عمار بن یاسر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، (کنیت ابو یقظان ) یاسر کے بیٹے تھے اور صحابی بھی تھے عمار بن یاسر نےدوراسلام کے شروع میں اسلام قبول کیا۔ ان کے والد یاسر اور والدہ اسلام کے پہلے شہیدوں میں سے تھے۔ عمار بن یاسر حبشہ کو ہجرت کرنے والوں کے سربراہ تھے۔ جنگ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔ ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔[1] آپ کی شہادت علی کے دورِ خلافت میں 37ھ میں جنگ صفین میں ہوئی جس میں آپ علی بن ابی طالب کی طرف سے لڑے اور معاویہ بن ابو سفیان کی فوج مد مقابل تھی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

حضرت عمار بن یاسر کے والدین کو ابوجھل اور دیگر مشرکین کے حکم پر شہید کر دیا گیا تھا۔ ان کے والد کو تازیانے مار مار کر شہید کیا گیا۔ ان کی والدہ کے دونوں پیروں کو دو اونٹوں سے باندھ کر مختلف سمتوں میں دوڑایا گیا یہاں تک کہ ان کے جسم کے دو ٹکرے ہو گئے۔ یعنی ان کے والدین اسلام کے اولین شہداء میں سے تھے۔

شخصیت[ترمیم]

آپ بڑے مشہور صحابی ہیں اور آپ کی حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت مشہور تھی۔ والدین کی شہادت کے بعد روتے ہوئے خدمت رسول میں آئے تو انہوں نے دعائے خیر کی کہ خدا آلِ یاسر میں سے کسی کو آگ کا عذاب نہ دے۔ مدینہ میں پہلی مسجد کی تعمیر کے دوران سب لوگ قریبی پہاڑیوں سے پتھر لا رہے تھے۔ اس دوران حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم پتھر لا رہے تھے اور ان کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت عمار بن یاسر نے ان سے کہا کہ آپ پتھر نہ لائیں میں آپ کے حصے کا پتھر بھی لاتا رہوں گا۔ اس وقت رسولِ خدا صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔

جنگیں[ترمیم]

آپ نے مختلف غزوات اور بعد میں جنگ جمل اور جنگ صفین میں شرکت کی اور جنگ صفین میں شہید ہوئے۔

جنگ جمل[ترمیم]

یہ جنگ مسلمانوں کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ تھی۔ جس میں بھائی نے بھائی کا خون بہایا۔ اس جنگ کی اصل وجھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلیفہ ہونا تھا کیونکھ حضرت عثمان کے قتل کے بعد علی بن ابی طالب کو خلیفہ مقرر کیا گیا اورعلی بن ابی طالببنتے ہی شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کو معزول کر دیا، معزولی کی وجہ یہ تھی کہ معاویہ بن ابو سفیان نے عثمان بن عفان کے قصاص لینے تک علی بن ابی طالب کے ہاتھ پر بعت سے انکار کر دیا تھا، کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر علی رضی اللہ عنہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا قصاص لینے میں کامیاب نہ ہو سکے اور بات پھر مسلمانوں کے درمیان لڑائی تک پہنچ گئی، یہ لڑائی کوفے کے باہر خریبہ کے مقام پر ہوئی اس میں حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہا شہید ہوئے اور کوئی دس ہزار مسلمان کام آئے۔

جنگ صفین[ترمیم]

علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی خالص مذہبی سلطنت کوزمانہ برداشت نہ کرسکا , آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا، جمل، صفین اور نہروان کی خون ریز لڑائی ہوئی جنگ صفین جولائی 657 عیسوی میں مسلمانوں کے خلیفہ علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ اور شام کے گورنر معاویہ بن ابو سفیان کے درمیان ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے ۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کی تھی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ یہ دونوں اصحاب رضی اللہ عنہ علی بن ابی طالب کی فوج میں شامل تھے۔

شہادت[ترمیم]

آپ کی شہادت جنگِ صفین میں ہوئی جس میں آپ علی ابن ابی طالب کی طرف سے شریک تھے۔یہ 9 صفر 37ھ تھی اور ان کی عمر اس وقت 93 برس تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح مسلم، حدیث 6966 سے لیکر 6970