ابو ذر غفاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو ذر غفاری
(عربی میں: أبو ذر الغفاري ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخطيط اسم أبو ذر الغفاري.png

معلومات شخصیت
پیدائش حجاز  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 652  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ربذہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نمایاں شاگرد انس بن مالک  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ واعظ،  محدث،  تاجر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  غزوہ احد،  غزوہ خندق،  فتح مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صحابی۔ جُنْدُب بن جُنَادَة نام، ابوذر کنیت، شیخ الاسلام لقب۔ قبیلہ بنو غفار سے تھے جس کا پیشہ رہزنی تھا۔ ابتدا میں آپ نے بھی آبائی پیشہ اختیار کیا لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو مکے آکر اسلام قبول کر لیا۔ عظیم المرتبت محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔ بڑے قناعت پسند اور سادہ مزاج تھے۔ مال و زر کے معاملے میں قلندرانہ مسلک رکھتے تھے۔

حلیہ[ترمیم]

ان کا قد دراز، جسم فربہ، رنگ سیاہی مائل، داڑھی گھنی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے۔[2]

حالات زندگی[ترمیم]

ساری زندگی امرا اور اغنیاء کو زر اندوزی سے روکتے رہے۔ قرآن کی اس آیت؛ (جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں وہ درحقیقت آگ کھاتے ہیں) سے استدلال کرتے تھے کہ سونا اور چاندی جمع کرنا ناجائز ہے۔ مگر اس دور کے صحابہ اور مفسرین و محدثین کو آپ کی اس توجیہ سے اتفاق نہ تھا۔ آپ کی زندگی کا آخری حصہ بڑی تکلیف میں گزرا۔ معاویہ کے حکم سے دمشق سے خارج البلد کیے گئے تو مدینہ واپس آئے۔ مگر وہاں بھی حضرت عثمان نے قیام کرنے کی اجازت نہ دی۔ اور ملک بدر کر کے قریبی شہر الربذہ بھیج دیا اور ساتھ ہی خلیفہ نے یہ حکم بھی دیا کوئی اس کے ساتھ نہ جائے لیکن حضرت علی نے ایک نہیں مانا اور حضرت حسنین کو ابو ذرغفاری کے ساتھ بھیج دیا۔ ابو زر غفاری کی عظمت کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ حضرت حسنین چچا کہہ کر پکارتے تھے۔ ابوغفاری کو حضرت عثمان کے حکم سے مدینے کے پاس الزبدہ کے مقام پر کسمپرسی کی حالت میں سخت اذیتیں دے کرقتل کیا گیا، یہ شیعہ نقطہ نظر ہے ان کی وفات کے بارے میں سنی نقطہ نظر ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔[3]

سنی عقیدہ

میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ دکھائی دیے۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں آ گئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں شام میں تھا تو معاویہ رضی اللہ عنہ سے میرا اختلاف ( قرآن کی آیت ) ”جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ کے متعلق ہو گیا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہنا یہ تھا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں یہ کہتا تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ ہمارے متعلق بھی یہ نازل ہوئی ہے۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخی پیدا ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ ( جو ان دنوں خلیفۃ المسلمین تھے ) کے یہاں میری شکایت لکھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا کہ میں مدینہ چلا آؤں۔ چنانچہ میں چلا آیا۔ ( وہاں جب پہنچا ) تو لوگوں کا میرے یہاں اس طرح ہجوم ہونے لگا جیسے انہوں نے مجھے پہلے دیکھا ہی نہ ہو۔ پھر جب میں نے لوگوں کے اس طرح اپنی طرف آنے کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مناسب سمجھو تو یہاں کا قیام چھوڑ کر مدینہ سے قریب ہی کہیں اور جگہ الگ قیام اختیار کر لو۔ یہی بات ہے جو مجھے یہاں ( ربذہ ) تک لے آئی ہے۔ اگر وہ میرے اوپر ایک حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیں تو میں اس کی بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا

صحیح بخاری 1406

وفات[ترمیم]

مورخ ابن واضح اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ جب سے حضرت ابوذر زبدہ بھیجے گئے مرتے وقت تک وہیں رہے اور جب وقت وفات قریب ہوا تو ان کی لڑکی نے کہا کہ اے باپ میں اس مقام میں اکیلی ہوں اور ڈرتی ہوں کہ آپ کی حفاظت درندوں سے نہ کرسکوں گی۔ ابوذر نے کہا کہ خوف نہ کر عنقریب چند مرد دیندار یہاں آیا چاہتے ہیں ذرا دیکھ تو کوئی ادھر آ رہا ہے؟ لڑکی نے کہا کہ نہیں۔ ابوذر بولے کہ ابھی شاید میرا وقت نہیں آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر پوچھا کہ کوئی دکھائی دیا۔ لڑکی نے کہا ہاں کچھ سوار آ رہے ہیں ابوذر نے فرمایا کہ اللہ اکبر خدا اور اس کا رسول سچّا ہے۔ اب میرا منھ قبلہ کی جانب پھیر دے اور جب وہ سوار یہاں پہونچیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور جس وقت وہ میری تجہیز و تکفین سے فارغ ہوں تو ان کے لیے یہ بکری ذبح کرانا اور انھیں میری جانب سے قسم دے کر کہنا کہ بغیر کھانا کھائے ہوئے تم لوگ یہاں سے نہ جاؤ۔ اتنا کہہ کے ابوذر راہی خلد بریں ہوئے اور جب وہ سوار وہاں پہونچے تو لڑکی نے ان سے کہا کہ ابوذر صحابی رسول کا انتقال ہو گیا ہے۔ اور وہ بے گور و کفن پڑے ہیں۔ یہ سن کر وہ سوار جو تعداد میں سات تھے سواریوں سے اتر پڑے۔ ان میں حذیفہ بن الیمان صحابی رسول اور اشتر بھی تھے ابوذر پر وہ سب بہت روئے اور غسل و کفن دینے کے بعد نماز جنازہ پڑھ کر ان کو دفن کیا۔ جب اس سے فارغ ہوئے تو لڑکی نے کہا کہ میرے باپ نے تم کو قسم دلائی ہے کہ بغیر کھانا کھائے یہاں سے نہ جائیں۔ ان لوگوں نے بکری ذبح کی اور کھانا کھانے کے بعد اس لڑکی کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہو گئے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مئی 2020 — ناشر: Bibliographic Agency for Higher Education
  2. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 3، ص 282
  3. تاریخ کامل ابن اثیر
  4. تاریخ ابن واضح