ابن التلمیذ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن التلمیذ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1073 (عمر 944–945 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
مقام وفات بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ طبیب،  شاعر،  موسیقار،  ادیب،  خطاط،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

ابو الحسن ہبہ بن الغنائم ہے (1154/549 یا 1165/560)،[1] اپنے نانا کے لقب ابن التلمیذ (ibn al-tilmidh) سے مشہور ہوئے، ان کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے تھا، ان کے والد اور نانا طبیب تھے اور خاندان کے زیادہ تر لوگ کاتب تھے، عربی زبان کے شعر ونثر پر گہری دسترس رکھتے تھے، عربی کے علاوہ فارسی اور سریانی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا، منطق، فلسفہ ادب، موسیقی اور طب کے ماہر تھے، خلیفہ المقتفی لامر اللہ نے انہیں بغداد بلاکر اطبائے بغداد کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی جسے انہوں نے اپنی وفات صفر 560 ہجری تک نبھایا۔

طب کے شعبہ میں مؤرخین ان کی علمی قابلیت، وسعتِ نظری اور فراست سے متاثر نظر آتے ہیں، ان کی تصانیف میں سب سے مشہور کتاب “الاقراباذین الکبیر” ہے اس کے علاوہ “المقالہ الامینیہ فی الادویہ البیمارستانیہ” اور رازی کی کتاب الحاوی کی اختصار “اختصار کتاب الحاوی” ابن مسکویہ کی کتاب “الاشربہ” کی اختصار، جالینوس کی فصولِ ابقراط کی شرح کی اختصار، مسائل حنین کی شرح، قانونِ ابن سینا پر حاشیہ اور فصد پر ایک مقالہ قابلِ ذکر ہیں۔ . اپنے آثار کے علاوہ ابن التلمیذ کے تدریسِ طب کے مجالس بہت مشہور تھے جن سے استفادہ کرکے بہت سارے لوگ ان کے ہاتھوں فارغ التحصیل ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]