ریاضی
ریاضی دراصل اعداد کے استعمال کے ذریعے مقداروں کے خواص اور ان کے درمیان تعلقات کی تحقیق اور مطالعہ کو کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ اس میں ساختوں، اشکال اور تبدلات سے متعلق بحث بھی کی جاتی ہے۔ اس علم کے بارے میں گمان غالب ہے کہ اس کی ابتدا یا ارتقا دراصل گننے، شمار کرنے، پیمائش کرنے اور اشیاء کے اشکال و حرکات کا مطالعہ کرنے جیسے بنیادی عوامل کی تجرید اور منطقی استدلال (logical reasoning) کے ذریعہ ہوا۔
ریاضی داں ان تصورات و تفکرات کی جو اوپر درج ہوئے ہیں چھان بین کرتے ہیں اور ان سے متعلق بحث کرتے ہیں۔ ان کا مقصد نئے گمان کردہ خیالات (conjectures) کے لیے صیغے (formulae) اخذ کرنا اور پھر احتیاط سے چنے گئے مسلمات (axioms)، تعریفوں اور قواعد کی مدد سے ریاضی کے اخذ کردہ صیغوں کو درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔
اشتقاق
[ترمیم]ریاضی کا لفظ ریاضت سے بنا ہے جس کا مطلب سیکھنا، مشق کرنا یا پڑھنا ہوتا ہے، جبکہ انگریزی میں بھی mathematics کا لفظ یونانی کے mathema سے ماخوذ ہے جس کا مطلب سیکھنا یا پڑھنا ہے۔
تاریخ
[ترمیم]بنیادی قسم کی ریاضی کی معلومات کا استعمال زمانہ قدیم ہی سے رائج ہے اور قدیم مصر، بین النہرین اور قدیم ہندوستان کی تہذیبوں میں اس کے آثار ملتے ہیں۔ آج دنیا بھر میں علم ریاضی کو سائنس، ہندسیات، طب اور معاشیات سمیت تمام شعبہ ہائے علم میں استعمال کیا جا رہا ہے اور ان اہم شعبوں میں استعمال ہونے والی ریاضی کو عموماً عملی ریاضی (applied mathematics) کہا جاتا ہے، ان شعبہ جات پر ریاضی کا نفاذ کرکے اور ریاضی کی مدد لے کر نہ صرف نئے ریاضیاتی پہلوؤں کی دریافتوں کا راستہ کھل جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ریاضی اور دیگر شعبوں کے ملاپ سے ایک بالکل نیا شعبۂ علم وجود میں آجانے کی مثالیں بھی موجود ہیں ۔
فلسفیانہ بحث
[ترمیم]تاریخ میں کئی کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ریاضی دان، ماہرینِ طلبہ، فلاسفرز اور بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے یہ بُنیادی سوال پوچھا ہے: کیا حساب کو حقیقی دنیا سے الگ کرنا چاہیے؟ مطلب، جب ہم گہرے تَصوّرات میں جاتے ہیں — جیسے کہ اِنفِنِٹی، کمپلیکس نمبرز، وغیرہ — کیا اس پیرائےِ واقعات لگانے کا کوئی ٹھوس فائدہ ہے یا یہ صرف ایک فن ہے، ایک کبھی نہ ختم ہونے والا واقعاتی ضیاع؟ کیوں کئی ایسے تَصوّرات کا ریاضی دنیا سے کوئی تعلق نہیں لگتا؟
لیکن اب یہ بحث ختم ہو گئی ہے، کیونکہ یہ تَصوّرات، جو دیکھنے میں دنیا سے کوئی تعلق رکھنے والے نہیں لگتے تھے، واپس لوٹ آئے ہیں جب فزکس نے پھر سے صف آرا ہونا شروع کیا۔ ایک زمانے میں صِفر ایک بالکل دنیا سے الگ تصوّر لگتا تھا، لیکن اب اس کے بغیر ہم فزکس میں بہت سی چیزیں نہیں کر سکتے — جیسے کہ درجہِ حرارت یا اینٹروپی۔ اسی طرح ہم منفی عدد کے بغیر بھی بہت سے معاملات حل نہیں کر سکتے، جیسے وولٹیج یا مومینٹم۔
اب زیادہ حَلّوں میں ہمیں اِنفِنِٹی کے تصوّر کا استعمال ملتا ہے کیلکولس میں، جس کے بغیر بہت سے فزکس کے حسابات ممکن نہیں ہیں۔ اور اِنیمیجری اور کمپلیکس نمبرز کا بے تحاشا استعمال اب کوانٹم شعبے میں دیکھا جا رہا ہے۔
اس طرح اب تعلیم یافتہ لوگ مانتے ہیں کہ حساب دُنیاوی منطق سے الگ ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں کبھی تو کبھی ایک دوسرے سے جُڑتے رہیں گے۔
| ویکی ذخائر پر ریاضی سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |