ابن جزلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن جزلہ
Table in which various maladies and their treatments Wellcome L0033624.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش صدی 12  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 1 جون 1100  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ طبیب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ابن جزلہ (وفات: ماہِ شعبان 493ھ/جون 1100ء) گیارہویں صدی اور پانچویں صدی ہجری میں بقیدِ حیات مسلم طبیب تھا۔

ولادت[ترمیم]

ابن جزلہ کا مکمل نام ابو علی یحییٰ بن عیسیٰ ابن جزلہ البغدادی ہے۔ یورپ میں وہ بن گسلہ Ben Gesla کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔ ابن جزلہ کے سال ولادت کا کوئی تعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی اِس کا ذِکر خود اُنہوں نے کیا۔ بعد کے مورخین نے بھی سال ولادت کا تذکرہ نہیں کیا۔ لیکن اِتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلیفہ عباسی المقتدی باللہ کے عہدِ خلافت سے کچھ عرصہ قبل بغداد میں پیدا ہوئے۔

قبولیتِ اسلام[ترمیم]

ابن جزلہ اولاً نسطوری مسیحی تھے، لیکن اپنے ایک معتزلی معلم کے اثر سے وہ بروز منگل 11 جمادی الثانی 466ھ/ 11 فروری 1074ء کو مسلمان ہو گئے۔ قبولیتِ اسلام سے اُن کا مرتبہ و مقام اہل بغداد کے یہاں مزید اور بڑھ گیا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

ابن جزلہ نے سعید بن ھبۃ اللہ سے طب کی تعلیم حاصل کی جو خلیفہ عباسی المقتدی باللہ کے شاہی طبیب تھے۔ بعد ازاں ابن جزلہ کی خوش نویسی سے متاثر ہوکر بغداد کے حنفی قاضی نے اُنہیں اپنا نقل نویس مقرر کر لیا تھا۔ ابن جزلہ بعض اوقات شعر بھی کہا کرتے تھے۔

ابن جزلہ بحیثیت طبیب بغداد میں[ترمیم]

ابن جزلہ کی رہائشبغداد کے محلہ کرخ میں تھی، جہاں وہ واقف و غیر واقف لوگوں کو بھی بلا معاوضہ ادویات فراہم کر دیا کرتے تھے۔ بغداد چونکہ دار الخلافہ تھا اور یہاں مقیم ہر قسم کے مشاہیر کو دربارِ خلافت کی حمایت یا تائید حاصل ہوجایا کرتی تھی، باوجود اِس کے کہ وہ عوام میں اِس سے قبل شہرت رکھتا ہوتا یا نہ رکھتا ہوتا۔ علاوہ ازیں ابن جزلہ کا زمانہ شہرت خلیفہ عباسی المقتدی باللہ کا عہد ہے جو سباسی خلفاء کا دورِ زوال بھی تھا مگر اِس سے ابن جزلہ کی شہرت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

وفات[ترمیم]

ابن جزلہ کی وفات ماہِ شعبان 493ھ/ جون 1100ء میں بغداد میں ہوئی۔

تصانیف[ترمیم]

تقویم الاَبدان فی تدبیر الانسان[ترمیم]

ابن جزلہ کی سب سے زیادہ مشہور تصنیف ہے جس میں امراض کو جداول میں لکھا گیا ہے جیسا کہ تقویماتِ فلکیہ میں ستاروں کی حرکات کو۔ اِس کتاب کا باقاعدہ لاطینی ترجمہ 1532ء میں سٹراس بورگ میں شائع ہوا تھا جبکہ عربی نسخہ 1333ھ/1915ء میں مصر میں شائع ہوا تھا۔

مہناج البیان فیما یستعملہ الانسان[ترمیم]

ابن جزلہ کی دوسری مشہور تصنیف ہے جسے ابن جزلہ نے خلیفہ عباسی المقتدی باللہ کے لیے مرتب کیا۔ اِس میں پودوں اور ادویات کی فہرست مرتب کی گئی ہے۔

دیگر کتب[ترمیم]

مسیحیت کے رَد میں ایک رسالہ بھی لکھا۔ نیز ایک اور کتاب مختار مختصر تاریخ بغداد بھی لکھی جو بغداد کی مختصر تاریخ ہے۔[1][2][3][4][5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن ابی اُصیبعۃ: جلد 1 ص 255۔
  2. ابن الاقفظی: تاریخ الحکماء ص 365۔
  3. ابن خلکان: رقم الترجمہ 822 طبع وُسٹنفلٹ۔ ص 86، ص 493، ص 57۔
  4. براکلمان: تکملۃ براکلمان، جلد 1 ص 887۔
  5. ابن العبری: تاریخ مختصر الدول، ص 266۔