ابوبکر الرازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابوبکر محمد بن زکریا الرازی
رازی اپنے دور کے عظیم حکیم، دانشور اور ماہر طبیب
رازی اپنے دور کے عظیم حکیم، دانشور اور ماہر طبیب

معلومات شخصیت
پیدائش حکیم محمد بن زکریا
250ھ/ 864ء
رے[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات بدھ 5 شعبان 313ھ/ 26 اکتوبر 925ء
(عمر: 63 سال قمری، 61 سال شمسی)
رے، موجودہ صوبہ تہران، ایران
رے[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ریاضی دان، کیمیادان، فلسفی، موجد، طبیب  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی، عربی[2]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شفاخانہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حکیم ابوبکر محمد بن زکریا الرازی (پیدائش: 854ء– وفات: 925ء) (انگریزی: Rasis /Rhazes) فارس سائنسدان، ماہرِ طبیعیات، ہیئت دان اور فلسفی تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ابو بکر محمد ابن زکریا الرازی 250ھ/ 864ء میں ایران کے رے (شہر) میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے رازی کہلائے۔[3] آپ نامور مسلمان عالم، طبیب، فلسفی، ماہر علم نجوم اور کیمیاء دان تھے۔ جالینوس العرب کے لقب سے مشہور ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ بقراط نے طب ایجاد کیا، جالینوس نے طب کا احیاء کیا، رازی نے متفرق سلسلہ ہائے طب کو جمع کر دیا اور ابن سینا نے تکمیل تک پہنچایا۔ جوانی میں موسیقی کے دلدادہ رہے پھر ادب و فلسفہ، ریاضیات و نجوم اور کیمیا و طب میں خوب مہارت حاصل کی۔ پہلے رے پھر بغداد میں سرکاری شفاخانوں کے ناظم رہے۔ طب میں آپ کو وہ شہرت دوام ملی کہ آپ طب کے امام وقت ٹھہرے۔

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

دنیا کی تاریخ میں جہاں بہت سے طبیبوں کا نام آتاہے وہاں "ابوبکر محمد بن زکریا رازی" کا نام علم طب کے امام کی حیثیت سے لیا جاتاہے۔۔ جب زندگی کی ذمہ داریاں بڑھیں تو کیمیا گری کے فن کو اپنالیا۔ ان کا خیال تھا کہ کیمیا گری کی بدولت وہ کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرکے بہت جلد امیر اور دولت مند بن جائیں گے۔ کیمیاگری کے جو طریقے اس زمانے میں مشہور تھے، ان میں مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر دنوں بلکہ مہینوں تک دھات کو آگ پر رکھنا پڑتا تھا، زکریا رازی نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ دواؤں اور جڑی بوٹیوں کے حصول کے لیے انہیں دوا فروشوں کی دکانوں پر جانا پڑتا تھا۔ اس سلسلے میں ان کی ایک دوا فروش سے دوستی ہو گئی۔ چنانچہ وہ فرصت کے لمحات میں عموماً اس کی دکان پر بیٹھ جاتے۔ اس سے ان میں رفتہ رفتہ طب کے علم میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ ایک دن کیمیاگری کے شوق میں آگ کو پھونکیں مارے مارتے ان کی آنکھیں جھلس گئیں۔ وہ علاج کے لیے ایک طبیب کے پاس گئے۔ طبیب نے علاج کرنے کے لیے اچھی خاصی فیس طلب کی۔ اس وقت رازی کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اصل کیمیا گری تو یہ ہے نہ کہ وہ جس میں وہ اب تک سرکھپاتے رہے۔ چنانچہ رازی نے اب اپنی توجہ علم طبِ کی تحصیل میں صرف کردی۔ وہ طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بغداد روانہ ہو گئے۔ بغداد میں اس وقت ’’فردوس الحکمت‘‘ کا نامور مصنف علی بن ربن طبری بقید حیات تھا۔ رازی نے اس بزرگ استاد سے طب کے تمام رموز سیکھے او ر بڑی محنت سے اس میں کمال حاصل کیا۔ 908ء میں بغداد کے مرکزی شفا خانے میں، جو اس زمانے میں عالم اسلام کا سب سے بڑا شفا خانہ تھا، انہیں اعلیٰ افسر کا عہدہ پیش کیا گیا جہاں وہ 17 برس تک کام کرتے رہے۔ یہ عرصہ انہوں نے طبی تحقیقات اور تصنیف وتالیف میں گزارا۔ ان کی سب سے مشہور کتاب "حاوی" اسی زمانے کی یاد گار ہے۔ حاوی دراصل ایک عظیم طبی انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں انہوں نے تمام طبی سائنس کو جو متقدمین کی کوششوں سے صدیوں میں مرتب ہوئی، ایک جگہ جمع کر دیا اور پھر اپنی ذاتی تحقیقات سے اس کی تکمیل کی۔

وفات[ترمیم]

ابو ریحان البیرونی کے قول کے مطابق محمد بن زکریا الرازی نے بدھ 5 شعبان 313ھ مطابق 26 اکتوبر 925ء کو 61 سال شمسی کی عمر میں رے (شہر) میں وفات پائی۔

اہم تصانیف[ترمیم]

رازی کی تصانیف سترہویں صدی عیسوی تک یورپ میں بڑی مستند تصور کی جاتی تھیں، ان کے تراجم لاطینی میں کیے گئے اور یورپ کی درسگاہوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہیں۔

  • کتاب الجدری والحصبہ
  • کتاب الحاوی

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/al-Razi — اخذ شدہ بتاریخ: 30 جنوری 2018 — مصنف: Andrew Bell — عنوان : Encyclopædia Britannica — جلد: 22 — ناشر: Encyclopædia Britannica Inc.
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11921300b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. دنیا کے عظیم سائنس دان، رقیہ جعفری، سرفراز احمد، اردو سائنس بورڈ، لاہور2004، ص53