ابو الفرج ابن جوزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ضد ابہام صفحہ کے لیے معاونت سبط ابن جوزی سے مغالطہ نہ کھائیں۔

ابو الفرج عبد الرحمٰن بن ابو الحسن علی بن محمد بن علی بن عبید اللہ قرشی تیمی بکری حنبلی مورخ و محدث۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام عبد الرحمٰن ہے ـ‘ لقب جمال الدین‘ کنیت ابو الفرج اور ابن الجوزی کے نام سے مشہور ہیں۔ سلسلہ نسب یہ ہے : عبد الرحمٰن بن ابی الحسن علی بن محمد بن علی بن عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن حمادیٰ بن احمد بن محمد بن جعفر الجوزی بن عبد اﷲ بن القاسم بن النضربن القاسم بن محمد بن عبد اﷲ بن عبد الرحمٰن بن القاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق‘ القرشی التیمی البکری البغدادی الحنبلیاور شیخ عبد الصمد بن ابی الجیش کہتے ہیں کہ یہ بصرہ کے ایک محلہ کی طرف نسبت ہے جس کا نام محلۃ الجوز ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ یہ نہیں بلکہ شہر واسط میں ان کے اجداد کے گھر میں جوز یعنی اخروٹ کا ایک درخت تھا‘ جس کے سوا وہاں اور کوئی اس کا درخت نہیں تھا۔

ولادت[ترمیم]

آپ کے سن پیدائش میں بھی اختلاف ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ 508ھ ہے ۔ اور بعض کا قول ہے کہ 509ھ ہے اور بعض کا قول ہے کہ( 510ھ بمطابق 1116ءہے ۔ خوا ان کی تحریر ملی تھی جس میں لکھا ہوا تھا کہ ’’مجھ کو اپنی پیدائش کا سن ٹھیک معلوم نہیں۔ اتنا معلوم ہے کہ والد صاحب کا 514ھ میں انتقال ہوا تھا اور والدہ کہتی تھیں کہ اس وقت تمہاری عمر تقریباً تین برس کی تھی۔ اس بنا پر آپ کا سن پیدائش 511ھ یا 512ھ ہو گا ۔ آپ بغداد میں درب حبیب میں پیدا ہوئے تھے ۔[1]

تحصیل علم[ترمیم]

جب پڑھنے کے قابل ہوئے تو ماں نے مشہور محدث ابن ناصر کی مسجد میں چھوڑ دیا ‘ان سے حدیث سنی‘قرآن مجید حفظ کیااور تجوید میں مہارت پیدا کی ‘شیوخ حدیث سے حدیث کی سماعت اور کتابت کی اور بڑی محنت و انہماک اور جفاکشی سے علم کی تحصیل کی میں اساتذہ و شیوخ کے حلقوں میں حاضری دینے میں اس قدر جلدی کرتا تھا کہ دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی، صبح اور شام اس طرح گزرتی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا ، مگر اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مخلوق کی احسان مندی سے بچایا۔ آپ کے والد بچپن میں انتقال کر گئے تو آپ کی والدہ اور پھوپھی نے آپ کی پرورش کی ۔ آپ کے ہاں تانبے کی تجارت ہوتی تھی اس وجہ سے آپ کی بعض قدیم سندوں میں ابن الجوزی الصفار لکھا ہوا ہے ۔ جب آپ بڑے ہوئے تو آپ کی پھوپھی حافظ ابوالفضل ابن ناصر کے ہاں لے گئیں تو آپ نے ان کی طرف توجہ کی اور ان کو حدیث سنائی ۔ بعض کا قول ہے کہ آپ کی ابتدائی تعلیم 516ھ میں ہوئی تھی ۔ قرآ ن مجید حفظ کیا اور ائمہء قراء ت کی ایک جماعت سے تحصیل علم کی ۔ بڑے ہونے کے بعد شہر واسط میں علی بن الباقلانی سے قرآن مجید روایات کے ساتھ پڑھا۔ [2]

علم حدیث[ترمیم]

علم حدیث میں انہیں ابد ی و آفاقی شہرت حاصل ہوئی اس علم میں آپ کی بہت سی تصانیف ہیں حتیٰ کہ اپنے مقام علم و تجربہ پر اعتماد کی وجہ سے کہا کرتے تھے کہ : ’’میرے زمانے تک رسول اکرم ﷺ سے روایت شدہ کوئی بھی حدیث میرے سامنے بیان کی جائے تو میں بتا سکتا ہوں کہ یہ صحت و ضعف کے کس درجے پر ہے ‘‘۔[3] حدیث کی سماعت و کتابت میں اتنا اشتغال رہا ، اور اپنے ہاتھ سے مرویات حدیث کی اتنی کتابت کی کہ بعض مورخین کا بیان ہے کہ انہوں نے انتقال کے وقت وصیت کی کہ ان کے غسل کا پانی اس کترن اور بُرادہ سے گرم کیا جائے‘ جو حدیث کے لکھنے کے لیے قلم بنانے میں جمع ہو گیا تھا ، چنانچہ وہ اتنا تھا کہ پانی گرم ہو گیا اور وہ بچ رہا ۔[4]

مشائخ[ترمیم]

آپ نے اپنے مشائخ میں ستاسی (87) اشخاص کا ذکر کیا ہے ۔ حالانکہ ان کے سوا بھی اورکئی علماء سے علم حاصل کیا ۔ چند بڑے بڑے اساتذہ کے نام یہ ہیں:

  • ابو القاسم بن الحصین،
  • قاضی ابو بکر الانصاری،
  • ابو بکر محمد بن الحسین المزرنی (المزرتی)،
  • ابو القاسم الحریر ،
  • علی بن عبد الواحد ینوری،
  • ابو السعادات احمد بن احمد المتوکلی،
  • احمد بن احمد المتوکلی،
  • ابو غالب بن البناء،
  • یحییٰ ،
  • ابو عبد اﷲ الحسین بن محمد ابارع،
  • ابو الحسن علی بن احد الموحد،
  • ابو غالب محمد الحسن الماوردی
  • فقیہ ابو الحسن ابن الزا غونی،
  • ابو منصور بن خیرون،
  • ابو القاسم بن السمر قندی،
  • عبد الوہاب الانماطی،
  • عبد الملک الکروجی،
  • خطیب اصبہان
  • ابوالقاسم عبد اﷲ بن محمد،
  • ابو سعید الزوزی،
  • ابو سعد البغدادی
  • یحییٰ بن الطراح،
  • اسماعیل بن ابی صالح المؤذن،
  • ابو القاسم بن علی بن علی العلوی الہروی الواعظ،
  • ابو منصور القراز،
  • عبد الجبار بن ابراہیم بن عبد الوہاب ابن مندہ،
  • ہبتہ اﷲ بن الطبر
  • ابو الوقت السنجزی۔

تلامذہ[ترمیم]

آپ کے تلامذہ میں آپ کے صاحبزادے محی الدین اور پوتے شمس الدین یوسف بن قزاد غلی واعظ اور حافظ عبد الغنی ‘ ابن الدبیثی‘ ابن النجار‘ ابن خلیل‘ التقی الیلدانی‘ ابن عبد الدائم اور النجیب عبد اللطیف قابل ذکر ہیں۔

وفات[ترمیم]

ابن جوزی نے597ھ میں شبِ جمعہ کو انتقال کیا ، جامع منصور بغداد میں نمازِ جنازہ ہوئی۔ [5]

تصنیفات[ترمیم]

قرآن اور علوم قرآن کے متعلق چند تصنیفات[ترمیم]

  • (1) المعنی فی تفسیر القرآن
  • (2) زاد المسیر فی علم التفسیر
  • (3) تیسیر البیان فی تفسیر القرآن
  • (4) تذکرۃ الاریب فی تفسیر الفریب
  • (5) غریب الفریب(غریب العزیز)
  • (6) نزبتہ (الاعین) النواظر۔ فی علم الوجوہ والنظائر
  • (7) فی الوجوہ والنظائر
  • (8) مختصر کتاب نزبتہ العیون
  • (9) الاشارہ الی القراء ۃ المختارۃ
  • (10) تذکرۃ المنتبہ فی عیون المشتبہ
  • (11) فنون الافنان فی (عیون) علوم القرآن
  • (12) ورد الاغصان فی فنون الافنان
  • (13) عمرہ الراسغ فی معرفتہ المنسوخ و الناسغ
  • (14)المصفی بالف اہل الرسوخ من علم الناسغ والمنسوخ۔

اُصول دین میں چند تصنیفات[ترمیم]

  • (15) منتقد المعتقر
  • (16) منہاج الوصول الی علم الاصول
  • (17) غفلتہ القائل لعدم افعال العبار
  • (18) غوامض الا لہیات
  • (19) مسلک العقل
  • (20) منہاج اہل الاصابہ فی مھبتہ الصحابہ
  • (21) السر المصون
  • (22) دفع تبہتہ التشبیہ (دفع شبہ المشتبہ)
  • (23) الرد علی المتعصب العنیر

علم حدیث اور زہدیات میں تصانیف[ترمیم]

  • (24) جامع المسانید (والقاب) بامضر الاسانید
  • (25) الحدائق لاہل الحقائق فی الموعظتہ
  • (26) نقل العقل (نفس النقل)
  • (27) المجتبی (فی انواع مں العلوم)
  • (28) النزبتہ (29) عیون الحکایات
  • (30) ملتقط لاحکایات
  • (31) ارشاد المریدین فی حکایات (سلف) الصالحین
  • (32) روضتہ الناقل
  • (33) غرر الائر
  • (34) التحقیق فی احادیث التعلیق (الخلاف)
  • (35) المدیع
  • (36) الموضوعات من الاحادیث المرفوعات
  • (37) العلل المتنابیہ فی احادیث الوابیتہ (الوابیات)
  • (38) الکشف لمشکل (حدیث) الصحیحین
  • (39) (مشکل الصماع)
  • (40) الضعفاء والمتروکین
  • (41) اعلام العالم عد رسوخہ بمقائق ناسغ الحدیث و منسوخہ
  • (42) اخبار اہل الرسوخ فی الفقہ و التحدیث بمقدار المنسوخ (من الحدیث)
  • (43) السہم المصیب (44) اخائر الذخائر
  • (45) الفوائد عن الشیوخ
  • (46) مناقب اصماب الحدیث (مناقب جماعتہ)
  • (47) موت الخضر
  • (48) مختصر موت الخضر
  • (49) المشیختہ
  • (50) المسلسلات
  • (51) المحتسب فی النسب
  • (52) تحفتہ الکلیات
  • (53) تنویر مدلہم السدف
  • (54) القاب
  • (55) فضائل (مناقب) عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ
  • (56) فضائل (مناقب) عمر بن عبد العزیز رحمتہ اﷲ علیہ
  • (57) سیرۃ عمر بن عبد العزیز (یہ علاحدہ بڑی کتاب ہے)
  • (58) فضائل سعید بن المسیب
  • (59) فضائل الحسن بصری
  • (60) مناقب الفضیل بن عیاض
  • (61) مناقب بشر الحافی
  • (62) مناقب ابراہیم بن ادہم
  • (63) مناقب سفیان التوری
  • (64) مناقب احمد بن حنبل
  • (65) مناقب معروف الکرخی
  • (66) مناقب رابعتہ العدویتہ
  • (67) مسیر العزم (مشیر الغرام)الساکن الی اشرف الاماکن
  • (68) صفوۃ الصفوۃ (جو حلیۃ الاولیاء کا مختصر ہے)
  • (69) منہاج القاصدین (یہ کتاب احیاء علوم الدین کے اسلوب پر ہے )
  • (70) المختار من اخبار الاخیار
  • (71) القاطع لمجال اللجاج القاطع بمحال الالحلاج
  • (72) عجالتہ المنتظر فی شرح حال الخضر
  • (73) النساء وما یتعلقہن باد ابہن (احکام النساء)
  • (74) بیان علتہ الحدیث المنقول فی ان ابابکر ام الرسول
  • (75) الجواہر (جواہر المواعظ)
  • (76) المقلق

علم فقہ میں چند تصانیف[ترمیم]

  • (77) الانصاف فی مسائل الخلاف
  • (78) الانتصار فی مسائل الخلاف
  • (79) جنتہ النظر وجنتہ المنتظر(یہ متوسط تعلیق ہے )
  • (80) معتصر المختصر فی مسائل النظر (یہ اس سے چھوٹی تعلیق ہے )
  • (81) عمدۃ الدلائل فی مشتہر المسائل (الدلائل فی مشہور المسائل)
  • (82) المذہب فی المذہب
  • (83) مسبوک الذہب فی المذہب
  • (84) العبارات الخمس
  • (85) اسباب الہدایتہ لارباب البرایتہ
  • (86) کشف الظلمتہ عن الضیاء فی رد الدعوی
  • (87) درء اللوم والضیم فی صوم یوم الغیم

علم تاریخ میں چند تصانیف[ترمیم]

  • (88) تلقیع فہوم اہل الائر فی عیون التاریغ والسیر
  • (89) المنتظم فی تاریغ الملوک والامم
  • (90) شذور العقود فی تاریغ العہود
  • (91) طرائف الظرائف فی تاریغ السوالف
  • (92) مناقب بغداد
  • (93) الذہب المسبوک فی سیر الملوک

علم وعظ میں چند تصانیف[ترمیم]

  • (94) الیواقیت فی الخطب (المواقیت فی الخطب الواعظیہ)
  • (95) المنتخب فی النوب
  • (96) نخب المنتخب
  • (97) منتحل المنتخب
  • (98) نسیم الریاض (فی الموعظتہ)
  • (99) اللؤلؤۃ (فی المواعظتہ)
  • (100) کنز المذکرین (فی المواعظ)
  • (101) الارج (فی المواعظتہ)
  • (102) اللطیف (فی المواعظ)
  • (103) اللطائف
  • (104) کنز الرموز
  • (105) النفیس
  • (106) زین القصص
  • (107) موافق المرافق
  • (108) الشاہد ومشہود
  • (109) واسطات العقودمن شاہد و مشہود
  • (110) الملہب
  • (111) المدہش (فی المحاضرات)
  • (112) صبانجد(فی الموعظہ)
  • (113) محاوشتہ العقل
  • (114) لقط الجمان
  • (115) مغانی المعانی
  • (116) فتوح الفتوح (فیوح الفتوح)
  • (117) اتعازی الملوکیہ
  • (118) المقعد المقیم
  • (119) ایقاظ ابوسنان
  • (120) الرفدات باحوال الحیوان و النبات
  • (121) نکت المجالس البدریہ
  • (122) نزبتہ الاریب
  • (123) نسیم السحر
  • (124) (روح الارواح)
  • (125) منتہی المنتہی
  • (126) تبصرۃ المبتدی (التبصرۃ)
  • (127) الیاقوتیہ(فی الوعظ ۔
  • (128) تحفتہ الواعظ(ونزہتہ الملاحظ

مختلف فنون میں چند تصانیف[ترمیم]

  • (129) نم الہوی
  • (130) صید الخاطر
  • (131) احکام الاشعار باحکام الاشعار
  • (132) القصاص والمذکریں
  • (133) تقویم اللسان (فی سیاق درۃ الغواص)
  • (134) الازکیاء
  • (135) (اخبار)الحمقی ولمغفلین
  • (136) تلبیس ابلیس
  • (137) لقط المنافع فی الطب (منافع الطب) دوجلد
  • (138) مختار المنافع(یہ لقط المنافع کا مختصر ہے )
  • (139) حسن الخطاب فی الشیب والشباب
  • (140) اعمار الاعیان (فی التاریغ والتراجم)
  • (141) الشبات عند الممات
  • (142) تنویر الغبش فی فضل السودان والحبش (تنویر الغبش فی احاول الاعیان من الحبش)
  • (143) الحج علی حفظ (طلب)العلم وذکر کبار الحفاظ
  • (144) اسراف الموالی (اشرف الموالی)
  • (145) اعلام الاحیاء باغلاظ الاحیاء (للغزالی)
  • (146) تحریم المحل المکروہ
  • (147) المصباح المضی لدعوۃ الامام المستضئی
  • (148) عطف العلماء علی الامراء علی العلماء
  • (149) النصر علی المصر
  • (150) امجد العضدی
  • (151) الفجر النوری (الفخر النوری)
  • (152) مناقب الستر الرفیع
  • (153) ماقلتہ من الاشعار
  • (154) المقامات (الجوزیتہ فی المعانی الوعظیتہ رح الکلمات اللغویتہ
  • (155) من رسائلی
  • (156) عجائب النساء یا اخبار النساء
  • (157) الطب الروحانی
  • (158) (عجائب البدائع)
  • (159) (منتہی المشتہی)
  • (160) (المنشور فی المواعظ)
  • (161) (المزعج)
  • (162) (مولد النبی)
  • (163) تنبیہ النائم الغمر علی (حفظ) مواسم العمر)

علم تاریخ میں چند تصانیف[ترمیم]

  • (164) بیان الخطاؤ الصواب من احادیث الشہاب
  • (165) البازی الالشہب المنقض علی مخالفی المذہب الوفاء فی فضائل المصطفیٰ
  • (166) مناقب الامام الشافعی
  • (167) النور فی فضائل الایام والشہور
  • (168) تقریب الطریق الابعد فی فضل مغفرۃ احمد
  • (169) العزلت
  • (170) الریاضتہ
  • (171) فنون الباب
  • (172) مناقب (الصدیق) ابی بکر
  • (173) مناقب علی
  • (174) فضائل العرب
  • (175) درۃ الاکلیل (فی تاریغ)
  • (176) الالمثال
  • (177) المنفعتہ فی المذاہب الاربعتہ
  • (178) المختار من الاشعار
  • (179) رؤس القوایر (فی الخطب والمحاضرات والوعظ والتذکیر)
  • (180) المطرب للمذنب
  • (181) المرتحل فی الوعظ
  • (182) کبیر نسیم الریاض
  • (183) ذخیرہ الوعظ
  • (184) الزجر المخوف
  • (185) الذند الوری فی الوعظ الناصری
  • (186) الفاخر فی ایام الامام الناصر
  • (187) المجد الصلاحی
  • (188) لغتہ الفقہ
  • (189) عقد الخناصرفی زم الخلیفہ الناصر
  • (190) المطرب للمذنب
  • (191) الذند الوری فی الوعظ الناصر
  • (192) الفاخر فی ایام الامام الناصر
  • (193) المجد الصلاحی
  • (194) لغتہ الفقہ
  • (195) عقد الخناصر فی زم الخلیفہ الناصر
  • (196) غریب الحدیث ملع الاحادیث(ملع المواعظ)
  • (197) فصول (الماۃ) الوعظیتہ
  • (198) سلوۃ الاحزان
  • (199) الشوق فی الوعظ
  • (200) المجالس الیوسفیہ فی الوعظ
  • (201) الوعظ المقبری
  • (202) قیام اللیل
  • (203) المحادقتہ
  • (204) المناجات
  • (205) جواہر الزواہر فی الوعظ (زاہر الجواہر)
  • (206) انجاۃ بالخواتیم
  • (207) المرتقی لمن اتقی
  • (208) اخبار الظراف والمتماجنین۔
  • (209)حاشیہ صحاح الجوہری
  • (210) فنون ابن عقیل کو مختصر کیا ہے
  • (211) آفتہ اصحاب الحدیث والرد علی عبد المغیث
  • (212) اخبار الاخیار
  • (213) اخبار البرامکتہ
  • (214) اسباب النزول
  • (215) انس الفرید وبغیتہ المرید
  • (216) بستان الصادقین
  • (217) بستان الواعظین وریاض السامعین
  • (218) البلغتہ فی الفروع
  • (219) تذکرہ الخواص
  • (220) تقریر الخواص
  • (221) الاجمال فی اسماء الرجال
  • (222) الجلیس الصالع والانیس الناصع
  • (223) حسن السلوک فی مواعظ الملوک
  • (224) الدرالثمین من خصائل النبی الامین ﷺ
  • (225) الدر الفائق بالمجالس والاحادیث الرقائق
  • (226) درر الائر
  • (227) الد لائل فی منشور المسائل
  • (228) دریاق الذنوب فی الموعظتہ
  • (229) دواء ذوی الفلات
  • (230) الذیل علی طبقات الحنابلتہ
  • (231) روضتہ المجالس ونزہتہ المستانس
  • (232) روضتہ المریدین
  • (233) الزہر الانیق
  • (234) سیرۃ المستغنی
  • (235) شرف المصطفیٰ ﷺ
  • (236) کتاب الروالصلتہ
  • (237) کتاب الخطب
  • (238) عقائد المرافق
  • (239) فضائل المدینہ
  • (240) قصیدۃ الاعتقاد
  • (241) کتاب الروالصلتہ
  • (242) کتاب الفروسیتہ
  • (243) کتاب المتعلقین
  • (244) کتاب الملتقط
  • (245) کماۃ الذھر وفریدۃ الدھر
  • (246) کنز الملوک فی کیفیتہ السلوک
  • (247) اللالی فی خطب المواعظ
  • (248) لباب فی قصص الانبیاء
  • (249) مایلحن فیہ العامتہ
  • (250) لقط فی حکایات الصالحین
  • (251) ما یلحن فیہ العامتہ
  • (252) مشیر الغرام لنساکنی الشام
  • (253) المقتراح الشامل المقتضب فی الخطب
  • (254) مناقب الحسین
  • (255) منتخب الزیر من رؤس القواریر فی الوعظ والتذکیر
  • (256) نشور العقود فی تجرید الحدود
  • (257) منظومتہ فی الحدیث
  • (258) المغش مختصر المدہش منہاجتہ النظر وجنتہ الفطر
  • (259) المورد والعذب فی المواعظ والخطب
  • (260) نرجس القلوب والدال علی طرق المحبوب
  • (261) النطقی المفہوم
  • (262) نظم الجمان
  • (263) نفع الطیب
  • (264) ہادی الارواح الی بلا دالا فراح۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تلبیس ابلیس، ابن جوزی،مکتبہ رحمانیہ،اردو بازار لاہور،ص3
  2. ندوی،ابو الحسن،علی،تاریخ دعوت و عزیمت،مکتبۃ الحسن،اردو بازار لاہور ،ج1،ص225
  3. ابن جوزی،الوفا باحوالِ مصطفیٰ ﷺ،فرید بک سٹال ،اردو بازار لاہور، ص5
  4. تاریخ دعوت و عزیمت،ج1،ص226
  5. تاریخ دعوت و عزیمت،ج1،ص251