منصور بہوتی
| منصور بہوتی | |
|---|---|
| (عربی میں: البهوتي) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1591ء |
| وفات | 19 جولائی 1641ء (49–50 سال) قاہرہ |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | جامعہ الازہر |
| استاذ | عبد اللہ بن عبد الرحمن دنوشری ، محمد بن احمد مرداوی ، عبد الرحمن بہوتی |
| تلمیذ خاص | ابن فقیہ فصہ ، محمد خلوتی ، مرعی کرمی ، احمد بن یحیی کرمی ، یوسف بن یحیی کرمی |
| پیشہ | مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی |
| شعبۂ عمل | فقہ |
| کارہائے نمایاں | کشاف القناع عن متن الاقناع ، دقائق اولی النہی لشرح المنتہی ، الروض المربع بشرح زاد المستقنع (کتاب) ، عمدۃ الطالب لنیل المآرب |
| درستی - ترمیم | |
منصور بن یونس بُہوتی (عربی: البهوتي؛ ولادت: 1592ء - وفات: جولائی 1641ء) مصری حنبلی فقیہ تھے۔ ان کو مصر میں حنابلہ کا آخری نمائندہ (خاتمۃ المحققین) شمار کیا جاتا ہے۔[1]
علمی کاوشیں
[ترمیم]منصور بن یونس بُہوتی کی علمی عظمت کا ایک نمایاں پہلو ان کا فقہی اسلوب ہے جو اختصار، وضوح اور گہرے فقہی ادراک پر مبنی ہے۔ مصر میں جب حنبلی فقہ کے مدارس اور حلقے سکڑنے لگے تو بُہوتی نے اپنے درس و تدریس اور تصنیفی محنت سے اس منہج کی بقا میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اُن کے معاصرین نے اعتراف کیا ہے کہ اگر بُہوتی کی تصانیف اور ان کی تدریسی سرگرمیاں نہ ہوتیں تو مصر سے حنبلی فقہ تقریباً مفقود ہو جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے فقہا نے انھیں "خاتمۃ المحققین" اور "فقہ حنبلی کا ستون" لکھا۔
بُہوتی نے فقہِ حنبلی کے اصول و فروع کو عام طلبہ کے لیے آسان بنانے کی خاطر متعدد شرحیں اور حواشی تحریر کیے۔ ان کی تصانیف میں واضح استدلال، دقیق فقہی نکتے اور سابق ائمہ کے اقوال کی محتاط جمع و ترتیب ملتی ہے۔ ان کا طریقۂ تحریر یہ تھا کہ پہلے اصل مسئلہ کو بیان کرتے، پھر اس کے دلائل، ترجیحات اور معتبر اقوال نقل کرتے اور آخر میں عملی احکام پر روشنی ڈالتے۔ ان کی یہ علمی پختگی نہ صرف اُن کے معاصرین بلکہ بعد کے کئی صدیوں تک اہلِ علم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی رہی۔
انھوں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ تدریس میں گزارا۔ ان کے حلقۂ درس میں مصر، شام اور حجاز سے آئے ہوئے طلبہ شریک ہوتے اور اُن کے زیرِ تربیت کئی قابل فقہا نے جنم لیا جنھوں نے آگے جا کر فقہِ حنبلی کی روایت کو زندہ رکھا۔ مؤرخین کے مطابق بُہوتی کے درس کا ماحول غیر معمولی وقار، سکوت اور احترام سے بھرپور ہوتا تھا۔ وہ طلبہ کو فقہی مناظرے کی بجائے علمی تحقیق، دلائل کی جانچ اور احتیاط پر زور دیتے تھے۔
تصانیف
[ترمیم]ان کی مشہور تصانیف میں کشاف القناع عن متن الاقناع، شرح منتهى الإرادات، دقائق أولي النهى اور العُده شرح العمدة خاص طور پر اہم ہیں۔ کشاف القناع کو حنبلی فقہ کی بنیادی اور معتمد ترین کتب میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ شرح منتهى الإرادات کو مدارسِ حنبلیہ نے طویل عرصے تک تدریسی نصاب کا حصہ رکھا۔ ان کتب کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں اختلافی مسائل پر نہایت جامع مباحث موجود ہیں اور ہر مسئلے کے دلائل کو ترتیب وار بیان کیا گیا ہے۔
شخصی خصوصیات
[ترمیم]بُہوتی کی شخصیت زہد، سادگی اور علمی انہماک کا نمونہ تھی۔ وہ شہرت اور مناصب سے دور رہنے کو پسند کرتے تھے۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے آخری عمر تک تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا اور اکثر راتوں کو مطالعہ و تحریر میں گزارتے۔ ان کی وفات کے بعد مصر کے علمی حلقوں نے انھیں ایک ایسے محقق کی حیثیت سے یاد کیا جو فقہِ حنبلی کی آخری مضبوط کڑی تھا اور جس کی خدمات نے پورے ایک فقہی مکتب کو نئی زندگی بخشی۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Islamkotob۔ "السحب الوابله على ضرائح الحنابله"