حسان بن ثابت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسان بن ثابت
حسان بن ثابت بن منذر بن حرام بن عمرو بن زید مناہ بن عدی بن عمرو بن مالک ابن نجار
حسان بن ثابت.png

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 554  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 674 (119–120 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب شاعر الرسول، ابو ولید، ابو عبد الرحمن
طبی کیفیت اندھا پن  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ سیرین بنت شمعون
اولاد عبد الرحمن
عملی زندگی
نسب خزرجی
خصوصیت شاعر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


نام حسان بن ثابت تھا جبکہ ابوالولید کنیت تھی۔ شاعر اور شاعر رسول اللہ القاب تھے۔ قبیلہ بنو خزرج میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ سلسلۂ نسب یہ ہے،حسان ابن ثابت بن منذر بن حرام بن عمروبن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجا ربن ثعلبہ بن عمرو بن خزرج ،والدہ کا نام فریعہ بنت خالد بن خنیس بن لوذان بن عبد ودبن زید بن ثعلبہ بن خزرج بن کعب بن ساعدہ تھا، قبیلہ خزرج سے تھیں اور سعد بن عبادہ سردار خزرج کی بنت عم ہوتی تھیں ،[4]حسان نے ایک شعر میں ان کا نام ظاہر کیا ہے۔ امسی الجلا بیب قد غروا وقد کثروا وابن الفریعۃ امسی بیضۃ البلد [5] سلسلۂ اجداد کی چار پشتیں نہایت معمر گذریں،عرب میں کسی خاندان کی چار پشتیں مسلسل اتنی طویل العمر نہیں مل سکتیں، حرام کی عمر جو حضرت حسانؓ کے پردادا تھے ۱۲۰ سال کی تھی ان کے بیٹے منذر اورثابت بن منذر اورحسان بن ثابت سب نے یہی عمر پائی۔ [6]

معمر ترین اجداد[ترمیم]

سلسلۂ اجداد کی چار پشتیں نہایت معمر گذریں،عرب میں کسی خاندان کی چار پشتیں مسلسل اتنی طویل العمر نہیں مل سکتیں، حرام کی عمر جو حسان کے پردادا تھے 120 سال کی تھی ان کے بیٹے منذر اورثابت بن منذر اورحسان بن ثابت سب نے یہی عمر پائی۔[7]

اسلام[ترمیم]

حسان حالتِ ضعیفی میں ایمان لائے،ہجرت کے وقت 60 برس کا سن تھا۔ عمر رسیدہ ہونے اورضعف قلب کے باعث کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے

جہاد باللسان[ترمیم]

جہاد بالنفس جان کی بجائے زبان سے جہاد کیا۔ آپ قریش کے اسلام دشمن شعرا کی ہجو کا مسکت جواب دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات پر حسان نے بڑے پر درد مرثیے لکھے۔ شاعری کے لحاظ سے جاہلیت کے بہترین شاعر تھے۔ کفار کی ہجو اور مسلمانوں کی شان میں بے شمار اشعار کہے ہیں۔

واقعہ افک[ترمیم]

5ھ میں غزوہ مریسیع سے واپسی کے وقت منافقین نے عائشہ صدیقہ پر اتہام لگایا، عبد اللہ بن ابی ان سب میں پیش پیش تھا، مسلمانوں میں بھی چند آدمی اس کے فریب میں آ گئے، جن میں حسان، مسطح بن اثاثہ ،اورحمنہ بنت جحش بھی شامل تھیں، جب عائشہ کی برأت میں آیتیں اتریں تو آنحضرتﷺ نے اتہام لگانے والوں پر عفیفہ عورتوں پر تہمت لگانے کی قرآن کی مقرر کردہ حد جاری رکھی۔[8] گو حسان عائشہ پر تہمت لگانے والوں میں سے تھے،لیکن اس کے باوجود جب ان کے سامنے حسان کو کوئی برا کہتا تو منع کرتیں اور فرماتیں کہ وہ آنحضرتﷺ کی طرف سے کفار کو جواب دیا کرتے تھے اور آپ کی مدافعت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حسان عائشہ صدیقہ کو شعر سنا رہے تھے کہ مسروق بھی آ گئے اورکہا آپ ان کو کیوں آنے دیتی ہیں، حالانکہ خدا نے فرمایا ہے کہ افک میں جس نے زیادہ حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے،فرمایا یہ نابینا ہو گئے اس سے زیادہ اورکیا عذاب ہوگا ،پھر فرمایا بات یہ ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشرکین کی ہجو کرتے تھے۔[9]

منبر رسول پر[ترمیم]

ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسان بن ثابت کے لیے مسجد میں منبر رکھایا کرتے تھے، تاکہ اس پر کھڑے ہو کر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مفاخرت کریں۔ یعنی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف میں فخریہ اشعار پڑھیں یا حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مدافعت کریں، یعنی کفار کے الزامات کا جواب دیں۔ یہ شک راوی کا ہے اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بھی فرماتے تھے کہ حق تعالیٰ روح القدس سے حسان کی امداد فرماتے ہیں۔ جب تک کہ وہ دین کی امداد کرتے ہیں۔[10]

نبی ﷺکے بعد آپ کے جانشین حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک بھی حسان کا ایک مرتبہ تھا، انہیں مال غنیمت میں حصہ بھی دیتے رہے ، خصوصا عمر بن خطابؓ، عمر نے اپنے دور میں تو انہیں قاضی شعر بنا یا تھا، جب حطیہ نے زبادبن بدر کی ہجو کی تو وہ عمر کے پاس معاملہ لے کر آئے، عمرؓ نے اپنا فیصلہ نہیں سنایا کیونکہ شعر و شاعری سے انہیں واقفیت نہ تھی، لہذا انہوں نے حسان سے اس سلسلے میں مشورہ لیا تھا اور انہیں اس معاملے کا قاضی بنایا، ایک دوسرے واقعے میں نجاشی حارثی نے کچھ افراد کی ہجو کردی تھی تو وہ لوگ عمرؓ کے پاس شکایت لے کر آئے، تو ان کے لیے بھی حسان کو ہی حکم اور قاضی بنایا، نیز حسان نعمان بن منذر کے دربار میں نابغہ جیسے شاعر پر پہلے ہی فوقیت لے چکے تھے۔[1]

شاعری[ترمیم]

شوق شاعری[ترمیم]

آپ نے یثرب کے شہری ماحول میں پرورش پائی۔ وہاں شعر و شاعری کے تذکرے عام تھے۔ آپ کا ذوق سلیم شاعری کے مطابق تھا۔ شعر کہنا شروع کیا۔ اپنے قبیلے کا جوش و جذبہ بڑھانے کے لیے شعر کہتے اور بہت جلد نامور ہو کر اشعر اہل المدر کہلائے۔ حضری شعرا میں تو کوئی ان کا مد مقابل نہ تھا۔ بدوی شعرا سے بھی تعلق رہتا اورشعری مبازرت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے ۔[11] ناقدین آپ کی دور جاہلیت کی شاعری کو بہترین اور قابل استناد جانتے ہیں۔ آل جفنہ کی مدح میں آپ کے قصائد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان قصائد کی ایک خوبی یہ تھی کہ یہ مالی اعانت یا انعام اکرام کی بجائے خلوص و محبت کے رنگ میں ڈھلے ہوئے تھے ۔

قصیدہ[ترمیم]

اردو ترجمہ:

میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ​


جہاں میں‌ ان سا چہرہ ہے نہ ہے خندہ جبیں کوئی
ابھی تک جن سکیں نہ عورتیں ان سا حسین کوئی​


نہیں رکھی ہے قدرت نےمیرے آقا کمی تجھ میں
جو چاہا آپ نے مولا وہ رکھا ہے سبھی تجھ میں​

میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ​

بدی کا دور تھا ہر سو جہالت کی گھٹائیں تھیں
گناہ و جرم سے چاروں طرف پھیلی ہوائیں تھیں​


خدا کے حکم سے نا آشنا مکے کی بستی تھی
گناہ و جرم سے چاروں طرف وحشت برستی تھی​


خدا کے دین کو بچوں کا ایک کھیل سمجھتے تھے
خدا کو چھوڑ کر ہر چیز کو معبود کہتے تھے​


وہ اپنے ہاتھ ہی سے پتھروں کے بُت بناتے تھے
انہی کے سامنے جھکتے انہی کی حمد گاتے تھے​


کسی کا نام "عُزی" تھا کسی کو "لات" کہتے تھے
"ہُبل" نامی بڑے بُت کو بتوں کا باپ کہتے تھے​


اگر لڑکی کی پیدائش کا ذکر گھر میں سن لیتے
تو اُُس معصوم کو زندہ زمیں میں دفن کر دیتے​


پر جو بھی بُرائی تھی سب ان میں‌ پائی جاتی تھی
نہ تھی شرم و حیا آنکھوں‌ میں گھر گھر بے حیائی تھی​


مگر اللہ نے ان پر جب اپنا رحم فرمایا
تو عبد اللہ کے گھر میں خدا کا لاڈلا آیا​


عرب کے لوگ اس بچے کا جب اعزاز کرتے تھے
تو عبد المطلب قسمت پر اپنی ناز کرتے تھے​


خدا کے دین کا پھر بول بالا ہونے والا تھا
محمد سے جہاں میں پھر اُجالا ہونے والا تھا​

میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ​

فرشتہ ایک اللہ کی طرف سے ہم میں حاضر ہے
خدا کے حکم سے جبرئیل بھی اک فرد لشکر ہے​


سپہ سالار اور قائد ہمارے ہیں رسول اللہ
مقابل ان کے آؤ گے ملے گی ذلت کُبری​


ہمیں فضل خدا سے مل چکی ایماں‌ کی دولت ہے
ملی دعوت تمہیں پر سر کشی تم سب کی فطرت ہے​


سنو اے لشکر کفار ہے اللہ غنی تم سے
لیا تعمیر زمیں کا کام ہے اللہ نے ہم سے​


لڑائى اور مدح و ذم میں بھی ہم کو مہارت ہے
قبیلہ معاذ سے ہر روز لڑنا تر سعادت ہے​


زبانی جنگ میں شعر و قوافی خوب کہتے ہیں
لڑائی جب بھی لڑتے ہیں‌ لہو دشمن کے بہتے ہیں​

میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ​

محمد کے تقدس پر زبانیں جو نکالیں گے
خدا کے حکم سے ایسی زبانیں کھینچ ڈالیں گے


کہاں رفعت محمد کی کہاں تیری حقیقت ہے
شرارت ہی شرارت بس تیری بے چین فطرت ہے​


مذمت کر رہا ہے تُو شرافت کے مسیحا کی
امانت کے دیانت کے صداقت کے مسیحا کی​


اگر گستاخ ناموس احمد کر چکے ہو تم
تو اپنی زندگی سے قبل ہی بس مر چکے ہو تم​


میرا سامان جان و تن فدا ان کی رفاقت پر
میرے ماں باپ ہو جائیں نثار ان کی محبت پر​
زبان رکھتا ہوں ایسی جس کو سب تلوار کہتے ہیں
میرے اشعار کو اہل جہاں ابحار کہتے ہیں​

میرے آقا میرے مولا، میرے آقا میرے مولا
محمد رسول اللہ، محمد رسول اللہ​

اہل و عیال[ترمیم]

بیوی کا نام سیرین تھا جو ماریہ قبطیہ حرم رسول اللہ کی ہمشیرہ تھیں ان سے عبد الرحمن نامی ایک لڑکا پیدا ہوا،اس بنا پر عبد الرحمن ابراہیم بن رسول اللہ ﷺ حقیقی خالہ زاد بھائی تھے۔[12]

اخلاق وعادات[ترمیم]

ان کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ دربار نبوی کے شاعر تھے اورآنحضرتﷺ کی جانب سے کفار کی مدافعت میں اشعار کہتے تھے اورآنحضرتﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ خدایا روح القدس سے ان کی مدد کر،اس بنا پر بارگاہ رسالت میں ان کو خاص تقرب حاصل تھا۔ طبیعت کی کمزوری کے باوجود اخلاقی جرأت موجود تھی،ایک مرتبہ مسجد نبوی میں شعر پڑھ رہے تھے، عمرفاروق نے منع کیا تو جواب دیا کہ میں تم سے بہتر شخص کے سامنے پڑھا کرتا تھا۔[13]

وفات[ترمیم]

آنحضرتﷺ کے بعد عرصہ تک زندہ رہے 120 برس کی عمر تھی،۔ امیر معاویہ کے زمانے 60ھ میں وفات پائی۔

مکان[ترمیم]

جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں ان کا آبائی مسکن،فارع کا قلعہ تھا؛ لیکن جب ابو طلحہؓ نے بیر حا کو صدقہ کرکے اپنے اعزہ پر تقسیم کر دیا اوران کے حصہ میں بھی ایک باغ آیا تو یہاں سکونت اختیار کرلی یہ مقام بقیع سے قریب تھا، امیر معاویہؓ نے اس سے خرید کرکے یہاں ایک قصر بنوایا تھا جو قصر بنی حدیلہ کے نام سے مشہور تھا ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کو یہ زمین آنحضرتﷺ نے اس صلہ میں دی تھی کہ انہوں نے صفوان بن معطل کا وار برداشت کیا تھا،لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ اول تو وہ کبھی میدان جنگ میں شریک نہیں ہوئے،دوسرے خود اس روایت کی سند مشتبہ ہے،ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کی تائید صحیح بخاری سے ہوتی ہے۔

فضل وکمال[ترمیم]

آنحضرت ﷺ سے چند حدیثیں روایت کی ہیں ،راویوں میں حضرت براء بن عازبؓ، سعید بن مسیبؓ،ابوسلمہ بن عبدالرحمن ،عروہ بن زبیر، ابو الحسن مولی بنو نوفل ،خارجہ بن زید بن ثابت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اوردیگر حضرات ہیں۔

دفاعی نظمیں[ترمیم]

حضرت حسانؓ کی اسلامی شاعری کا موضوع مدافعت عن الدین یا ہجو کفار ہے،انہوں نے بہت سے کفار کی ہجو لکھی ہے؛ لیکن اس کے باوجود ان کا کلام فحاشی سے بالکل پاک ہے۔ عربوں کے نزدیک ہجو کی غرض محض اپنے قبیلہ کی مدافعت ہوتی تھی، اس بناء پر وہ اپنے اشعار صحیح واقعات میں نہایت موزوں اورمناسب پیرایہ میں نظم کرتے ہیں؛چنانچہ رہیر نے تجاہل کے طور پر یہ اشعار لکھے: وما ادری وسوف اخال ادری اقوم آل حصن ام نساء مجھے معلوم نہیں اور عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ آل حصن مرد ہیں یا عورت فان تکن النساء نحئبات فحق لکل محصنۃ ھداء اگر عورتیں ہیں تو ان کو ہدیہ کرنا چاہیے لوگوں کو نہایت گراں گذرا کہ عرب میں سب سے سخت ہجو لکھی گئی تھی۔ حضرت حسانؓ کی ہجو سب دشتم پر مشتمل نہ تھی؛بلکہ مدافعت تھی اوروہ بھی بطریق احسن وبہ پیرائیہ مناسب ،صاحب اسد الغابہ لکھتے ہیں: فكان حسان وكعب يعارضانهم، مثل قولهم في الوقائع والأيام والمآثر، ويذكرون مثالبهم [14] یعنی حسان وکعب مشرکین کی رزمیہ اورفخریہ نظموں کا جواب دیتے تھے اوران کے شالب کا تذکرہ کرتے تھے۔ حضرت حسانؓ نے ہجو گوئی اس طرح شروع کی کہ مشرکین میں ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب ،عبداللہ بن زبعری، عمروبن عاص،ضراء بن خطاب،آنحضرتﷺکی ہجو کرتے تھے، لوگوں نے حضرت علیؓ ؓ سے درخواست کی کہ آپ ان کے جواب میں ہجو لکھیں،فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہوتو میں آمادہ ہوں،آپﷺ کو خبر ہوئی تو فرمایا‘علی اس کام کے لئے موزوں نہیں،اس کام کو انصار کریں گےجنہوں نے تلوار سے میری مدد کی ہے،حضرت حسانؓ نے زبان پکڑ کر کہا میں اس کام کے لئے بخوشی آمادہ ہوں۔ ارشاد ہواکہ قریش کی ہجو کس طرح کرو گے حالانکہ میں بھی انہی میں سے ہوں ،عرض کیا: لأسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجي [15] میں آپﷺ کو اس طرح نکالوں گا جیسے آٹے سے بال نکالا جائے۔ فرمایا تو تم نسب ناموں میں ابو بکرؓ سے مدد لینا ان کو قریش کے نسب میں اچھی واقفیت ہے۔ [16] حضرت حسان ؓ، حضرت ابوبکرؓ کے پاس جاتے اوران سے دریافت کرتے تھے ،حضرت ابوبکرؓ بتاتے کہ فلاں فلاں عورتوں کو چھوڑدینا یہ رسول اللہ ﷺ کی دادیاں ہیں ،باقی فلاں فلاں عورتوں کا تذکرہ کرنا، ابو سفیان بن حارث کی ہجو میں یہ اشعار لکھے: وأن سنام المجد من آل هاشم بنو بنت مخزوم ووالدك العبد. ومن ولدت أبناء زهرة منهم كرام ولم يقرب عجائزك المجد. ولست كعباس ولا كابن أمه ولكن لئيم لا يقام له زند. وأن امرأ كانت سمية أمه وسمراء مغموز إذا بلغ الجهد. وانت بین نیط فی آل ھاشم کما نیط خلفت الراکب القدح الفرد [17] تو بولا کہ ان شعروں میں ابوبکرؓ کا حصہ ضرور ہے، اس میں انہوں نے حضرت عبداللہ ادحاب، زبیر، حضرت حمزہ، حضرت صیفہؓ،حضرت عباسؓ اورضراء بن عبدالمطلب کو مستثنیٰ کرکے ابو سفیان کی ماں سمیہ اوراس کے باپ حارث کی ماں سمراء پر طنز کیا ہے۔ [18] اسی ابو سفیان کی ہجو میں کہتے ہیں: هجوت محمداً فأجبت عنه ... وعند الله في ذاك الجزاء هجوت مطهراً براً حنيفاً ... أمين الله شيمته الوفاء أتهجوه ولست له بكفء ... فشركما لخيركما الفداء فإن أبي ووالدتي وعرضي ... لعرض محمد منكم وقاء [19] آنحضرتﷺ اس مدافعت سے نہایت خوش ہوتے تھے ایک مرتبہ فرمایا: حسان اجب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم اللهم ايده بروح القدس [20] اے حسان میری طرف سے جواب دے،خداوندا روح القدس کے ذریعہ اس کی تائید کی۔ ایک مرتبہ ارشاد ہوا: اهْجُهُمْ أَوْ قَالَ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ [21] یعنی تم نے مشرکین کی ہجو کو جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔ مشرکین پر ان شعروں کا جو اثر پڑتا تھا، اس کو آنحضرتﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: إن قوله فيهم أشد من وقع النبل [22] حسان کا شعر ان میں تیر و نشتر کا کام کرتا ہے اب ہم ہجو کے چیدہ اشعار لکھتے ہیں: أتهجوه ولست له بندٍّ فشركما لخير كما الفداء [23] تو باایں ہمہ کہ آنحضرتﷺ کا کفو نہیں ان کی ہجو کرتا ہے پس تم میں کا برا اچھے پر قربان ہے۔ اس شعر کا اخیر مصرعہ اس قدر مقبول ہوا کہ ضرب المثل کے طور پر مستعمل ہوتا ہے واشھد ان لک من قریش کال السقب من ولد النعام میں جانتا ہوں کہ تیری قرابت قریش سے ہے ؛لیکن اس طرح جیسے اونٹ کے بچہ کی شتر مرغ کے بچہ سے ہوتی ہے۔ ابن مضرغ نے انہی کا پہلا مصرع اڑا کر امیر معاویہؓ کی ہجو لکھی تھی۔ واشھد ان الک من زیار [24] وأُمُّكَ سَوْدَاءُ مَوْدُونَة ٌ كَأنّ أنَامِلَهَا الحُنْظُبُ [25] تیری ماں کالی حبشن ہے اور بے انتہا پست قد ہے اور پورگویاحنظب(ایک چھوٹا جانور ہے) ہیں۔

مدح[ترمیم]

مدح اچھی لکھتے تھے،آل عنان کی تعریف میں جو اشعار لکھے ہیں ان میں سے بعض ہم اس مقام پر نقل کرتے ہیں: یسقون من ورد البریض علیھم یردی یصفق بالرحیق السلسل جوان کے ہاں جاتا ہے وہ اس کو بردی (نہر کا نام ہے) کا پانی صاف شراب میں ملاکر پلاتے ہیں۔ مصعب بن زبیر کی مدح میں ابن قیس نے ایک شعر اسی کے قریب قریب کیا ہے؛ لیکن جو مضمون اس میں ادا ہوا ہے اس میں نہیں ادا ہوا۔ [26] اسی طرح یہ شعر یغشون حتی ماتھم کلابھم لا یسلون عن السوارالقبل اس بات میں اختلاف ہے کہ مدح کا سب سے بہتر شعر کون ہے ۳ شاعروں کے تین شعر اس باب میں سب سے بہتر ہیں؛ لیکن ان میں بھی ترجیح کس کو ہے یہ امرناقابل انفصال ہے،حطیہ حضرت حسانؓ کے شعر کو ترجیح دیتا ہے اورلوگ ابو الطحان اورنابغہ کے شعروں کو بہتر بتاتے ہیں[27] عبدالملک بن مروان کہ اہل زبان اورزبان کا حاکم تھا،اس کا فیصلہ یہ ہے کہ إن أمدح بيت قالته العرب بيت حسان هذا [28] اگر مضمون کے لحاظ سے دیکھا جائے تو واقعی عجیب جدت ہے، شاہان غسان کے جودوسخا کو اس پیرایہ میں بیان کرتے ہیں کہ ان کے یہاں مہمانوں کی اتنی کثرت رہتی ہے کہ کتے تک مانوس ہوگئے ہیں اوران کو دیکھ کر نہیں بھونکتے۔ یہ جاہلیت کے اشعار تھے،آنحضرت ﷺ کی مدح میں جو شعر لکھے ہیں اب ان کو بھی سننا چاہیے: متى يبد في الداجي البهيم جبينه يلح مثل مصباح الدجى المتوقد جب آنحضرتﷺ کی پیشانی اندھیری رات میں نظر آتی ہے تو اس کی چمک نہایت روشن چراغ کی طرح ہوتی ہے۔ فمن كان أو من قد يكون كأحمد نظام لحق أو نكال لملحد پس آنحضرتﷺ کا مثل کہ حق کا نظام اور ملحد کو عذاب جان ہیں، کون پیدا ہوا اورکون آیندہ ہوسکتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کا ذکر کیا تو فرمایا کہ آپﷺ ایسے ہی تھے جیسا کہ حسانؓ نے کہا ہے۔ [29] آنحضرتﷺ مسجد نبوی میں منبر رکھوادیتے تھے،حضرت حسانؓ اس پر کھڑے ہوکر رسول اللہﷺ کی مدح کرتے تھے اورآپ نہایت مسرور ہوتے تھے۔ [30] جب بنو تمیم کا وفد آیا اورحسانؓ نے قریش کی مدح میں شعر پڑھے تو سب کے سب بول اٹھے کہ محمد کا خطیب ہمارے خطیب سے اوران کا شاعر ہمارے شاعر سے بہتر ہے۔[31]

افتخار[ترمیم]

حصان رزان ما ترن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل [32] یہ شعرحضرت عائشہؓ کی مدح میں ہے ان کو سنایا تو بولیں خیر میں تو ایسی ہوں؛ لیکن تم ایسے نہیں۔ [33] حسب ذیل اشعار فخر میں ہیں: أهدى لهم مدحاً قلب مؤازره فيما أحب لسان حائك صنع [34] میں ممدوح کی ایسی مدح کرتا ہوں جس میں قلب کی اعانت شامل ہوتی ہے اور جس کو شعر کی درست کرنے والی اور ماہر زبان پسند کرتی ہے۔ اس میں انہوں نے زبان کو صنعت کلام کا ماہر قرار دیا ہے: إليك أرحنا عازب الشعر بعدما تمهل في روض المعاني العجائب ممدوح کے پاس وہ شعر بھیجے ہیں جو نہایت بعید المعنی ہیں اور جو معانی کے گلشن میں قیام کرچکے تھے۔ غرائب لاقت في فنائك أنسها من المجد فهي الآن غير غرائب جو نوادر تھے تمہارے ہاں عزت سے ایسے مانوس ہوئے کہ اب اجنبی نہیں رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ میرے اشعار نہایت بلندی معنی رکھتے ہیں اوران کو اکابر شعراء کے علاوہ دوسرا شخص نہیں باندھ سکتا ہے یہ ممدوح کی قدر دانی ہے جو اس کی مدح میں شعر نکلتے ہیں ورنہ وہ گلستان معانی میں مقیم ہوگئے ہیں کیوں کہ کسی کو اپنا اہل نہیں پاتے۔ وقافِيَةٍ مِثْلِ السِّنَانِ رُزِئْتُها تَنَاوَلْتُ من جُوِّ السماءِ نُزُولَهَا اورایک قافیہ جو تیرکی طرح ہے کیا خوب ہے آسمان سے اس کو اڑالایا ہوں۔ [35]

مرثیہ[ترمیم]

حضرت حسانؓ نے مرثیے لکھے ہیں جن کا ہرہر شعر یکسر سوزوگداز ہے، آنحضرتﷺ کے مرثیے ہم اوپر نقل کرچکے ہیں یہاں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔

اخلاقی نظمیں[ترمیم]

ایک تجربہ کار شاعر، ایک سن رسیدہ بزرگ اورسب سے بڑھ کر ایک مقدس صحابی ہونے کی حیثیت سے حضرت حسانؓ کا موضوع شاعری،وعظ وپند اور اعلیٰ اخلاق کی طرف قوم کو رغبت دلاتا ہے؛ چنانچہ ادب کے متعلق فرماتے ہیں: [36] أصونُ عرضي بمالي لا أدنسهُ لا بَارَكَ اللَّهُ بعدَ العِرْضِ في المالِ میں اپنی آبرو مال کے ذریعہ سے بچاتا ہوں جس مال سے آبرو نہ حاصل ہو وہ اچھا نہیں۔ أحتالُ للمالِ، إن أودى فأجمعهُ ولسْتُ لِلعِرْضِ إن أوْدَى بمُحتالِ مال اگر نہ رہے تو پھر حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن آبرو بار بار حاصل نہیں ہوسکتی۔ نرم وگرم ہونے کے متعلق کہتے ہیں۔ وإني لحلوٌ تعتريني مرارة ٌ وإني لتراكٌ لما لمْ أعودِ [37] میں شیریں ہوں لیکن مجھے تلخی پیش آجاتی ہے اور میں جس چیز کا عادی نہیں اس کو چھوڑ دیتا ہوں ظلم کا انجام برا ہوتا ہے۔ ودعِ السؤالَ عن الأمورِ وبحثها فَلَرُبّ حافِرِ حُفرَة ٍ هُوَ يُصْرَعُ ہم کسی بات کو کھود کرید کر نہیں پڑتے کیونکہ گڑھا کھود نے والا بسا اوقات اسی میں پچھاڑا جاتا ہے۔ آدمی کو ہمیشہ ایک سا رہنا چاہیے امیر ہو کر آپے سے باہر اورغریب ہوکر غمگین نہ ہونا چاہیے۔ فلا المالُ ينسيني حيائي وعفتي ولا واقعاتُ الدهرِ يفللنَ مبردي [38] مال ہوتا ہے تو حیا اورحفاظت کو ہاتھ سے نہیں دیتا اورمصیبت آتی ہے تو آرام میں خلل نہیں ڈالتا ہے۔ اپنی موت کو بلانا۔ ولا تكُ كالشاة ِ التي كانَ حتفها بحفرِ ذراعيها، فلمْ ترضَ محفرا [39] تم اس بکری کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنے کھر سے زمین کھود کر موت بلائی تھی۔ بڑے لوگوں کے کینو ں اور بعض کی حالت وَقَوْمٌ مِنَ البَغْضَاء زَوْرٍ، كأنّمَا بأجْوَافهِمْ، مما تُجِنُّ لنَا، الجَمْرُ [40] بہت سے آدمیوں کے پیٹ میں انگارے بھرے رہتے ہیں۔ يَجِيشُ بما فِيهِ لَنَا الصّدْرُ مِثْلَ ما تجيشُ بما فيها من اللهبِ القدرُ ان کے اندر کینے اس طرح جوش مارتے ہیں جس طرح انگارے پر دیگ کا کھانا تَصُدُّ، إذا ما وَاجهتْني، خُدودُهُم لدى محفلٍ عني كأنهمُ صعرُ تم جب محفلوں میں ان کے متکبرانہ چہرے دیکھتے ہو تو ٹھٹھک کر رہ جاتے ہو۔ بات کا پورا کرنا۔ وإني إذا ما قلتُ قولاً فعلتهُ وأعرضُ عما ليسَ قلبي بفاعلِ میں جب کوئی بات کہتا ہوں تو کر گذرتا ہوں اور جس کام کو دل نہیں چاہتا اس سے اعراض کرتا ہوں۔ ومن مكرهي إن شئتُ أن لا أقولهُ وفجعُ الأمينِ شيمة ٌ غيرُ طائلِ اگر میں نہ کہوں تو کوئی زبردستی کرنے والا نہیں اور دوست کا کسی بات سے روکنا بیکار نہیں ہوتا۔ عذر اورخیانت کی برائی۔ يَا حَارِ مَنْ يَغْدِرْ بِذِمّة ِ جَارِهِ منكمْ، فإنّ محمداً لمْ يغدرِ اے پڑوسی! تم میں جو ہمسایہ ہے دھوکہ کرتا ہے،سن لے کہ محمد دھوکہ نہیں کرتے۔ إنْ تغدروا فالغدرُ منكم شيمة ٌ والغدرُ ينبتُ في أصولِ السخبرِ اگر تم دھوکا کرتے ہو تو وہ تمہارا شیوہ ہے دھوکا سنجر کی جڑوں سے نکلتا ہے وأمانة ُ المريّ، حيثُ لقيتهُ مثلُ الزجاجة ِ صدعها لمْ يجبرِ مری کی امانت تم جہاں پاؤ،اس شیشے کی طرح ہوگی جس کا شگاف درست نہیں ہوسکتا بری باتوں سے درگذر أعْرِضْ عن العَوْراء إنْ أُسْمِعتَها واقعدْ كأنكَ غافلٌ لا تسمعُ بری بات سن کر اعراض کیا کرو اس طرح کہ تم نے اس کو سنا ہی نہیں۔ ذلت کی زندگی بسر کرنا۔ كرهوا الموتَ فاستبيحَ حماهمْ وأقاموا فِعْلَ اللّئيمِ الذّليلِ انہوں نے موت کو ناپسند کیا اس بنا پر ان کی آبروریزی ہوئی أمنَ الموتِ ترهبونَ؟ فإنّ الموت موتَ الهزالِ غيرُ جميلِ اگر تم موت سے بھاگتے ہو تو کمزوری کی موت اچھی نہیں ہوتی۔

متفرق چیدہ کلام[ترمیم]

حضرت حسانؓ کے متفرق چیدہ اشعار حسب ذیل ہیں: قومٌ إذا حاربوا ضروا عدوهمُ أوْ حاوَلُوا النّفْعَ في أشياعِهِمْ نَفعوا سجية ٌ تلكَ منهمْ غيرُ محدثة إنّ الخلائِقَ، فاعلَمْ، شرُّها البِدَعُ علم معانی میں بدیع کی ایک قسم نہایت لطیف ہے جو بالکل وجدانی ہے وہ یہ کہ کلام کے تمام اجزا متحد اورایک دوسرے میں داخل ہوں، ہر لفظ کا ربط نہایت شدید ہو، یہاں تک کہ پورا جملہ موتی کی ایک لڑی معلوم ہو،مذکورہ بالا شعراسی صفت کا ہے اوراس میں تقسیم نے اور بھی لطف زیادہ کردیا ہے۔[41] وَإنّ سَنَامَ المَجْدِ مِن آلِ هاشِمٍ بَنُو بنتِ مخزومٍ، وَوَالدُكَ العَبْدُ مقصود یہ ہے کہ جس کی ہجو کی ہے اس کو غلام ثابت کریں اوریہ بیان کرےکہ اس کا غلام ہونا سب پر روشن ہے اس کو "العبد" کے الف لام نے ظاہر کردیا ہے اگر والدک عبد کہتے تو صرف خبر معلوم ہوتی، غلامی کا آشکار ا ہونا سمجھ میں نہ آسکتا۔ [42] اھری حدیث الند مان فی فلق الصبح ومرت المغررالغرر یہ شعر اس درجہ موثر ہے کہ بعض اہل مدینہ کا بیان ہے کہ میں جب پڑہتا ہوں،جذبات شجاعت برانگیختہ ہوجاتے ہیں۔ [43]

دیوان[ترمیم]

حضرت حسانؓ کے اشعار عرصہ تک لوگوں کی زبانوں اورسینوں میں محفوظ رہے؛ لیکن بعد میں زینت دہ سفینہ بھی ہوگئے،ابو سعید سکری نے ان کو جمع کرکے ان کی تشریح کی اصابہ میں اس کے حوالے جا بجا موجود ہیں، [44] بعد میں کسی دوسرے شخص نے اس کی شرح لکھی ،ان کا دیوان ہندوستان اور تونس میں طبع ہوا، ۱۹۱۰ء میں انگلستان کے مشہور ادارے گپ میموریل سیرز، نے لندن، برلن،پیرس اورسینٹ پڑ سبرگ کے متعدد قلمی نسخوں و نیز مطبوعہ نسخوں سے مقابلہ کرکے بڑے اہتمام سے اس کو چھاپا۔ لیکن باایں ہمہ اس کی صحت کے متعلق قطعی رائے نہیں دی جاسکتی،احادیث ،لغت اورادب کی کتابوں میں جو اشعار منقول ہیں وہ بے شبہ صحیح ہیں،باقی اشعار کے متعلق اطمینان مشکل ہے۔ حضرت علیؓ کےد یوان میں پہلا شعر الناس فی صورۃ الشہ افکاء ایوھم آدم والام حراء ہے لیکن عبدالقاہر جرجانی کہ ادب کے امام اور حلم معانی وبیان کے موجد تھے اسرار البلاغۃ میں لکھتے ہیں کہ یہ اشعار محمد بن ربیع موصلی کے ہیں۔ [45] دیوان حسانؓ کو بھی اسی پر قیاس کیجئے،صاحب استیعاب لکھتے ہیں۔ قال الأصمعي حسان بن ثابت أحد فحول الشعراء فقال له أبو حاتم تأتي له أشعر لينة فقال الأصمعي تنسب إليه أشياء لا تصح عنه [46] اصمعی نے کہا کہ حسان نہایت زبردست شاعر تھے ،ابو حاتم بولے بعض اشعار تو بہت کمزور کہتے تھے،اصمعی نے کہا کہ بہت سے شعر ان کے نہیں ؛بلکہ لوگوں نے ان سے منسوب کردیئے۔ اصمعی دوسری صدی ہجری میں تھا اور تیسری صدی میں انتقال کیا، جب تیسری صدی میں اس قدر آمیزش ہوگئی تھی تو ۱۳ صدیاں گذرنے پر خدا جانے کتنے انقلاب ہوئے ہوں گے۔

اخلاق وعادات[ترمیم]

ان کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ دربار نبوی کے شاعر تھے اورآنحضرتﷺ کی جانب سے کفار کی مدافعت میں اشعار کہتے تھے اورآنحضرتﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی کہ خدایا روح القدس سے ان کی مدد کر،اس بنا پر بارگاہ رسالت میں ان کو خاص تقرب حاصل تھا ۔ طبیعت کی کمزوری کے باوجود اخلاقی جرأت موجود تھی،ایک مرتبہ مسجد نبوی میں شعر پڑھ رہے تھے،حضرت عمرؓ نے منع کیا تو جواب دیا کہ میں تم سے بہتر شخص کے سامنے پڑھا کرتا تھا۔ [47] جاہلیت میں شراب پیتے تھے؛ لیکن جب سے مسلمان ہوئے قطعی پرہیز کیا، ایک مرتبہ ان کے قبیلہ کے چند نوجوان مے نوشی میں مصروف تھے، حسانؓ نے دیکھا تو بہت لعنت ملامت کی جواب ملا یہ سب آپ ہی کا فیض ہے آپ کا شعر ہے۔ ونشر بھا تمتر کنا ملوکا واسد اما نیھنھنا القاء ہم اسی کے بموجب پیتے ہیں،فرمایا یہ جاہلیت کا شعر ہے ،خدا کی قسم جب سے مسلمان ہوا شراب منہ نہیں لگائی۔ [48]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/13996 — بنام: Ibn ʿAdī ibn Mālik Ḥassān ibn Ṯābit
  2. أسد الغابة
  3. "المكتبة الإسلامية". 14 اکتوبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اگست 2015. 
  4. بخاری:2/595
  5. (اصابہ:۸/۱۶۶)
  6. (اسد الغابہ:۱)
  7. اسد الغابہ
  8. خلاصۃ الوفاء
  9. اسد الغابہ:2/7
  10. شمائل ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 236
  11. نعت کائنات
  12. اسدالغابہ:2/6
  13. بخاری:1/909،مسند:5/222
  14. (اسد الغابہ،باب حسان بن ثابت:۱/۲۵۵)
  15. (اسد الغابہ،باب حسان بن ثابت:۱/۲۵۵)
  16. (بخاری:۲/۹۰۹،واسد الغابہ:۴/۲)
  17. (اسد الغابۃ،باب حسان بن ثابت:۱/۲۵۵)
  18. (اسد الغابہ:۲/۵)
  19. (الاستیعاب،حسان بن ثابتؓ)
  20. (تاریخ مدینۃ دمشق،باب ذکر من اسمہ حسان:۱۲/۳۸۴،شاملۃ۳۸)
  21. (بخاری،باب ھجاء المشرکین،حدیث نمبر:۵۶۸۷)
  22. (الاستیعاب ،باب حسان بن ثابت الانصاری:۱/۱۰۱)
  23. (العقد الفرید،باب قولھم فی الھجاء:۲/۳۱۶،شاملۃ۳۸)
  24. (طبقات الشعر والشعرا:۲۱۲)
  25. (دیوان حسان بن ثابت، باب أبوكَ أبوكَ، وأنتَ ابنهُ:۱/۲۷)
  26. (کتاب العمدہ:۲/۱۰۴)
  27. (کتاب العمدہ:۲/۱۱۰)
  28. (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،باب حسان بن ثابت الانصاری:۱/۱۰۲)
  29. (استیعاب:۱/۱۳۰)
  30. (استیعاب:۱/۱۲۰)
  31. (استیعاب:۱/۱۳۱)
  32. (الاستیعاب،باب حسان بن ثابت الانصاری:۱/۱۰۲)
  33. (بخاری:۲/۵۹۷)
  34. (دلائل الاعجاز للجرجانی،باب اللفظ والاستعارۃ وشواھد:۱/۱۴۹)
  35. (الشعروالشعراء،باب النمر بن تولب:۱/۶۰)
  36. (دیوان حسان بن ثابت،باب کم للمنازل من شھر:۱/۱۷۲)
  37. (دیوان حسان بن ثابت،باب لعمر ابیک الخیر:۱/۶۰)
  38. (دیوان حسان بن ثابت،باب لعمرابیک الخیر:۱/۶۰)
  39. (دیوان حسان بن ثابت، لعمرابیک الخیر:۱/۹۶)
  40. (دیوان حسان بن ثابت، وقوم من البغضاء:۱/۱۱۸)
  41. (دلائل الاعجاز:۷۴)
  42. (دلائل الاعجاز:۱۴۰)
  43. (اصابہ:۳/۷۸)
  44. (اصابہ:۳/۷۸)
  45. (کتاب ذکور:۲۰۳)
  46. (الاستیعاب،باب حسان بن ثابت الانصاری:۱/۱۰۲)
  47. (بخاری:۱/۹۰۹،مسند:۵/۲۲۲)
  48. (استیعاب :۱/۱۲۹)