ابن ہبیرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن ہبیرہ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1105  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1165 (59–60 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
پیشہ فقیہ،  ومحدث،  ومصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

وزیر ابن ہبیرہ، عہد عباسی کے مشہور وزرا میں سے ایک تھے، اپنے زمانے کے بڑے علما و فقہا میں شمار ہوتے تھے، پورا نام: ابو المظفر یحییٰ بن محمد بن ہبیرہ، نسلاً شیبانی اور وطن دوری بغدادی ہیں، مذہباً حنبلی تھے، سنہ 499 ہجری میں ولادت اور 560 ہجری میں وفات ہوئی۔[1][2][3]

حالات و اوصاف[ترمیم]

ابن ہبیرہ زبردست باعمل عالم تھے، وزارت پر رہتے ہوئے بھی طلبِ علم، تصنیف و تالیف اور تعلیم و تدریس سے پورا اشتغال رکھتے تھے، ابن ہبیرہ کی تاریخ صحیح اقوال اور کتاب وسنت سے عجیب و غریب استنباط سے بھری ہے، ابن ہبیرہ انتہائی اخلاق مند اور حسن سلوک کرنے والے تھے، ان کے عقائد و نظریات سلف کے مطابق تھے، کہا کرتے تھے: "بخدا ہم امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کو روافض کے حوالہ نہیں کر سکتے ہیں، ہمارا ان پر ان سے زیادہ حق ہے۔ اسی طرح ہم امام شافعی کو اشاعرہ ہی میں محدود نہیں کر سکتے، بلکہ ہم ان کے زیادہ حقدار ہیں"۔ ابن ہبیرہ کی وفات زہر کے اثر کی وجہ سے ہوئی، ابن جوزی کے مطابق ان کے جنازہ میں اتنا مجمع تھا کہ ان کے زمانہ میں کسی اور کے جنازہ میں اتنی تعداد نہیں دیکھی گئی۔

سیرت و احوال[ترمیم]

وزیر امام یحییٰ بن محمد بن ہبیرہ بن سعید بن حسن بن جہم شیبانی دوری عراقی حنبلی، صاحب تصانیف، ان کی جائے پیدائش عراق کے شہر دور کے بنو اوقر نامی گاؤں ہے، اسی لیے ان کی دوری نسبت بھی مشہور ہے، بچپن ہی میں طلب علم کی خاطر بغداد چلے گئے تھے اور وہاں قرآن و حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا۔

اساتذہ[ترمیم]

  • قاضی ابو الحسین بن فراء
  • ابن زاغونی
  • عبد الوہاب انماطی
  • اور دوسرے کبار علما و اساتذہ سے علم حاصل کیا۔

قرأتِ سبعہ بھی پڑھا، دیگر اسلامی علوم کو بھی سیکھا، لغات، عربی اور عروض میں مہارت حاصل کی، فقہی مسلک میں حنبلی مذہب کے فقیہ و عالم تھے، عقائد میں سلفی تھے، حدیث و اثر کے دلائل پر اعتماد و عمل تھا، اتباعِ سنت اور سلف کی تقلید میں بہت سخت تھے، پہلے غریب تھے، پھر کتابت سیکھی اور اسی کی کمائی سے گزر بسر کرتے تھے، یہاں تک کہ حکومت میں سرکاری کاتب مقرر ہو گئے، پھر مزید ترقی کرتے گئے اور خزانہ کے نگراں مقرر ہو گئے، ان کی امانت کی وجہ سے یکے بعد دیگرے ترقی اور عہدہ ملتا گیا یہاں تک کہ 544 ہجری میں عباسی حکمراں مقتفی لامر اللہ نے اپنا وزیر مقرر کر لیا، بڑے دیندار، پرہیزگار، عبادت گزار، عقلمند، باوقار، متواضع اور با ادب تھے، وزیر ہونے کے باوجود تدریس و تالیف سے غافل نہیں رہے۔

وزارت[ترمیم]

عباسی حکمراں مقتفی لامر اللہ نے ابن کو ہبیرہ کو سنہ 544 ہجری میں اپنے دربار میں بلایا اور اپنا وزیر مقرر کر لیا، چنانچہ دیگر ذمہ دارانِ حکومت اور عہدیداران کے ساتھ سوار ہو کر ایوان میں پورے تزک و احتشام کے ساتھ داخل ہوئے، یہ ایک یادگار دن تھا اور بعد کے مقرر ہونے والے وزرا کے لیے ایک رسم بن گیا، ابن ہبیرہ اس عظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود اپنی حیثیت کو نہیں بھولے، نہ دنیا میں مشغول ہوئے، منصب کی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینے کے ساتھ علمی کاموں کو بھی کیا کرتے تھے، فرمایا کرتے: "مجھے نہیں پسند کہ لوگ مجھے سردار یا بڑا کہیں" اور مستنجد باللہ کے زمانہ تک وزیر رہے۔

تصنیفات[ترمیم]

  • الافصاح عن معانی الصحاح (صحیحین کی اپنے زمانہ کی مستند اور عمدہ شرح ہے، جس میں مذاہب علما و فقہا اور مسائل وغیرہ کو جمع کیا ہے، یہ کتاب وزارت کے منصب پر رہتے ہوئے تالیف کی ہے۔)
  • المقتصد ( فن نحو پر ہے)
  • مختصر اصلاح المنطق ( ابن سکیت کی مشہور منطق کتاب "اصلاح المنطق" کا اختصار اور خلاصہ ہے)
  • العبادات الخمس ( حنبلی مذہب کے مسائل و احکام پر مشتمل ہے)
  • اس کے علاوہ مقصور و ممدود پر کچھ رسائل ہیں، خط یعنی کتابت پر بھی رسالہ ہے۔

وفات[ترمیم]

ابن ہبیرہ کی وفات زہر کے اثر سے ہوئی، سنہ 560 ہجری میں 12 جمادی الاول اتوار کی رات آرام سے سوئے، صبح سحر کے وقت کچھ قے ہوئی، طبیب کو بلایا گیا، کہا جاتا ہے کہ اس طبیب نے ابن ہبیرہ کو دوا کی بجائے زہر پلا دیا، اس کے بعد اس طبیب کو بھی وہی زہر پلایا گیا جس کی وجہ سے طبیب مر گیا، ابن ہبیرہ کا بھی انتقال ہو گیا، اتوار کے دن شاہی محل کی جامع مسجد میں جنازہ لایا گیا، نماز جنازہ ادا کی گئی، پھر ان کے قائم کردہ مدرسہ میں باب البصرہ کے پاس لایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا، اس روز بغداد کی بازاریں بند تھی، مجمع دجلہ کے کنارے تک بھرا تھا، آہ بکا سے پورا شہر گونج رہا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "معلومات عن ابن هبيرة على موقع opc4.kb.nl"۔ opc4.kb.nl۔
  2. "معلومات عن ابن هبيرة على موقع id.loc.gov"۔ id.loc.gov۔
  3. "معلومات عن ابن هبيرة على موقع snaccooperative.org"۔ snaccooperative.org۔
  • الوزير ابن هبيرة وجهوده في تقرير عقيدة السلف : ایم اے کا مقالہ : ڈاکٹر عبد اللہ الميمان - جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية
  • ابن ہبیرہ کی كتاب "الافصاح عن معانی الصحاح" ۔
  • جامعہ ام القری کی ویب سائٹ ۔