ابن رشد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابن رشد
(عربی میں: ابن رشدخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
قرطبہ میں ابن رشد کا مجسمہ
قرطبہ میں ابن رشد کا مجسمہ

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (عربی میں: أبو الوليد محمد ابن احمد ابن رشد‎خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 14 اپریل 1126  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قرطبہ[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 10 دسمبر 1198 (72 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مراکش (شہر)[3][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت اندلس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلسفی[2]،طبیب[2]،ریاضی دان،منجم،قاضی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی[4][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل فلسفہ،فلکیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر ارسطو[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر

ابن رشد (پیدائش: 14 اپریل 1126ء– وفات: 10 دسمبر [[1198ء) مسلم فلسفی، طبیب، ماہر فلکیات اور مقنن تھے۔ بارہویں صدی میں ابن رشد مشہور ترین شخصیت ہیں۔

ابن رشد

فلسفی، ریاضی دان، ماہر علم فلکیات، ماہر فن طب اور مقنن۔ قرطبہ میں پیداہوئے۔ ابن طفیل اور ابن اظہر جیسے مشہور عالموں سے دینیات، فلسفہ، قانون، علم الحساب اور علم فلکیات کی تعلیم حاصل کی ۔ خلیفہ یعقوب یوسف ک عہد میں اشبیلیہ اور قرطبہ کے قاضی رہے۔ ہسپانوی خلیفہ المنصور نے کفر کا فتویٰ عائد کرکے ان کی تمام کتب جلادیں اور انہیں نظر بند کردیا۔ چند ماہ کی نظر بندی کے بعد مراکش چلا گئے۔ اور وہیں وفات پائی۔ ارسطو کے فلسفے پر نہایت سیر حاصل شرحیں لکھیں جن کے لاطینی اور عربی کے علاوہ یورپ کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ ابن رشد کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ انسان کا ذہن محض ایک طرح کی صلاحیت یا طبع ہے جو خارجی کائنات سے ذہانت حاصل کرکے اُسے عملی شکل دیتا ہے۔ انسان از خود یا پیدائشی طور پر ذہین نہیں ہوتا۔ تمام انسانوں میں ذہانت مشترک ہے اور شخصی دوام کا نظریہ بے بنیاد ہے۔ نیز مذہب اور فلسفیانہ حقیقت میں تضاد ممکن ہے۔ یوں تو ابن رشد نے قانون ، منطق ، قواعد زبان عربی۔ علم فلکیات اور طب پر متعدد کتب لکھی ہیں۔ مگر ان کی وہ تصانیف زیادہ مقبول ہوئی ہیں۔جو ارسطو کی مابعدالطبیعات کی وضاحت اور تشریح کے سلسلے میں ہیں۔

نام و تعارف[ترمیم]

ان کا پورا نام “ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی الاندلسی” ہے، 520 ہجری کو پیدا ہوئے، فلسفہ اور طبی علوم میں شہرت پائی، وہ نہ صرف فلسفی اور طبیب تھے بلکہ قاضی القضاہ اور کمال کے محدث بھی تھے. نحو اور لغت پر بھی دسترس رکھتے تھے ساتھ ہی متنبی اور حبیب کے شعر کے حافظ بھی تھے، وہ انتہائی با ادب، زبان کے میٹھے، راسخ العقیدہ اور حجت کے قوی شخص تھے، وہ جس مجلس میں بھی شرکت کرتے تھے ان کے ماتھے پر وضو کے پانی کے آثار ہوتے تھے.

قرطبہ میں ابن رشد کا مجسمہ

حالات زندگی[ترمیم]

ان سے پہلے ان کے والد اور دادا قرطبہ کے قاضی رہ چکے تھے، انہیں قرطبہ سے بہت محب تھی، ابنِ رشد نے عرب عقلیت پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں، اور یہ یقیناً ان کی اتاہ محنت کا نتیجہ تھا، انہوں نے اپنی ساری زندگی تلاش اور صفحات سیاہ کرنے میں گزاری، ان کے ہم عصر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں سوائے دو راتوں کے کبھی بھی پڑھنا نہیں چھوڑا.. پہلی رات وہ تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا، اور دوسری رات جب ان کی شادی ہوئی۔

انہیں شہرت کی کبھی طلب نہیں رہی، وہ علم ومعرفت کے ذریعے کمالِ انسانی پر یقین رکھتے تھے، ان کے ہاں انسان نامی بولنے اور سمجھنے والی مخلوق کی پہچان اس کی ثقافتی اور علمی ما حاصل پر ہے۔

طب کی تعلیم انہوں نے ابی جعفر ہارون اور ابی مروان بن جربول الاندلسی سے حاصل کی، معلوم ہوتا ہے کہ اپنے زمانے کے مشہور طبیب ابی مروان بن زہر سے ان کی کافی دوستی تھی، حالانکہ طب کے شعبہ میں وہ بہت ابھرے، مگر ان کی شہرت کی اصل وجہ ان کا فلسفہ اور وہ کردار تھا جس نے نہ صرف عرب عقلیت پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ لاطینی فکر کو بھی خوب اثر انداز کیا۔

وہ اول تو فلسفہ اور شریعت میں موافقت پیدا کرنا چاہتے تھے اور عقیدہ کو متکلمین کے مغالطات اور خاص طور سے امام غزالی (1176-1182) کی “آمیزش” سے پاک کرنا چاہتے تھے، دوم یہ کہ وہ ارسطو کے فلسفہ کو مستقبل میں درپیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت حل پیش کرنے اور اسے انجان عناصر سے پاک کرکے اس سے آگے بڑھنا چاہتے تھے۔

ابن رشد نے اشبیلیہ میں قاضی کا منصب سنبھالا اور خلیفہ الموحدی ابی یعقوب یوسف کے کہنے پر ارسطو کے آثار کی تفسیر لکھنی شروع کی، وہ خلیفہ کی خدمت میں مشہور فلسفی ابن طفیل کے ذریعے سے آئے تھے، پھر وہ قرطبہ چلے گئے اور قاضی القضاہ کا منصب سنبھالا، اس سے دس سال بعد مراکش میں خلیفہ کے خاص طبیب کی حیثیت سے متعین ہوئے۔

مگر سیاست اور نئے خلیفہ ابو یوسف یعقوب المنصور (1184-1198) کی فلسفیوں سے نفرت اور حاسدین کی سازشوں نے خلیفہ کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے قاضی القضاہ اور طبیبِ خاص پر کفر کا الزام لگا کر اسے الیسانہ (قرطبہ کے پاس ایک چھوٹا سا شہر جس میں زیادہ تر یہودی رہتے ہیں) ملک بدر کردے، خلیفہ نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی تمام فلسفیانہ تصانیف کو آگ لگادی اور طب، فلک اور حساب کے علاوہ فلسفہ سمیت تمام جملہ علوم پر پابندی عائد کردی۔

آگ نے حاقدین کے الزامات کی بیچ کہ یہ فلسفی حق وہدایت کے راستہ سے بہک گیا ہے ایک عظیم دماغ کے نچوڑ اور برسا برس کی محنت کو جلاکر خاکستر کردیا.. بعد میں خلیفہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ ابی الولید سے راضی ہوگئے اور انہیں اپنے دربار میں پھر سے شامل کرلیا مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی اور زندگی کے چار دن دونوں ہی کے پورے ہوچکے تھے.. ابن رشد اور خلیفہ المنصور دونوں ہی اسی سال یعنی 1198ء عیسوی کو مراکش میں انتقال کرگئے۔

تصانیف[ترمیم]

Colliget

ابن رشد کی تصانیف کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: فلسفی اور عملی تصانیف، طبی تصانیف، فقہی وکلامی تصانیف، ادبی اور لغوی تصانیف۔

جمال الدین العلوی نے ابن رشد کی 108 تصانیف شمار کی ہیں جن میں سے ہم تک عربی متن میں 58 تصانیف پہنچی ہیں، ابن رشد کی اس قدر تصانیف میں خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ارسطو کے سارے ورثے کی شرح لکھی، ارسطو پر ان کی تشریحات کو تین زمروں میں تقسیم کیا گيا ہے:

مختصرات اور جوامع: یہ ان پر مشتمل ہیں جو انہوں نے ارسطو سے سمجھا مگر شرح متن سے براہ راست نہیں کی گئی.

تلاخیص یا شروحاتِ صغری: ان میں ارسطو پر گفتگو ہے مگر متون کے حوالے نہیں دیے گئے.

شروحاتِ کبری: یہاں ابن رشد قولِ ارسطو کا حوالہ دے کر اپنے انداز میں شرح لکھتے ہیں.

ذیل میں ابن رشد کی کچھ تصانیف مع تقریبی عیسوی تاریخ کے درج کی جارہی ہیں:

الکلیات 1162: یہ کتاب اصولِ طب میں ہے. بدایہ المجتہد ونہایہ المقتصد 1168: یہ کتاب اصولِ فقہ میں ہے. تلخیص القیاس 1166: چھوٹی شرح. تلخیص الجدل 1168: چھوٹی شرح. جوامع الحس والمحسوس 1170. تلخیص الجمہوریہ 1177: یہ “جمہوریہ افلاطون” کا خلاصہ ہے جس کا عربی متن مفقود ہے مگر اس کا ترجمہ 1999 کو کردیا گیا تھا. مقالہ فی العلم الالہی 1178: علمِ الہی پر مقالہ. فصل المقال وتقریر ما بین الشریعہ والحکمہ من الاتصال 1178: یہ کتاب فلسفہ کی شرعیت پر ہے اور انی کی مشہور ترین تصنیف ہے. الکشف عن مناہج الادلہ فی عقائد الملہ 1179: اس کتاب میں اسلامی عقیدے کی تصحیح کرنے کی کوشش کی گئی ہے. شرح ارجوزہ ابن سینا فی الطب 1180. تہافت التہافت 1181: امام غزالی کی کتاب “تہافت الفلاسفہ” پر تنقید، یہ ان کی مشہور ترین کتابوں میں شامل ہے. شرح البرہان 1183: ارسطو پر ایک بڑی شرح. شرح السماء والعالم 1188: ارسطو پر ایک بڑی شرح. شرح کتاب النفس 1190: ارسطو پر ایک بڑی شرح. شرح ما بعد الطبیعہ 1192-1194: ان کی زرخیز ترین اور مشہور ترین کتابوں میں شامل ہے.

اضافی تصانیف[ترمیم]

  • تلخیص کتاب المزاج لجالینوس
  • کتاب التعرق لجالینوس
  • کتاب القوی الطبیعیہ لجالینوس
  • کتاب العلل والاعراض لجالینوس
  • کتاب الحمیات لجالینوس
  • کتاب الاسطقسات لجالینوس
  • تلخیص اول کتاب الادویہ المفردہ لجالینوس
  • تلخیص النصف الثانی من کتاب حیلہ البرء لجالینوس
  • مقالہ فی المزاج
  • مقالہ فی نوائب الحمی
  • مقالہ فی التریاق

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 2.4 2.5 2.6 2.7 2.8 ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — مصنف: Paul de Roux — عنوان : Nouveau Dictionnaire des œuvres de tous les temps et tous les pays — شائع دوم — جلد: 1 — صفحہ: 188 — ناشر: Éditions Robert Laffont — ISBN 978-2-221-06888-5 Cite error: Invalid <ref> tag; name "f28632cb998b6f8fc15ee2a444cb62e898616c2e" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "f28632cb998b6f8fc15ee2a444cb62e898616c2e" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "f28632cb998b6f8fc15ee2a444cb62e898616c2e" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "f28632cb998b6f8fc15ee2a444cb62e898616c2e" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "f28632cb998b6f8fc15ee2a444cb62e898616c2e" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "f28632cb998b6f8fc15ee2a444cb62e898616c2e" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "f28632cb998b6f8fc15ee2a444cb62e898616c2e" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "f28632cb998b6f8fc15ee2a444cb62e898616c2e" defined multiple times with different content
  3. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  4. ربط: بی این ایف - آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2016
  5. Liz Sonneborn : Averroes (Ibn Rushd): Muslim scholar, philosopher, and physician of the twelfth century, The Rosen Publishing Group, 2005 (ISBN 1-4042-0514-4, ISBN 978-1-4042-0514-7) p.31 [1]
  6. (Leaman 2002، صفحہ۔ 27)
  7. (Fakhry 2001، صفحہ۔ 1)
  8. http://www.h-net.org/reviews/showrev.cgi?path=227091077594594