فاطمہ بنت اسد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حضرت فاطمہ بنت اسد (عربی:فاطمه بنت اسد‎) ابو طالب کی زوجہ اور علی بن ابی طالب کی والدہ تھیں۔اسلامی روایات کے مطابق آپ کی خاطر خانہ کعبہ کی دیوار میں شگاف ہوا اور آپ تین دن تک کعبہ کے اندر رہیں اور وہیں علی بن ابی طالب کی ولادت ہوئی۔ وہ پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت کی۔ آپ ابو طالب کے چچا کی بیٹی اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا ہاشم کی پوتی تھیں۔ سن وفات 626ء ہے۔ آپ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تین سال شعب ابی طالب میں صعوبتیں بھی برداشت کیں جب قریش نے مسلمانوں کا معاشرتی مقاطعہ کیا تھا۔

وفات

آپ کی وفات 626ء میں ہوئی جس کا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو انتہائی دکھ ہوا۔ اور اس سال کو عام الحزن قرار دیا۔ انس بن مالک راوی ہیں کہ جب فاطمہ بنت اسد کا انتقال ہوا تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے اور ان کے سرہانے بیٹھ کر فرمایا:-

اے میری ماں خدا آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ بہت دفعہ آپ نے مجھے کھلانے کے لیے خود بھوک برداشت کی۔ آپ نے ایسی اچھی چیزیں مجھے کھلائیں اور ایسا اچھا پہنایا جن سے آپ نے خود کو محروم کیا۔ خدا یقیناً آپ کے ان اعمال سے خوش ہے۔ یقیناً آپ کی نیت اللہ کی رضا حاصل کرنا اور آخرت میں کامیاب ہونا تھی۔

اس کے بعد انہوں نے ان کی قبر مبارک کے رکھنے کے لیے اپنا کرتہ عنائت فرمایا اور ان کی قبر میں خود اتر کر لیٹے اور اسے ملاحظہ کیا اور فاطمہ بنت اسد کا جسم اقدس اس میں اتارا۔

اولاد

فاطمہ بنت اسد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے بیٹے کی طرح پالا جب ان کے دادا عبدالمطلب کی وفات ہوئی اور وہ ابو طالب کے زیرِ کفالت آئے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں ماں سمجھتے تھے اور کہتے تھے۔ جب بھی وہ فاطمہ بنت اسد کو دیکھتے تو احتراماً کھڑے ہو جاتے۔ اس کے علاوہ ان کی اپنی اولاد درج ذیل ہے۔

حوالہ جات