عامر بن فہیرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عامر بن فہیرہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 586  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 625 (38–39 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عامر بن فہیرہ کو ابوبکر صدیق نے خرید کر آزاد کیا یہ قبیلہ ازد کے مولدین (عربی النسل)میں سے تھے۔ اکثر مؤرخین نے انہیں شہداء بئر معونہ میں شمار کیا ہے[1]

نام ونسب[ترمیم]

عامرنام،ابوعمروکنیت ،والد کانام فہیرہ تھا، یہ طفیل بن عبد اللہ کے غلام تھے جوعائشہ صدیقہ کے اخیافی (والدہ کی طرف) بھائی اورقبیلہ ازدکے ایک ممبر تھے۔[2]

اسلام[ترمیم]

عامربن فہیرہ نے بہت ابتدا ہی میں دعوتِ توحید کو قبول کیا تھا،آنحضرت ﷺ اس وقت تک ارقم بن ابی الارقم کے مکان میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے، غلامانہ بے بسی کے ساتھ اس حق پسندی نے قدرت ان کو سخت سے سخت مصائب میں مبتلا کیا، طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی گئیں، لیکن آخروقت تک استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا، یہاں تک کہ ابوبکر صدیق کے دستِ کرم نے قید غلامی سے نجات دلائی۔[3]

ہجرت[ترمیم]

ہجرت کے موقع پر جب آنحضرت ﷺ اورابوبکرصدیق غارِ ثور میں پوشیدہ ہوئے تو عامر بن فہیرہ کے متعلق یہ خدمت تھی کہ وہ دن بھر مکہ کی چراگاہ میں ابوبکر صدیق کی بکریاں چراتے، شام کو غار کے پاس لے آتے، یہاں ان کا دودھ دوہ کر استعمال کیا جاتا، صبح کے وقت عبد اللہ بن ابی بکر جو عموماً شب کے وقت حاضر ہوکر مکہ کی سرگزشت سنایا کرتے تھے، واپس جاتے تو بکریوں کو ان کے نشانِ قدم پر لے چلتے کہ مشرکین کو کچھ شبہ نہ ہو،[4] غرض جب یہ قافلہ غارثور سے آگے بڑھا تو ابوبکرنے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا مدینہ پہنچ کر وہ سعد بن خثیمہ کے مہمان ہوئے اورحارث بن اوس ان کے اسلامی بھائی بنائے گئے۔[5]ابتداءً مدینہ کی آب وہوا جن لوگوں کو راس نہ آئی ان میں سے ایک حضرت عامر بن فہیرہؓ بھی تھے، یہ اس قدر سخت بیمار ہوئے کہ زندگی سے یاس ہوگئی، شدتِ بحران کے وقت یہ اشعار ورد زبان ہوتے تھے: [6] انی وجدک الموت قبل ذوقہ ان الجبان حتفہ من فوقہ میں نے موت سے پہلے اس کا مزہ چکھ لیا،بے شک بزدل کی موت اوپر ہی سے ہے کل امرء مجاھد بطوتہ کالثوریحمی انفہ بروقہ ہر شخص اپنی طاقت سے کوشش کرتا ہے ، جس طرح بیل اپنی ناک کو سینگ سے محفوظ رکھتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو جب مہاجرین کرام ؓ کی علالت کی خبر ملی تو آپ نے دعافرمائی: "اے خدا تو مدینہ کو مکہ کی طرح یا اس سے بھی زیادہ ہمارے لیے پسندیدہ بنا اور اس کو بیماریوں سے پاک کر" دعامقبول ہوئی اورحضرت عامر بن فہیرہ ؓ بسترِ علالت سے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ [7]

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوۂ بدرواحد میں شریک تھے، میں رسول اللہ ﷺ نے ستر قاریوں کی ایک جماعت کو مشرکین بئر معونہ کی تبلیغ و تلقین پر مامور فرمایا،عامر بن فہیرہ بھی اس میں شامل تھے قبائل ذکوان وغیرہ نے غداری کے ساتھ اس تمام جماعت کو شہید کر دیا، صرف عمروبن امیہ ضمری زندہ گرفتار ہوئے،عامر بن طفیل نے ان سے ایک لاش کی طرف اشارہ کرکے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ بولے"عامر بن فہیرہؓ" اس نے کہا میں نے ان کو مقتول ہونے کے بعد دیکھا کہ آسمان کی طرف اٹھالیے گئے، یہاں تک کہ آسمان و زمین کے درمیان بالکل معلق نظر آئے، پھر زمین پر رکھ دیے گئے۔[8]

عجیب شہادت[ترمیم]

عامر بن فہیرہ کے سینہ سے جس وقت جباربن سلمی کا نیز ہ پارہوا تو بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا "خدا کی قسم میں کامیاب ہو گیا" لاش تڑپ کر آسمان کی طرف بلند ہوئی، ملائکہ نے تجہیز وتکفین کی، اورروح اقدس کے لیے اعلی علیین کے دروازے کھول دیے گئے، جباربن سلمی کو اس کرشمہ قدرت نے سخت متعجب کیا اور وہ متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔[9]

اخلاق[ترمیم]

حضرت عامربن فہیرہؓ صورت ظاہری کے لحاظ سے گوسیاہ فام حبشی تھے، ذاتی وجاہت کا یہ حال تھا کہ ۳۴ سالہ زندگی کا بڑا حصہ ستم پیشہ آقاؤں کی غلامی میں بسر ہوا، لیکن فطری جوہر اخلاق ان ظاہری فریب آرائیشوں کا محتاج نہیں، وہ غریبی اور امیری میں ہمیشہ یکساں اپنی چمک دکھاتا ہے، انہوں نے گوناگوں مصائب و مظالم کے مقابلہ میں جس طرح استقلال واستقامت کا اظہار فرمایا وہ یقینا ًان کے دستارِ فضل کاایک نہایت خوشنما طرہ ہے۔ رازداری کا یہ حال ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے نازک سے نازک موقع پر ان کو اپنا معتمد علیہ بنایا، شوقِ شہادت نے ان کو دنیا سے بے نیاز کردیا تھا ،چنانچہ غزوۂ بیرِ معونہ میں جب برچھی جگر سے پار ہوگئی تو یہ کلمہ زبان پر تھا: فزت واللہ یعنی خدا کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ [10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ فی معرفۃ التمیز الصحابہ، علامہ ابن حجر عسقلانی، جلد3، صفحہ 164،مکتبہ رحمانیہ، لاہور۔
  2. کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع الخ
  3. اسد الغابہ:3/91
  4. صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع
  5. طبقات ابن سعد، قسم اول جزء ثالث :164
  6. (اصابہ تذکرہ ابن فہیرہ ؓ)
  7. (بخاری باب ہجرت النبی واصحابہ الی المدینہ)
  8. صحیح بخاری کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع
  9. طبقات ابن سعد، حصہ مغازی :37
  10. (طبقات ابن سعدِ حصہ مغازی :۳۷)