ابن مسکویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابن مسکویہ
مؤرخ، فلسفی، ماہر طب، ماہر اخلاقیات
پیدائش احمد بن محمد بن یعقوب ابن مسکویہ
320ھ/932ء
رے (شہر)، زیاریہ خاندان، موجودہ صوبہ تہران، ایران
وفات 421ھ/ 1030ء
(عمر: 101 سال قمری، 98 سال شمسی)
اصفہان، آل کاکویہ، موجودہ صوبہ اصفہان، ایران
نسل فارسی النسل
دور اسلامی عہدِ زریں
شعبۂ زندگی ایران
مذہب اسلام
شعبۂ عمل تاریخ، الٰہیات، اخلاقیات، طب، فلسفہ
کارہائے نماياں تجارب الامم و تعاقب الهمم
کتاب الحیوان
تہذیب الاخلاق

ابنِ مسکوہ کا پورانام ابوعلی احمد بن محمد بن یعقوب مسکویہ ہے، وہ 942ء میں پیدا ہوئے۔ انہیں مورخین موجودات عالم پر سائنسی نقطہ نظر سے بحث وتحقیق کرنے والا حکیم، حیاتیات کا ماہرِ خصوصی، نباتات میں زندگی دریافت کرنے والا پہلا سائنس داں، زندگی کی تحقیق اور دماغی ارتقاء کی تشریح اور درجہ بندی کرنے والا، نباتات، علم سماجیات اور معاشرت کا محقق، علم تمدن اور ثقافت کے نکتے بیان کرنے والا، علم نفسیات Psychology کا ماہرِخصوصی تسلیم کیا ہے۔ بہت سے مغربی مؤرخ تو ابن مسکویہ کو اخلاقیات Ethics اور روحانیت کا محقق اور مفکر، کامیاب شہری اصولوں کی تشکیل کرنے والا علم اخلاق پر علمی کتاب کا عظیم مصنف بھی قرار دیتے ہیں۔

ابن مسکویہ اپنے بچپن سے لے کربلوغت تک ایک لااُبالی قسم کے نوجوان تھے۔ جب حالات نے محبور کیا اور حصولِ رزق کی فکر لاحق ہوئی تو انہیں کیمیا گری میں دلچسپی ہوگئی۔ سونا بنانے کے شوق میں جابر بن حیان اور زکریا رازی کی تحریر کردہ کیمیا گری کی کتابیں پڑھنا شروع کیں اور جو نسخہ سمجھ میں آتا، اس پر تجربہ کرڈالتے مگر ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔ ان ناکامیوں نے انہیں جھنجھوڑ دیا اور ان میں یکایک ایک انقلابی تبدیلی آئی۔ ان کا شعور جاگ اٹھا۔ انہوں نے اپنی آزادروی ترک کی اور گوشہ نشین ہو کر علوم وفنون کا مطالعہ شروع کیا۔ قدرت نے انہیں بہترین قوتِذہن وفہم اور قوتِ فکر عطا کی تھی چنانچہ ہر علم وفن کا عمیق مطالعہ کیا اور بہت جلدادب واخلاق، حکمت وفلسفہ غرض کہ ہر فن میں یگانۂ روزگا ربن کر نمودار ہوئے۔ زندگی کے ارتقاء کا نظریہ سب سے پہلے معلم ثانی ابو نصرفارابی نے پیش کیا، ابن مسکویہ نے اس کی تشریح کی اور دلائل کے ذریعہ ثابت کیا۔ یورپ جب چودھویں صدی عیسوی میں جاگا اور علم وفن کی طرف توجہ کرنے لگا تو مسلم ممالک کے علم وفن سے اس نے کافی فائدہ اٹھایا۔ ڈارون نے بھی زندگی کے ارتقاء کا نظریہ پیش کیا، مگر یہ اُس کا ذاتی نظریہ نہ تھا، یہ نظریہ تو مسلم دانشور دنیا کے سامنے پہلے پیش کرچکے تھے۔ ڈارون اٹھارویں صدی کا دانشور ہے اور ابن مسکویہ نے اور ابونصرفارابی نے ان نظریات کو آٹھ نو سو سال پہلے پیش کردیا تھا۔ ڈارون کا نظریہ ارتقاء بالکل ابن مسکویہ کے نظریات کا چربہ ہے، ڈارون نے کوئی نئی بات نہیں کہی، ہاں انسان کو بندر ضرور بنادیا۔ ابن مسکویہ نے تاریخ کی ایک کتاب ’’تجارت الامم‘‘ لکھی جسے طوفان نوح سے شروع کرکے 931ء پر ختم کیا۔ ان کی ایک اور کتاب ’’آداب والعرب والفرس‘‘ ہے جو ایرانیوں، عربوں، ہندوؤں، رومیوں اور مسلمانوں کی تصانیف سے ماخوذ اقوال کا مجموعہ ہے۔ تیسری مشہور کتاب ’’تہذیب الا خلاق‘‘ ہے، اس کا موضوع اخلاقیات ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]