اسرائیلیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسرائیلیات ان روایتوں کو کہتے ہیں جو اہلِ کتاب، یعنی یہودیوں اور عیسائیوں سے ہم تک پہنچی ہیں۔ پہلے زمانے کے مفسرین کی عادت تھی کہ وہ کسی آیت کے ذیل میں ہر قسم کی وہ روایات لکھ دیتے تھے جو انہیں سند کے ساتھ پہنچتی تھیں۔ ان میں بہت سی روایتیں اسرائیلیات بھی ہوتی تھیں۔ اس لیے ان کی حقیقت سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔

ان کی حقیقت یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام اور تابعین پہلے اہلِ کتاب کے مذہب سے تعلق رکھتے تھے، بعد میں جب وہ مشرف بہ اسلام ہوئے اور قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی تو انہیں قرآن کریم میں پچھلی امتوں کے بہت سے وہ واقعات نظر آئے جو انہوں نے اپنے سابقہ مذہب کی کتابوں میں بھی پڑھے تھے، چنانچہ وہ لوگ قرآنی واقعات کے سلسلے میں وہ تفصیلات مسلمانوں کے سامنے بیان کرتے تھے جو انہوں نے اپنے پرانے مذہب کی کتابوں میں دیکھی تھیں۔ یہی تفصیلات "اسرائیلیات" کے نام سے تفسیر کی کتابوں میں داخل ہو گئی ہیں۔ حافظ ابن کثیر (رحمة اللہ علیہ) نے، جو بڑے محقق مفسرین میں سے ہیں، لکھا ہے کہ : ( بحوالہ : مقدمة تفسیر ابن کثیر ) اسرائیلیات کی تین قسمیں ہیں۔

  1. وہ روایات، جن کی سچائی قرآن و سنت کے دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔

مثلاً : فرعون کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہِ طور پر تشریف لے جانا وغیرہ۔

  1. وہ روایات جن کا جھوٹ ہونا قرآن و سنت کے دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔

مثلاً : اسرائیلی روایات میں مذکور ہے کہ ۔۔۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنی آخری عمر میں (معاذاللہ) مرتد ہو گئے تھے۔ جبکہ اس کی تردید قرآن کریم سے ثابت ہے : وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَ۔كِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُواْ سلیمان (علیہ السلام) نے (کوئی) کفر نہیں کیا بلکہ کفر تو شیطانوں نے کیا ( سورة البقرة : 2، آیت : 102 ) اسی طرح مثلاً : اسرائیلی روایات میں مذکور ہے کہ (معاذ اللہ) حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے سپہ سالار "اوریا" کی بیوی سے زنا کیا، اسے (اوریا) مختلف تدبیروں سے مروا کر اس کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ یہ بھی کھلا جھوٹ ہے اور اس قسم کی روایتوں کو غلط سمجھنا لازم ہے۔

  1. وہ روایات جن کے بارے میں قرآن و سنت اور دوسرے شرعی دلائل خاموش ہیں جیسے کہ تورات کے احکام وغیرہ۔ ایسی روایات کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ ان کے بارے میں سکوت اختیار کیا جائے۔ نہ ان کی تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب۔

البتہ اس مسئلہ میں علما کا اختلاف ہے کہ آیا ایسی روایات کو نقل کرنا جائز بھی ہے یا نہیں؟ حافظ ابن کثیر نے قولِ فیصل یہ بیان کیا ہے کہ : انہیں نقل کرنا جائز تو ہے، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ شرعی اعتبار سے وہ حجت نہیں ہے!! [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مضمون بحوالہ : مقدمة "معارف القرآن" ازمفتی محمد تقی عثمانی