ابن ابی اصیبعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابن ابی اصیبعہ
(عربی میں: ابن أبي أصيبعةخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش صدی 12  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1269 (68–69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
صلخد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ طبیب،مؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل طب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

موفق الدین ابو العباس احمد بن سدید الدین القاسم ہے، ان کا تعلق طب میں مشہور ایک خاندان سے تھا اور موفق الدین اس خاندان کے مشہور ترین فرد تھے، 600 ہجری میں دمشق میں پیدا ہوئے اور ابا العباس کنیت پائی اور پھر اپنے دادا کے لقب “ابن ابی اصیبعہ” سے مشہور ہوئے، درس وتدریس، طب ومعالجہ کے ماحول میں تربیت ہوئی، علمی اور نظری تعلیم دمشق اور قاہرہ میں پائی، بیمارستانِ نوری میں طب کی خدمات سر انجام دیں، ان کے اساتذہ میں مشہور نباتاتی عالم اور “جامع المفردات” کے مصنف ابن البیطار شامل ہیں، وہ بیمارستانِ ناصری میں بھی خدمات انجام دیتے رہے اور وہیں پر مشہور طبیب اور “اقراباذین” المعروف “دستورِ بیمارستانی” کے مصنف “ابن ابی البیان” کے درس سے بھی مستفید ہوئے۔

ابن ابی اصیبعہ زیادہ عرصہ مصر میں نہیں رہے اور 635 ہجری کو صرخد (اب سوریا میں یہ مقام صلخد کے نام سے مشہور ہے) کے امیر عز الدین ایدمر کی دعوت پر شام کوچ کرگئے اور وہیں پر 668 ہجری کو انتقال کرگئے۔

ابن ابی اصیبعہ اپنی کتاب “عیون الانباء فی طبقات الاطباء” سے مشہور ہوئے جو آج بھی عربوں کے ہاں طب کی تاریخ کا سب سے بڑا مصدر سمجھی جاتی ہے۔

کتب[ترمیم]

ابن ابی اصیبعہ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کے علاوہ بھی تین کتابیں لکھی تھیں جو ہم تک نہیں پہنچیں ان کتابوں کے نام یہ ہیں:

  • حکایات الاطباء فی علاجات الادواء۔
  • اصابات المنجمین۔
  • کتاب التجارب والفوائد۔

آخری کتاب کی تصنیف شروع ہی نہیں کی گئی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14367566g — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ