ام کلثوم بنت محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِمحمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی ۔ حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بطن سے تھیں۔ اپنی کنیت ہی سے مشہور ہیں۔

حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تیسری صاحبزادی تھیں۔ نبوت سے کچھ عرصہ قبل پیدا ہوئیں۔ اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اسلام قبول کیا۔

حضرت ام کلثوم کا نکاح ابو لہب کے دوسرے بیٹے عتیبہ سے ہوا تھا لیکن رخصتی سے قبل طلاق ہوئی جس کی وجہ ابو لہب کی اسلام دشمنی تھی۔

آپ کی بہن حضرت رقیہ ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ 2ھ میں غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بہت مغموم رہنے لگے۔ انہیں اس بات کا بہت زیادہ غم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرابت داری کا جو اہم رشتہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 3ھ میں حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا عقد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا اور اس حوالے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دامادی کا شرف پھر حاصل ہوا۔ اسی لیے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو "ذو النورین" یعنی دو نوروں والا کہتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے ساتھ حضرت ام کلثوم نے بھی ہجرت کی اور باقی عرصہ مدینہ میں ہی گذارا۔ ام کلثوم نے شعبان 9ھ میں انتقال فرمایا۔ نماز جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پڑھائی۔ یہ پہلے ابو لہب کے دوسرے بیٹے عتیبہ سے بیاہی گئی تھیں مگر سورۂ تبت یدا میں ابو لہب کی برائی سن کر عتیبہ اس قدر طیش میں آگیا کہ اس نے گستاخی کرتے ہوئے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر جھپٹ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم كے پیراہن شریف کو پھاڑ ڈالا اور حضرت ام کلثوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو طلاق دے دی حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے قلب نازک پر اس گستاخی اور بے ادبی سے انتہائی صدمہ گزرا اور جوش غم سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی زبان مبارک سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے کہ۔ یااﷲعزوجل! اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اس پر مسلط فرمادے۔ اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ ملک شام کے راستہ میں یہ قافلہ کے بیچ میں سویا تھا اور ابو لہب قافلہ والوں کے ساتھ پہرہ دے رہا تھا مگر اچانک ایک شیر آیا اور عتیبہ کے سر کو چبا گیا اور وہ مرگیا حضرت بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے 3ھ میں حضرت ام کلثوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کر دیا مگر ان کے شکم مبارک سے کوئی اولاد نہیں ہوئی 9ھ میں حضرت ام کلثوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں ان کو دفن فرمایا۔[1][2]


  1. ^ شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام،ج4،ص325۔327
  2. ^ جنتی زیور،عبدالمصطفٰی اعظمی،صفحہ502،ناشرمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی