محمد بن ابی بکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

محمد بن ابی بکر ابوبکر صدیق کے بیٹےاور عائشہ بنت ابی بکر کے بھائی تھے اور علی ابن ابو طالب کے قریبی ساتھی تھے۔

جنگ جمل

یہ جنگ مسلمانوں کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ تھی۔اس جنگ کی بنیادی وجہ عثمان کی شہادت تھی جس کے باعث یہ خونریز جنگ ہوئی ۔ عثمان کی شہادت کے بعد علی علیہ سلام خلیفہ مقرر ہو‎ئے ۔ خلافت کے بعد آپ سے قاتلان عثمان کی گرفتاری کے لۓ مطالبہ کیا جانے لگا ۔ اس مطالبے کے ہم خیال صحابہ میں عائشہ بنت ابی بکر، معاویہ بن ابو سفیان، طلحہ ابن عبیداللہ اور زبیر ابن العوام سرفہرست تھے۔ اس جنگ میں محتاط اندازوں کے مطابق ایک لاکھ جانوں کا خراج وصول کیا ۔ وہ گروہ جو حضرت عثمان کی شہادت کا ذمہ دار تھا اس نے اپنی بقا اسی میں سمجھی کہ حضرت علی اور اس مطالبہ کے کرنے والوں میں غلط فہمییوں کو ہوا دی جائے تاکہ ان کا محاسبہ نہ ہوسکے اسی گروہ کی سازشوں کے باعث قصاص عثمان کے بجائے شام کے گورنر امیر معاویہ کو معزول کروادیا گیا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اختلافات اس نہج پر پہنچ گئے کہ مسلمانوں کے دونوں گروہ شمشیرو سنان سے لیس ہوکر جنگ کے لیے نکل آ‎ئے ۔یہ جنگ کوفے کے باہر خریبہ کے مقام پر ہوئی اس میں طلحہ رض و زیبر رض شہید ہوئے اور کوئی دس ہزار مسلمان کام آئے محمد بن ابی بکر جو حضرت عائشہ صدیقہ رض کے بھائی تھے اور جو حضرت علی کے قریبی اور صحابی تھےجنگ میں حضرت علی کی طرف سے لڑے۔

جنگ صفین

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی خالص مذہبی سلطنت کوزمانہ برداشت نہ کرسکا۔ آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل اور صفین اور نہروان کی خون ریز لڑائی ہوئی جنگ صفین جولائی 657ء میں مسلمانوں کے خلیفہ علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ اور شام کے گورنر امیر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے ۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کی تھی اور عمار بن یاسر کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ خزیمہ بن ثابت انصاری بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ یہ دونوں اصحاب رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی فوج میں شامل تھے۔ محمد بن ابی بکر بھی جنگ میں حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی طرف سے لڑے اور دشمن کی صفوں کوالٹ دیا۔