حسان بن ثابت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسان بن ثابت
حسان بن ثابت.png
اہم معلومات
پورا نام حسان بن ثابت بن منذر بن حرام بن عمرو بن زيد مناة بن عدی بن عمرو بن مالك ابن النجار
نسب خزرجي
لقب شاعر الرسول . ابو ولید . ابو عبد الرحمن
تاريخ ولات 60 قبل ہجری (564-565 عیسوی)
مقام ولادت مدينہ منورہ
تاريخ وفات وسط: 35 ہجری تا 40 ہجری دور خلافت: علی بن ابی طالب۔[1] وسط: 50 ہجری تا 54 ہجری۔[2] في خلافة: معاويہ
مقام وفات مدینہ منورہ
شریک حیات سیرین بنت شمعون
اولاد عبد الرحمن
اسلام میں
خصوصیت شاعر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

حسان بن ثابت (وفات: 55ھ بمطابق 674ء) ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

نام حسان تھا جبکہ ابوالولید کنیت تھی۔ شاعر اور شاعر رسول اللہ القاب تھے۔ قبیلہ بنو خزرج میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ سلسلۂ نسب یہ ہے،حسان ابن ثابت بن منذر بن حرام بن عمروبن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجا ربن ثعلبہ بن عمرو بن خزرج ،والدہ کا نام فریعہ بنت خالد بن خنیس بن لوذان بن عبد ودبن زید بن ثعلبہ بن خزرج بن کعب بن ساعدہ تھا، قبیلہ خزرج سے تھیں اور سعد بن عبادہ سردار خزرج کی بنت عم ہوتی تھیں ،[3]

معمر ترین اجداد[ترمیم]

سلسلۂ اجداد کی چار پشتیں نہایت معمر گذریں،عرب میں کسی خاندان کی چار پشتیں مسلسل اتنی طویل العمر نہیں مل سکتیں، حرام کی عمر جو حسان کے پردادا تھے 120 سال کی تھی ان کے بیٹے منذر اورثابت بن منذر اورحسان بن ثابت سب نے یہی عمر پائی۔[4]

اسلام[ترمیم]

حسان حالتِ ضعیفی میں ایمان لائے،ہجرت کے وقت 60 برس کا سن تھا۔ عمر رسیدہ ہونے اورضعف قلب کے باعث کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے

جہاد باللسان[ترمیم]

جہاد بالنفس جان کی بجائے زبان سے جہاد کیا۔ آپ قریش کے اسلام دشمن شعرا کی ہجو کا مسکت جواب دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات پر حسان نے بڑے پر درد مرثیے لکھے۔ شاعری کے لحاظ سے جاہلیت کے بہترین شاعر تھے۔ کفار کی ہجو اور مسلمانوں کی شان میں بے شمار اشعار کہے ہیں۔

واقعہ افک[ترمیم]

5ھ میں غزوہ مریسیع سے واپسی کے وقت منافقین نے عائشہ صدیقہ پر اتہام لگایا، عبد اللہ بن ابی ان سب میں پیش پیش تھا، مسلمانوں میں بھی چند آدمی اس کے فریب میں آ گئے، جن میں حسان، مسطح بن اثاثہ ،اورحمنہ بنت جحش بھی شامل تھیں، جب عائشہ کی برأت میں آیتیں اتریں تو آنحضرتﷺ نے اتہام لگانے والوں پر عفیفہ عورتوں پر تہمت لگانے کی قرآن کی مقرر کردہ حد جاری رکھی۔[5] گو حسان عائشہ پر تہمت لگانے والوں میں سے تھے،لیکن اس کے باوجود جب ان کے سامنے حسان کو کوئی برا کہتا تو منع کرتیں اور فرماتیں کہ وہ آنحضرتﷺ کی طرف سے کفار کو جواب دیا کرتے تھے اور آپ کی مدافعت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حسان عائشہ صدیقہ کو شعر سنا رہے تھے کہ مسروق بھی آ گئے اورکہا آپ ان کو کیوں آنے دیتی ہیں، حالانکہ خدا نے فرمایا ہے کہ افک میں جس نے زیادہ حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے،فرمایا یہ اندھے ہو گئے اس سے زیادہ اورکیا عذاب ہوگا ،پھر فرمایا بات یہ ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشرکین کی ہجو کرتے تھے۔[6]

منبر رسول پر[ترمیم]

ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسان بن ثابت کے لیے مسجد میں منبر رکھایا کرتے تھے، تاکہ اس پر کھڑے ہو کر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مفاخرت کریں۔ یعنی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف میں فخریہ اشعار پڑھیں یا حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مدافعت کریں، یعنی کفار کے الزامات کا جواب دیں۔ یہ شک راوی کا ہے اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بھی فرماتے تھے کہ حق تعالیٰ روح القدس سے حسان کی امداد فرماتے ہیں۔ جب تک کہ وہ دین کی امداد کرتے ہیں۔[7]

شاعری[ترمیم]

شوق شاعری[ترمیم]

آپ نے یثرب کے شہری ماحول میں پرورش پائی۔ وہاں شعر و شاعری کے تذکرے عام تھے۔ آپ کا ذوق سلیم شاعری کے مطابق تھا۔ شعر کہنا شروع کیا۔ اپنے قبیلے کا جوش و جذبہ بڑھانے کے لیے شعر کہتے اور بہت جلد نامور ہو کر اشعر اہل المدر کہلائے۔ حضری شعرا میں تو کوئی ان کا مد مقابل نہ تھا۔ بدوی شعرا سے بھی تعلق رہتا اورشعری مبازرت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے ۔[8] ناقدین آپ کی دور جاہلیت کی شاعری کو بہترین اور قابل استناد جانتے ہیں۔ آل جفنہ کی مدح میں آپ کے قصائد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان قصائد کی ایک خوبی یہ تھی کہ یہ مالی اعانت یا انعام اکرام کی بجائے خلوص و محبت کے رنگ میں ڈھلے ہوئے تھے ۔

نعتیہ شاعری[ترمیم]

واحسن منک لم ترقط عینی ِِ

واجمل منک لم تلد النساءِِ

خلقت مبرءاََ من کل عیب

کاَنک قد خلقت کما تشاءِِ

ترجمہ

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ حسین میری آنکھ نے ہرگز نہیں دیکھا

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ جمیل کسی عورت نے جنا ہی نہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر عیب سے پاک وصاف پیدا کیے گئے

گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح پیدا کیے گئے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا۔

اہل و عیال[ترمیم]

بیوی کا نام سیرین تھا جو ماریہ قبطیہ حرم رسول اللہ کی ہمشیرہ تھیں ان سے عبد الرحمن نامی ایک لڑکا پیدا ہوا،اس بنا پر عبد الرحمن ابراہیم بن رسول اللہ ﷺ حقیقی خالہ زاد بھائی تھے۔[9]

اخلاق وعادات[ترمیم]

ان کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ دربار نبوی کے شاعر تھے اورآنحضرتﷺ کی جانب سے کفار کی مدافعت میں اشعار کہتے تھے اورآنحضرتﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ خدایا روح القدس سے ان کی مدد کر،اس بنا پر بارگاہ رسالت میں ان کو خاص تقرب حاصل تھا۔ طبیعت کی کمزوری کے باوجود اخلاقی جرأت موجود تھی،ایک مرتبہ مسجد نبوی میں شعر پڑھ رہے تھے، عمرفاروق نے منع کیا تو جواب دیا کہ میں تم سے بہتر شخص کے سامنے پڑھا کرتا تھا۔[10]

وفات[ترمیم]

آنحضرتﷺ کے بعد عرصہ تک زندہ رہے 120 برس کی عمر تھی،۔ امیر معاویہ کے زمانے 60ھ میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. أسد الغابة
  2. المكتبة الإسلامية
  3. بخاری:2/595
  4. اسد الغابہ
  5. خلاصۃ الوفاء
  6. اسد الغابہ:2/7
  7. شمائل ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 236
  8. نعت کائنات
  9. اسدالغابہ:2/6
  10. بخاری:1/909،مسند:5/222