ابن ربن طبری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن ربن طبری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 838  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آمل[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 870 (31–32 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ فلسفی، طبیب، ماہر نفسیات  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں فردوس الحکمت  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو الحسن علی بن ربَّن طبری (838ء–870ء یا 810ء–855ء[2] یا 808ء–864ء[3] یا 783ء–858ء)[4] فارسی النسل[5][6] مسلم عالم، طبیب اور ماہر نفسیات تھے۔ انہوں نے طب کے اولین دائرۃ المعارف میں سے ایک فردوس الحکمہ تخلیق کر کے اہم کارنامہ سر انجام دیا۔

سوانح[ترمیم]

ابن ربن طبری طبرستان کے فارسی[7] یا سریانی[4] خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ حسین نصر کہتے ہیں کہ انہوں نے زرتشتیت سے اسلام قبول کیا تھا،[7] تاہم سامی خلف حمارنہ اور فرانز روزن تھال کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسیحیت سے قبول کیا تھا۔[4][8] ان کے والد سہل بن بشر حکومتی عہدیدار، انتہائی پڑھے لکھے اور سریانی برادری میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔[4]

عباسی بادشاہ معتصم باللہ (833ء–842ء) نے انہیں دربار میں رکھ لیا تھا اور یہ متوکل(847ء–861ء) کے دور میں بھی دربار سے منسلک رہے۔ ابن ربن طبری سریانی اور یونانی بھی فراونی سے بول لیتے تھے۔

فردوس الحکمہ[ترمیم]

فردوس الحکمہ اسلامی طب کے قدیم ترین انسائیکلوپیڈیاؤں میں سے ایک ہے، جو یونان کے سریانی تراجم اور ہندوستانی مآخذ (بقراط، جالینوس، دیسقوریدوس اور دیگر) پر مبنی ہے۔ یہ 7 قطعات اور 30 حصوں کے ساتھ کُل 360 ابواب پر مشتمل ہے۔[9][10][11] اسے حکیم رشید اشرف ندوی نے عربی سے اردو میں فردوس الحکمت کے عنوان سے منتقل کیا تھا۔

تالیفات[ترمیم]

ابن ندیم بغدادی نے ان تالیفات کو علی بن ربن کی لکھا ہے:

  • تحفۃ الملوک
  • فردوس الحکمت
  • کناش الحضرۃ
  • کتاب منافع الادویہ والاطعمہ والعقاقیر
  • کتاب فی الامثال والاداب علی مذاہب الفرس والروم والعرب

ابن ابی اصیبعہ نے علی بن ربن الطبری کی پانچ کتابوں کا اور ذکر کیا ہے:

  • کتاب عرفان الحیاۃ
  • کتاب حفظ الصحت
  • کتاب فی الرقی
  • کتاب فی ترتیب الاغذیہ
  • کتاب فی الحجامت

ابن اسفندیار نے ایک اور کتاب کا اُن کی تصنیف میں اضافہ کیا ہے:

  • بحر الفوائد

ان کے سوا اُن کی تالیف میں تین کتابیں اور شامل ہیں۔

  • کتاب الدین والدولہ (مطبوعہ المقتطف)
  • کتاب الرد علی اصناف النصاریٰ
  • فردوس الحکمت کا سریانی زبان میں ترجمہ

علی بن ربن طبری کی صرف تین محفوظ رہ سکی ہیں۔ فردوس الحکمت سب سے اہم تصنیف ہے۔ دوسری کتاب الدین والدولہ مطبع المقتطف نے چھاپی ہے۔ تیسری کتاب حفظ الصحت المحفوظہ کا قلمی نسخہ آکسفرڈ یونیورسٹی کے کتب خانہ بوڈلین میں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/102411689 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. Plinio Prioreschi (1 جنوری 2001)۔ A History of Medicine: Byzantine and Islamic medicine۔ Horatius Press۔ صفحہ 223۔ آئی ایس بی این 9781888456042۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2013۔
  3. "GREECE x. GREEK MEDICINE IN PERSIA – Encyclopaedia Iranica"۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2013۔
  4. ^ ا ب پ ت Helaine Selin (31 جولا‎ئی 1997)۔ Encyclopaedia of the history of science, technology, and medicine in non-western cultures۔ Springer۔ صفحات 930–۔ آئی ایس بی این 978-0-7923-4066-9۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 مئی 2011۔
  5. ed. by R.N. Frye (1975)۔ The Cambridge history of Iran. (اشاعت Repr.۔)۔ London: Cambridge U.P.۔ صفحات 415–416۔ آئی ایس بی این 978-0-521-20093-6۔ The greatest of these figures, who ushered in the golden age of Islamic medicine and who are discussed separately by E. G. Browne in his Arabian Medicine, are four Persian physicians: 'All b. Rabban al-Tabarl, Muhammad b. Zakariyya' al-Razl, 'All b. al-'Abbas al-Majusi and Ibn Sina.
  6. Helaine Selin۔ Encyclopaedia of the history of science, technology, and medicine in non-western cultures۔ Berlin New York: Springer۔ صفحہ 2179۔ Bibcode:2008ehst.book.....S۔ آئی ایس بی این 9781402049606۔ The work is quoted in the Firdaws al-Hikma or “Paradise of Wisdom” composed in AD 850 by the Persian physician ’Alī Ibn Sahl Rabban at-Tabarī who gives a very complete summary of the āyurvedic doctrines.
  7. ^ ا ب Richard Nelson Frye (27 جون 1975)۔ The Cambridge History of Iran: The period from the Arab invasion to the Saljuqs۔ Cambridge University Press۔ صفحات 415–416۔ آئی ایس بی این 978-0-521-20093-6۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2011۔
  8. Ṭabarī (1989)۔ The History of Al-Tabari۔ SUNY Press۔ صفحہ 50۔ آئی ایس بی این 978-0-88706-563-7۔
  9. Meyerhof، Max (1931). "'Alî at-Tabarî's Paradise of Wisdom, one of the oldest Arabic Compendiums of Medicine". Isis 16 (1): 6–54. doi:10.1086/346582.  He extracted his summary from the books of CHARAKA (Arabic: Jarak), SUSHRUTA (Arabic: Susrud), the Nidana (Arabic: Niddin), and the Ashtafigahradaya (Arabic Ashtdnqahrada).
  10. "Meyerhof Ali Tabari Paradise Wisdom"۔ Scribd۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 ستمبر 2014۔
  11. E. G. Browne (2011-05-15)۔ Arabian Medicine: The FitzPatrick Lectures Delivered at the College of Physicians in November 1919 and November 1920۔ Cambridge University Press۔ صفحات 38–۔ آئی ایس بی این 9781108013970۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 ستمبر 2014۔