رفیدہ الاسلمیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رفیدہ الاسلمیہ
(عربی میں: رفيدة الأسلمية ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رفيدة الأسلمية.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 620 (عمر 1399–1400 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ نرس،  سماجی کارکن  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ خندق،  غزوہ خیبر  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رُفَیْدَهُ بنت سعد الاسلمیہ مسلم طبیبہ اور سماجی کارکن تھیں جنہیں تاریخ اسلام میں پہلی مسلم نرس اور پہلی خاتون جراح سمجھا جاتا ہے۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نجی پس منظر[ترمیم]

مدینہ میں اسلام قبول کرنے والی ابتدائی شخصیات میں سے تھیں۔ رفیدہ کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنی اسلم سے تھا۔ پیغمبر اسلام کے مدینہ منورہ پہنچنے پر انصار خواتین کے ساتھ مل کر انہوں نے استقبال کیا۔[2]

رفیدہ الاسلمیہ کو اصحاب سیر نے نیک، ہمدرد نرس اور اچھا علاج کرنے والی بتایا ہے۔ اپنی طبی صلاحتیں کے بل بوتے پر انہوں نے دوسری عورتوں کو علاج کرنے کی تربیت دی، جن میں رسول اللہ کی صحابیات میں سے قابل ذکر عائشہ ہیں۔ علاج کے علاوہ وہ ضرورتمند بچوں کی مدد اور یتامٰی، معذور اور غربا کا خیال کرتی تھیں۔[3]

طبی پس منظر[ترمیم]

رُفیدہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئیں جسے طب میں کمال حاصل تھا۔ رفیدہ کے والدہ سعد الاسلمی ایک طبیب تھے، انہیں سے انہوں نے تربیت حاصل کی۔ نرسنگ اور بیماروں کی دیکھ بھال کے شوق نے انہیں ایک ماہر معالجہ بنا دیا۔ غزوات نبوی کے دوران وہ علاج کیا کرتی تھیں۔[3] جہاد کے دوران زخمی ہونے والے سپاہیوں کی مرحم پٹی بھی سر انجام دیتی تھیں۔[1]

کارہائے نمایاں[ترمیم]

رفیدہ نے خواتین کی ایک ٹیم کو نرس کے طور پر تربیت دی تھی۔ جب لشکر نبوی غزوہ خیبر کے لیے جانے کو تیار تھا تو رفیدہ اور رضاکار نرسوں کی ٹیم نے رسول اللہ کے پاس گئیں۔ انہوں نے آپ سے پوچھا، ”یا رسول اللہ، ہم آپ کے ساتھ جنگ میں جانا چاہتے اور زخمیوں کا علاج کرنا اور مسلمین کی امداد کرنا چاہتے ہیں جتنا ہم سے ہو سکے۔“ رسول اللہ نے انہیں اجازت دے دی۔ نرس رضاکاروں نے دل لگی سے بہترین کام انجام دیا حتی کہ رسول اللہ نے رفیدہ کی رقم مقرر کی۔ ان کی رقم اتنی ہی تھی جتنی جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کی تھی۔ یہ طب و نرسنگ کے کام کے اعزاز میں انہیں عطا کیا گیا تھا۔[2]

نرسنگ میں رفیدہ الاسلمیہ انعام[ترمیم]

ہر سال بحریہ یونیورسٹی میں رائل کالج آف سرجنز اِن آئرلینڈ کی طرف سے کامیاب طلبہ کو ”نرسنگ میں رفیدہ الاسلمیہ انعام“ سے نوازا جاتا ہے۔ فاتح کو سینئر کلینکل طبی عملے کے ارکان منتخب کرتے ہیں، یہ صرف اسی کو ملتا ہے جو مریضوں کی عمدہ دیکھ بھال کرتا ہو۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب
  2. ^ ا ب Paderborner، SJ. "Who was Rufaida Al-Aslamia?". 
  3. ^ ا ب Al-Hassani، Salin TS. "Women's Contribution to Classical Islamic Civilisation: Science, Medicine, and Politics". Muslim Heritage. اخذ شدہ بتاریخ 24 نومبر 2013. 
  4. "RCSI Bahrain announces four new awards during conferring ceremony". Royal College of Surgeons in Ireland. اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2013.