عبد الرحمن بن علی حلوانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الرحمن بن علی حلوانی
(عربی میں: عبد الرحمن بن علي الحلواني خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1097  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 جولا‎ئی 1151 (53–54 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
پیشہ فقیہ،  ومفسر قرآن،  وتاجر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل حنبلی،  وتفسیر قرآن،  وعلم حدیث،  واصول فقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو محمد عبد الرحمن بن ابو الفتح علی حلوانی بغدادی، اصولی اور فقیہ تھے، عباسی عہد میں عراق کے مشہور مفسر تھے۔

ولادت اور حالاتِ زندگی[ترمیم]

بغداد میں سنہ 490 ہجری مطابق 1097 عیسوی میں پیدا ہوئے، اپنے والد اور ابو الخطاب سے فقہ کا علم حاصل کیا، حسین خلال اور ان کے طبقہ کے محدثین سے علم حدیث حاصل کیا، فقہ اور اصول فقہ میں بڑے ماہر تھے، مناظرہ، حدیث، فتویٰ اور تصنیف سے زیادہ اشتغال تھا، چھٹی صدی ہجری مطابق بارہویں صدی عیسوی کے حنبلی مذہب کے فقہا میں شمار ہوتا ہے، ادب سے بھی اچھی معرفت حاصل تھی، سرکہ کی تجارت کیا کرتے تھے، اسی کی کمائی سے گزر بسر کرتے، کسی سے کوئی چیز نہیں لیتے تھے۔[1][2][3][4]

سیرت[ترمیم]

  • ابن شافع کہتے ہیں: «عبد الرحمن حلوانی فقیہ تھے، فتویٰ دیا کرتے تھے، ان کے دیار کے لوگ ان سے استفادہ کرتے تھے۔»
  • ابن نجار کہتے ہیں: «بھلائی، صلاح اور فضل سے متصف تھے۔»
  • ابن الجوزی کہتے ہیں: «سرکہ کی تجارت کرتے تھے، اسی سے نفع کماتے تھے، کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتے تھے۔»

اساتذہ[ترمیم]

  • ان کے والد ابو الفتح علی حلوانی
  • علی بن ایوب بزار
  • مبارک بن عبد الجبار
  • حسین خلال
  • ابو نصر بن ودعان

تلامذہ[ترمیم]

یحی بن طاہر بن نجار واعظ اور دوسرے لوگوں نے استفادہ کیا۔

تالیفات[ترمیم]

  • تفسیر القرآن (41 اجزاء پر مشتمل ہے)
  • التبصرہ فی الفقہ
  • الہدایہ فی اصول الفقہ

وفات[ترمیم]

وفات 30 ربیع الاول سنہ 546 ہجری مطابق 26 جولائی 1151 عیسوی میں ہوئی۔ نماز جنازہ اگلے روز جبلہ کی پرانی عید گاہ میں ہوئی، اور مامونیہ میں دفن کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عادل نويهض۔ معجم المفسرين من صدر الإسلام حتى العصر الحاضر (اشاعت الثالثة۔)۔ بيروت، لبنان: مؤسسة نويهض الثقافية للتأليف والترجمة والنشر۔ صفحہ 273۔
  2. "الذيل على طبقات الحنابلة"۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2018۔
  3. خير الدين الزركلي۔ الأعلام۔ لبنان: دار العلم للملايين۔ صفحہ 121۔
  4. كامل سلمان الجبوري۔ معجم الأدباء من العصر الجاهلي حتى سنة 2002 (اشاعت الأولى۔)۔ لبنان: دار الكتب العلمية۔ صفحہ 404۔