حنظلہ بن ربیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حنظلہ بن ربیع، ایک صحابی رسول تھے۔

نسب[ترمیم]

حنظلہ بن الربیع بن صیفی بن ریاح تمیمی بڑے مشہور و معروف جلیل القدر صحابی ہیں، ایک موقع سے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: تم لوگ ان کی اوران جیسوں کی اقتداء کیا کرو! [1]

سفیر رسول[ترمیم]

آپ کی کنیت ابو ربعی تھی۔ آپ ﷺ نے آپ رضی ﷲ تعالٰی عنہ کو غزوہ طائف سے پہلے بنی ثقیف کے پاس سفیر بنا کر بھیجا تھا۔ آپ رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے دور خلافت میں جنگ قادسیہ میں شرکت کی۔ آپ رضی ﷲ تعالٰی عنہ کچھ عرصہ کوفہ میں رہائش پزیر رہنے کے بعد قرقیسا چلے گئے ۔ حنظلہ بن ربیع رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے رسول اکرم ﷺ کی کچھ احادیث بھی بیان فرمائی ہیں۔

کاتب وحی[ترمیم]

آپ مشہور کاتبینِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہیں، اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے، آپ تمام کاتبین کے نائب تھے اور ہر ایک کے غیر حاضر ہونے کی صورت میں لکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ ”الکاتب“ سے جانے جاتے تھے، امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے آپ کو کاتب النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعبیر کیا ہے [2]۔ اور امام مسلم نے بھی ایسا ہی لکھا ہے [3] اور طبقات ابن سعد میں بھی اس کی صراحت موجود ہے [4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مہر حنظلہ کے پاس رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ: ہر تیسرے دن مجھے تمام لکھایاہوا یاد دلا دیا کرو! چنانچہ حنظلہ ہر تیسرے دن سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام اموال اور طعام وغیرہ جو آپ کی تحریری تحویل میں ہوتایاددلادیاکرتے تھے اور سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ان اموال کو سونے سے پہلے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ [5] آپ کے کاتبِ دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کی صراحت ابن حجر، ابن کثیر، ابن سید الناس، ابن الاثیر، ابن شبہ، یعقوبی، مزی، عراقی، انصاری اور مسعودی وغیرہ نے کی ہے [6] ۔

وفات[ترمیم]

آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وفات پائی ۔ [7][8]

دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ2/58
  2. التاریخ الکبیر2/36
  3. الطبقات لمسلم بن حجاج280/ب
  4. طبقات بن سعد6/36
  5. الوزراء والکتاب13/13
  6. الاصابہ1/359، البدایہ والنہایہ5/242، عیون الاثیر2/315، اسد الغابہ2/58، المصباح المضئی8/ب، تاریخ یعقوبی2/80، تہذیب الکمال4/ب، شرح الفیہ عراقی245، المصباح المضئی20/أ، التنبیہ والإشراف282
  7. الاصابہ1/361،
  8. مکمل اسلامی انسائیکلوپیڈیا،مصنف:مرحوم سید قاسم محمود،ص- 820