فاطمہ بنت اسد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فاطمہ بنت اسد
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 555  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 625 (69–70 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شوہر ابو طالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد علی بن ابی طالب،  جعفر ابن ابی طالب،  عقیل ابن ابی طالب،  طالب ابن ابی طالب،  ام ہانی بنت ابی طالب،  جمانہ بنت ابی طالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد اسد بن ہاشم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

فاطمہ بنت اسد ابو طالب کی زوجہ اور علی بن ابی طالب کی والدہ تھیں۔سنہ وفات 626ء ہے۔

نام و نسب

فاطمہ نام، اسد بن ہاشم کی بیٹی تھیں اور عبد المطلب، جد ّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بھتیجی تھیں۔ آپ ابو طالب کے چچا کی بیٹی اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا ہاشم کی پوتی تھیں۔

اعزازات

  • اسلامی روایات کے مطابق آپ کی خاطر خانہ کعبہ کی دیوار میں شگاف ہوا اور آپ تین دن تک کعبہ کے اندر رہیں اور وہیں علی بن ابی طالب کی ولادت ہوئی۔
  • پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا ۔
  • پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے ہجرت کی۔
  • پہلی ہاشمی خاتون تھیں جن کی ہاشمی مرد سے شادی ہوئی۔
  • پہلی ہاشمی خاتون تھیں جو ہاشمی مرد کے بچے کی ماں بنیں۔
  • پہلی ہاشمی خاتون تھیں جن کا بیٹا امام بنا۔ پوتے بھی امام بنے۔
  • پہلی ہاشمی خاتون تھیں جن کا بیٹا خلیفہ بنا۔ پوتا بھی خلیفہ بنا۔
  • آپ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تین سال شعب ابی طالب میں صعوبتیں بھی برداشت کیں جب قریش نے مسلمانوں کا معاشرتی مقاطعہ کیا تھا۔
  • پہلی خاتون تھیں جن کی وفات پر نبی اکرم نے انتہائی دکھ کا اظہار کیا۔
  • تنہا شخصیت تھیں جن کے کفن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قمیض شامل ہوئی۔

اولاد

فاطمہ بنت اسد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے بیٹے کی طرح پالا جب ان کے دادا عبد المطلب کی وفات ہوئی اور وہ ابو طالب کے زیرِ کفالت آئے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں ماں سمجھتے تھے اور کہتے تھے۔ جب بھی وہ فاطمہ بنت اسد کو دیکھتے تو احتراماً کھڑے ہو جاتے۔ اس کے علاوہ ان کی اپنی اولاد درج ذیل ہے۔

نوٹ: عبدالرحن بن ابی طالب ان کے بیٹے نہیں تھے۔

بہن/بھائی

  • حنین بن اسد
    "مدفن حجون قبرستان ہے"۔
  • عدائی بنت اسد
    "بعض کے نزدیک مدفن ملک شام" ہے۔
  • خلدة بنت أسد "ان کی شادی اپنے چچا زاد ارقم بن نضلہ بن ہاشم سے ہوئی، جن سے شفاء نامی ایک بیٹی پیدا ہوئی"۔[1]
    "مدفن حجون قبرستان ہے"۔[2]

وفات

آپ جنت البقیع میں چار اماموں (حسن بن علی، زین العابدین، محمد باقر اور جعفر صادق) کے ساتھ دفن ہیں

آپ کی وفات 626ء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں ہوئی جس کا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو انتہائی دکھ ہوا۔ اور اس سال کو عام الحزن قرار دیا۔ انس بن مالک راوی ہیں کہ جب فاطمہ بنت اسد کا انتقال ہوا تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے اور ان کے سرہانے بیٹھ کر فرمایا:-

اے میری ماں خدا آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ بہت دفعہ آپ نے مجھے کھلانے کے لیے خود بھوک برداشت کی۔ آپ نے ایسی اچھی چیزیں مجھے کھلائیں اور ایسا اچھا پہنایا جن سے آپ نے خود کو محروم کیا۔ خدا یقیناً آپ کے ان اعمال سے خوش ہے۔ یقیناً آپ کی نیت اللہ کی رضا حاصل کرنا اور آخرت میں کامیاب ہونا تھی۔

— [3]

اس کے بعد انہوں نے ان کی قبر مبارک کے رکھنے کے لیے اپنی قمیض عنائت فرمائی اور ان کی قبر میں خود اتر کر لیٹے اور اسے ملاحظہ کیا اور فاطمہ بنت اسد کا جسم اقدس اس میں اتارا۔ لوگوں نے وجہ دریافت کی تو فرمایا میں نے ان کو قمیض پہنائی کہ جنت میں ان کو حلہ ملے اور قبر میں لیٹ گیا کہ شدائدِ قبر میں کمی واقع ہو۔[4]

حوالہ جات

  1. مختصر تاريخ دمشق
  2. * الثقات 9 /30
  3. آیتی، تاریخ پیامبر اسلام، صفحہ 49
  4. اسدالغابہ:5/517