سعید بن العاص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سعید بن العاص صحابی ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ نہایت فصیح اللسان تھے ۔
30ھ سعید بن العاص نے طبرستان فتح کیا۔ اِس لشکر میں امام حسن، امام حسین، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، عبد اللہ بن جعفر، عبد اللہ بن عباس اور حذیفہ بن الیمان اور بہت سے صحابہ شامل تھے۔ یہ لشکر متعدد شہروں سے گزرا۔ وہ سب بڑی بڑی رقوم جزیہ پر صلح کرتے گئے حتی کہ جرجان پہنچے وہاں جنگ ہوئی اور اِتنی شدید ہوئی کہ اِن حضرات کو صلوٰة خوف پڑھنی پڑی۔ سعید بن العاص نے حذیفہ بن یمان سے پوچھا کہ رسول اللہ ۖ نے یہ نماز کیسے پڑھائی تھی پھر اِس طرح انہوں نے پڑھائی۔ پھر اِس قلعہ والے دشمنوں نے امان چاہی۔ ۔ [1] عثمان غنی نے ولید بن عقبہ کو کوفہ سے معزول فرمایا۔ مدینہ شریف بلالیا اور مدینہ سے سعید بن العاص کو اِن کی جگہ گورنر بناکر بھیج دیا قدرتی طور پر لہجہ میں جناب رسول اللہ ۖ سے مشابہت تھی۔ صفین کے موقع پر یہ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے، الگ رہے۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. البدایہ ج7 ص 154
  2. تہذیب التہذیب ج 4 ص 50