زینب بنت ابی سلمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زینب بنت ابی سلمہ
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مملکت اکسوم  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 694  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ابو سلمہ عبد اللہ ابن عبد الاسد  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ہند بنت ابی امیہ  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
استاذہ محمد بن عبداللہ،  حبیبہ بنت ام حبیبہ،  زینب بنت جحش،  عائشہ بنت ابوبکر،  رملہ بنت ابوسفیان،  ہند بنت ابی امیہ  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدثہ،  فقیہہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

زینب بنت ابی سلمہ فضل و کمال میں شہرۂ آفاق تھیں رسول اللہ کی ربیبہ تھیں۔

نام و نسب[ترمیم]

زینب نام، قبیلہ مخزوم سے ہیں۔ سلسلۂ نسب یہ ہے: زینب بنت ابی سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد بن ہلال بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم۔ حبشہ میں اُمّ سلمہ کے بطن سے پیدا ہوئیں اور ان ہی کے ساتھ کچھ زمانہ کے بعد مدینہ کو ہجرت کی اسماء بنت ابی بکرنے دودھ پلایا پہلے برّہ نام تھا آنحضرتﷺ نے زینب نام رکھا۔

حالات زندگی[ترمیم]

میں ابو سلمہ نے وفات پائی تو اُمّ سلمہ آنحضرتﷺ کے عقدِ نکاح میں آئیں اس وقت زینب شیر خوار تھیں۔ ام سلمہ بہت حیادار تھیں، ابتدا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکان پر تشریف لاتے تو ام سلمہ فرط غیرت سے اس بیٹی (زینب) کو گود میں بٹھا لیتیں، آپ یہ دیکھ کر واپس تشریف لے جاتے، عمار بن یاسر کو جو ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، معلوم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور زینب کو چھین لے گئے۔[1]

والدہ ماجدہ کے ساتھ آنحضرتﷺ کے آغوشِ تربیت میں آئیں، آنحضرتﷺ کو ان سے محبت تھی پیروں پر چلنے لگیں تو آنحضرت ﷺ کے پاس آتیں۔ آپ غسل فرماتے تو ان کے منہ پر پانی چھڑکتے تھے، لوگوں کا بیان ہے کہ اس کی یہ برکت تھی کہ بڑھاپے تک ان کے چہرے پر شباب کا آب و رنگ باقی رہا۔

شادی[ترمیم]

عبد اللہ بن زمعہ بن اسود اسدی سے شادی ہوئی، دو لڑکے پیدا ہوئے، جن میں ایک کا نام ابوعبیدہ تھا، 63ھ میں حرّہ کی لڑائی میں دونوں کام آئے اور زینب کے سامنے ان کی لاشیں لاکر رکھی گئیں۔ انہوں نے اِنَّا لِلّٰہ پڑھا اور کہا کہ ’’مجھ پر بہت بڑی مصیبت پڑی، ایک تو میدان میں لڑ کر قتل ہوا، لیکن دوسرا تو خانہ نشین تھا لوگوں نے اس کو گھر میں گھس کر مارا۔‘‘

وفات[ترمیم]

بیٹوں کے قتل کے بعد دس برس زندہ رہیں اور 73ھ میں انتقال فرمایا، یہ طارق کی حکومت کا زمانہ تھا۔ ابن عمر جنازہ میں تشریف لائے۔[2]

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت زینب رضی اللہ عنہافضل وکمال میں شہرہ آفاق تھیں اور اس وصف میں کوئی عورت ان سے ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی تھیں، اسدالغابہ میں ہے: وَكَانَتْ مِنْ أفقه نساء زَمَانهَا۔ [3] ترجمہ:وہ اپنے عصر کی فقیہ خاتون تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ حدیثیں روایت کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت اُم حبیبیہ رضی اللہ عنہا اور حضر زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی چند حدیثیں سنیں، جن لوگوں نے اُن سے حدیث روایت کی ہے اُن کے نام یہ ہیں: امام زین العابدین رضی اللہ عنہ، ابوعبیدہ، محمدبن عطاء، عراک بن مالک، حمید ابن نافع، عروہ، ابوسلمہ، کلیب بن وائل، ابوقلابہ جرمی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسند احمد ج6 ص295
  2. سیر الصحابیات، مؤلف، مولانا سعید انصاری صفحہ 130
  3. (اسدالغابہ،كتاب النساء،زينب بِنْت أبي سلمة:3/360، شاملہ،موقع الوراق)