور کون ہوگا اور ہم قیامت میں اپنے خدا کو کیا جواب دیں گے۔ امام ابن تیمیہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ کسی خاص فقہ پر چلنا ایک قدرتی بات ہے اور ایسا شروع سے ہوتا چلا آیا ہے۔ لیکن مسلمان کو جب کبھی قرآن و حدیث سے کوئی دلیل پیش کی جائے تو اسے بلاتردد اپنے پچھلے طرز عمل کو چھوڑ کر قرآن و سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔ پھر جہاد کے محاذ پر بھی امام ابن تیمیہؒ سرگرم رہے اور تاتاریوں کا مقابلہ کیا۔ کتاب کے مطالعے سے ایک حیرت انگیز بات یہ پتہ چلی کہ اس زمانے میں شام پر حملہ کرنے والے تاتاری مسلمان تھے۔ ان کے بادشاہ کا نام قازان تھا جس کی حکومت ایران اور عراق پر تھی۔ قازان نے شام پر حملہ کیا اور اس کے حکمراں کو شکست دے دی۔ اس وقت شام میں شدید افراتفری مچی ہوئی تھی۔ ایسے میں امام ابن تیمیہ علما کا ایک وفد لے کر قازان سے ملے اور اس کو عدل و انصاف قرآن و حدیث کا درس دیا۔ امام ابن تیمیہ نے قازان سے کہا کہ تم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہو لیکن اس کے باوجود تم نے ہم پر حملہ کیا۔ قازان امام سے بہت متار ہوا اور اس نے تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیا۔ راوی لکھتا ہے کہ امام ابن تیمیہ نے قازان سے اتنی سخت گفتگو کی کہ ہم ڈر رہے تھے جلاد کو ابھی گردن اڑانے کا حکم ہوا۔ امام سے ملاقات کے بعد بھی قازان نے شام و مصر کو فتح کرنے کا ارادہ ترک نہ کیا اور حالات بدستور خراب ہی رہے۔ امام نے عوام الناس کو جہاد پر ابھارا اور قتال کی ترغیب کی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ دمشق کے معاملات عملا امام ابن تیمیہ کے ہاتھ میں آ گئے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے شہر میں شراب خانوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ تاتاریوں نے ایک بار پھر شام کا رخ کیا۔ اس دوران میں سوال اٹھا کہ تاتاری بھی مسلمان ہیں تو ان سے جنگ کا کیا حکم ہے۔ تو امام نے ان تاتاریوں کو خوارج قرار دیکر کہا کہ اگر تم تاتاریوں کی صف میں مجھے بھی دیکھو تو میری بھی گردن اڑا دینا۔ بہرحال تاتاریوں کا لشکر آن پہنچا۔ اسماعیلیوں نے تاتاریوں کا پورا ساتھ دیا۔ اسلامی فوج اور تاتاریوں میں جنگ ہوئی جس میں اسلامی لشکر کو فتح ہوئی۔

بدعات و شرک کی مخالفت

جنگ ختم ہونے کے بعد امام نے بدعت اور شرک کے خلاف پوری طاقت سے سرگرم ہو گئے۔ ایک چٹان تھی جہاں لوگ منت مانتے تھے۔ امام نے اس چٹان کو توڑا۔ پھر انہوں نے ملحدوں اور، نصیری قبائل کے خلاف لشکر کشی کی کیونکہ انہوں نے مسیحیوں اور تاتاریوں کو شام پر حملے کی دعوت دی تھی۔ اس طرح کرتے کرتے امام ابن تیمیہؒ کا زور بہت بڑھ گیا۔ وہ دیکھتے کہ جہاں حکومت منکر کو ختم کرنے میں سستی کر رہی، تو قانون ہاتھ میں لے کر خود شرعی حکم نافذ کردیتے۔ اس کے نتیجے میں مولویوں اور حاسدوں کا ایک طبقہ ان کا مخالف ہو گیا۔ مناظرے شروع ہو گئے۔ لوگوں نے سلطان کو شکایت کردی جس نے امام کو دار الخلافہ مصر طلب کر لیا۔ انہیں ایک سال تک قید کر دیا گیا۔ تو انہوں نے جیل میں ہی دعوت و تبلیغ کا اتنا کام کیا کہ قیدیوں کی حالت ہی بدل گئی۔ رہائی کے بعد دوبارہ درس و تدریس میں مصروف ہو گئے۔ انہیں پھر نظر بند کر دیا گیا لیکن کچھ عرصے بعد پھر رہا کر دیا گیا۔ اس دوران مصر کا سلطان ناصر تبدیل ہو گیا۔ نئے حکمراں رکن الدین نے پھر امام کو قید کر دیا۔ ایک سال بعد سلطان ناصر دوبارہ حکومت میں آیا تو اس نے امام کو رہا کیا۔ سلطان ناصر امام کا بہت احترام کرتا تھا۔ امام چاہتے تو اپنے تمام مخالفین کو سزا دلوا سکتے تھے لیکن انہوں نے سب کو معاف کر دیا۔ پھر دوبارہ درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ اس دوران میں تین طلاقوں کا مسئلہ سامنے آیا۔ امام نے فتویٰ دیا کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دراصل ایک ہی طلاق شمار ہوگی، جس کے بعد رجوع کیا جاسکتا ہے۔ پھر ایک مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کا اٹھا۔ امام نے کہا کہ کسی کی بھی قبر کی زیارت کے لیے اہتمام سے سفر کرکے جانا جائز نہیں۔ اس معاملے پر حکومت نے امام ابن تیمیہؒ کو ان کے شاگرد امام ابن قیمؒ کے ساتھ دوبارہ قید کر دیا۔ اور اسی میں ان کی موت ہو گئی۔ درحقیقت امام ابن تیمیہؒ کی زندگی اور جدوجہد انتہائی سیرحاصل ہے جسے ایک کتاب اور خلاصے میں بیان کرنا ناممکن ہے۔

دور جدید پر ابن تیمیہ کے اثرات

امام ابن تیمیہ نے جہاد کا مشہور فتویٰ جاری کیا جس کا القاعدہ اور دیگر جہادی تنظیمیں اپنے مقاصد کے لیے حوالہ بھی دیتی ہیں۔ سعودی عرب کے مشہور عالم دین محمد بن عبد الوہابؒ کی تحریک پر امام ابن تیمیہؒ کی تعلیمات کا بہت زیادہ اثر ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے لوگوں کو مزاروں پر جانے اور بزرگان دین کو وسیلہ بنانے سے منع کیا۔ جب وہ تیس سال کے تھے تو ایک مسیحی پادری اصف النصرانی نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ حکومت نے النصرانی کو کہا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو اس کی جان بخشی جاسکتی ہیں۔ وہ راضی ہو گیا۔ لیکن امام ابن تیمیہؒ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہو یا کافر اگر بقائمی ہوش و حواس توہین رسالت کرے گا تو اس کی گردن اڑائی جائے گی۔ اس پر حکومت نے انہیں قید کر دیا۔ اسی قید میں انہوں نے اپنی پہلی معرکہ آرا کتاب ’’الصارم المصلول علی شاتم الرسول‘‘ لکھی۔ یہ کتاب مکتبہ قدوسیہ لاہور سے اردو زبان میں بھی شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے نام کے معنی ہیں ’’شاتم رسول کے سر پر لٹکتی ننگی تلوار‘‘۔ موجودہ حالات میں اس کتاب کا مطالعہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اپنے شاگردوں کی مدد سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تحریک چلائی۔ اس دوران میں انہوں نے ہاتھ سے لوگوں کو گناہوں سے روکا اور سزائیں دیں۔ جب مملوک حکمراں الملک المنصور نے لبنان کے پہاڑوں میں علوی قبائل (بشارالاسد کا تعلق بھی علوی خاندان سے ہے) کے خلاف کارروائی کی تو امام نے متعدد بار حکومت کا ساتھ دیا۔ کیونکہ وہ علویوں کو یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ ملحد قرار دے دیتے تھے۔ اور اس لیے بھی کہ انہوں نے بغداد و شام پر حملے میں صلیبیوں اور تاتاریوں کی مدد کی تھی۔ جب تاتاری رہنما قازان خان نے شام پر حملہ کیا تو تب امام ابن تیمیہ نے اپنا مشہور فتویٰ جاری کیا کہ تاتاری جو اگرچہ اسلام قبول کرچکے ہیں لیکن ان کے خلاف جہاد فرض کفایہ ہی نہیں بلکہ جہاد فرض عین ہے، کیونکہ وہ شریعت کی بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت نہ صرف حکومت کرتے ہیں بلکہ انہیں شریعت سے بہتر بھی سمجھتے ہیں لہذا وہ حالت جاہلیت میں ہی ہیں۔ دراصل تاتاریوں نے اسلام تو قبول کر لیا تھا لیکن اپنے پرانے ’’الیاسق قانون‘‘ کو برقرار رکھا تھا اور شریعت کو نافذ نہیں کیا تھا۔ یہ کسی عالم کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا پہلا فتویٰ تھا۔ اور آج جہادی تنظیمیں اسی کو اپنا جواز بناتی ہیں۔ پھر مصر و شام کی اسلامی فوج اور تاتاری فوج میں جنگ ہوئی جس میں امام ابن تیمیہ نے خود بھی شرکت کی۔ امام کے دونوں مشہور شاگردوں امام ابن قیم اور حافظ ابن کثیر نے بھی اپنے استاد کے اس موقف کی تائید کی۔ بیلجیئم کے ایک مسلمان پروفیسر یحیٰ مچوٹ امام ابن تیمیہ کو القاعدہ کا نظریاتی جد امجد قرار دیتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے دنیا کو چار خانوں میں تقسیم کرنے کا تصور پیش کیا۔ دارالاسلام جہاں مسلمان بستے ہوں اور شریعت نافذ ہو، دارالکفر جہاں کفار بستے ہوں اور کفر کی حکومت ہو، دارالحرب کفار کا وہ ملک جس سے دارالاسلام کی جنگ ہو رہی ہو اور دارالمرکب مسلمانوں کا وہ علاقہ جہاں شریعت نافذ نہ ہو۔ امام ابن تیمیہ سے ایک اور تصور ’’شریعت نافذ نہ کرنے والے مسلم حکمران کو قتل کرنا جائز ہے ‘‘ بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے سابق رابطہ کار ڈینیئل بنجمن نے اپنی کتاب میں دور جدید کی اسلامی تحریکوں کو ابن تیمیہ کے بچے قرار دیا۔

فتویٰ ماردین

امام ابن تیمیہ کے اس فتویٰ کو بھی القاعدہ و دیگر جہادی تنظیمیں دلیل بناتی ہیں۔ دراصل ماردین مسلم اکثریتی علاقہ تھا جس پر تاتاریوں (جو اسلام قبول کرچکے تھے) نے قبضہ کر لیا تھا اور وہاں ظلم و ستم کر رہے تھے۔ وہاں کے لوگوں نے پوچھا کہ ہمارا علاقہ دارالحرب ہے یا دارالکفر تو امام تیمیہ نے اسے دارالمرکب کا نام دیا جہاں کے رہنے والے مسلمانوں سے ویسا سلوک کیا جائے گا جس کا وہ مستحق ہے مگر شریعت چھوڑنے والے سے جنگ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا تاتاری حکمراں قازان اور اس کی فوج نے شریعت قبول نہیں کی اس لیے وہ غیر مسلم ہیں۔ اور جو کوئی ان کی مدد کرے گا وہ زندیق یا منافق کہلائے گا۔

صوفیا بارے عقائد

بہت سے لوگ امام کو صوفی ازم کا مخالف سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ صوفی ازم کو اسلام کا اہم ترین حصہ سمجھتے تھے۔ تاہم وہ صوفی ازم میں در آنے والی خرابیوں و بدعات کو ختم اور اصلاحات کرنا چاہتے تھے۔ وہ صوفیا مثلا جنید بغدادی، بایزید بسطامی و دیگر کا بہت احترام کرتے تھے اور ان کے افکار کو سراہتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق انہوں نے 700 سے زیادہ کتابیں لکھیں تاہم ان کی بہت سے کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں اور گردش دوراں میں گم ہوگئیں۔

تصانیف

الدین زرکلى نے دُرر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آپ کى تصانیف چار ہزاراجزاء سے متجاوز ہیں۔ فوات الوفیات میں ان کى تعداد تین سو مجلد منقول ہے۔ ان میں سے آپ کا ایک مبسوط فتاوى، الجوامع، السیاسة الشرعیة، الجمع بین العقل والنقل، الصارم المسلول على شاتم الرسول، رفع الملام عن الأئمة الأعلام، مجموعة الرسائل والمسائل بھی ہیں۔ آپ کے حالات زندگی پر ابن قدامہ نے العقود الدریة فی مناقب شیخ الإسلام أحمد بن تیمیة، شیخ مرعى حنبلى نے الکوکب الدریة، سراج الدین عمر البزار نے الأعلام العلیة فی مناقب ابن تیمیة، عبد السلام حافظ نے الإمام ابن تیمیة، شیخ محمد ابو زہرہ نے ابن تیمیة ؛ حیاتہ وعصرہ_ آراؤہ وفقهہ اور اسى طرح شہهاب الدین أحمد بن یحیى بن فضل اللہ العمری، ابو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عبد الهادی الحنبلی، وغیرہ کئى اہل علم نے علاحدہ علاحدہ کتابیں لکھیں۔ اردو میں آپ کى سوانح پرڈاکٹر غلام جیلانى برق کى کتاب امام ابن تیمیہ، افضل العلماء محمد یوسف کوکن عمرى کى مبسوط کتاب امام ابن تیمیہ اور مولانا ابو الحسن على ندوى کى کتاب تاریخ دعوت وعزیمت جلد دوم بہت مفید ہیں۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں سے ایک کتاب منہاج السنہ النبویہ فی نقض الکلام شیعہ و قدریہ بہت مشہور ہے۔

وفات

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کسى کے خوف اور دباؤ کی پروا کیے بغیر اپنی منفرد علمى تحقیقات کى اشاعت کى۔ اپنے بعض علمى مباحثوں اور فتووں کى وجہ سے آپ کو ایک مدت تک قید وبند کى صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں، حتى کہ جب داعئ اجل کو لبیک کہنے کا وقت آیا تو آپ زندگی کى آخرى قید برداشت کر رہے تھے اور آپ کا جنازہ جیل ہی سے نکلا۔ آپ کى کل مدت قید سوا چھ سال بنتى ہے۔

دیکھیے

حوالہ جات

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12107755h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب "Ibn Taymiyya, Taqi al-Din (661-728 AH)/ (1263–1328 CE)"۔ Muslimphilosophy.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-06-09۔
  3. "Ibn Taymiyyah: Profile and Biography"۔ Atheism.about.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-06-09۔
  4. ^ ا ب پ Aḥmad ibn ʻAbd al-Ḥalīm Ibn Taymiyyah۔ Kitab Al-Iman۔ Kuala Lumpur: Islamic Book Trust۔ آئی ایس بی این 978-967-5062-28-5۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جنوری 2015۔
  5. "Ibn Taymiyyah"۔ Encyclopædia Britannica۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جنوری 2015۔
  6. Ibn Taymiyyaẗ — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  7. Abdul Hakim Al-Matroudi۔ The Hanbali School of Law and Ibn Taymiyyah۔ Routledge۔ صفحہ 53۔ آئی ایس بی این 0-415-58707-7۔
  8. Jeffry R. Halverson۔ Theology and Creed in Sunni Islam۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 48۔ آئی ایس بی این 0-230-10279-4۔
  9. Jonathan A.C. Brown۔ "Salafism – Islamic Studies – Oxford Bibliographies"۔ Oxford Bibliographies۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2015۔