قاسم بن محمد بن ابی بکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قاسم بن محمد[ترمیم]

( متوفی 106ھ یا 108ھ / 724ء )

قاسم بن محمد حضرت محمد بن ابی بکر کے صاحبزادے اور مدینہ منورہ کے عظیم فقیہ، امام، عالم، متقی اور کثیر الروایت بزرگ تھے۔

امام قاسم نے اپنے والد ماجد کے قتل ہونے کے بعداپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ کے ہاں پرورش پائی۔

حضرت عمر فاروق کےدور خلافت میں یزدجرد شاہ فارس کی تین لڑکیاں غنیمت میں آئیں جنہیں حضرت علی نے خرید لیا ایک حضرت امام حسین کو دی جس سے امام زین العابدین پیدا ہوئے۔دوسری حضرت عبد اللہ ابن عمر کو دی جس سے حضرت سالم پیدا ہوئے۔اور تیسری حضرت محمد بن ابوبکر کو دی جس سے حضرت قاسم پید ہوئے۔گویاامام زین العابدین حضرت سالم اور حضرت قاسم خالہ زاد بھائی ہیں۔آپ کا انتساب علم باطن میں حضرت سلمان فارسی سے ہے۔
حضرت قاسم کبار تابعین اور فقہائے سبعہ(حضرات سعید بن المسیب، عروة بن زبیر، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، قاسم بن محمد، سلیمان بن یسار، خارجہ بن زید ، ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہم اللہ تعالی۔ کو فقہائے مدینہ یا فقہائے سبعہ کہا جاتا تھا۔) میں سے ہیں[1]۔

حضرت عائشہ کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر سے حدیث سنی۔

سلسہ عالیہ نقشبندیہ کے مطابق آپ نے فیض ولایت حضرت سلمان فارسی سے حاصل کیا جبکہ انہوں نے سیدنا ابو بکر صدیق سے حاصل کیا۔

امام قاسم سے سلسہ عالیہ نقشبندیہ کا فیض امام جعفر صادق کو منتقل ہوا۔

وصال مبارک[ترمیم]

آپ نے ستر70 یا بہتر72 سال کی عمر میں مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کے درمیان مقام قدید میں وفات پائی اور مُثَلَّل میں دفن ہوئے۔سن وفات میں اختلاف ہے۔ابن سعد نے طبقات میں 108ھ لکھا اور ابن معین و ابن المدینی نے 24 جمادی الاول 106 ھ لکھا ہے۔ جب وفات کا وقت قریب آیا تو وصیت کی کہ مجھے ان کپڑوں میں کفنانا جن میں میں نماز پڑھا کرتا تھا یعنی قمیص ،ازار (تہہ بند)اورچادر۔آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا ابا جان کیا ہم دو کپڑے اور زیادہ کر دیں تو جواب دیا حضرت ابوبکر صدیق کا کفن بھی تین کپڑے تھا مردے کی نسبت زندہ کو کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہے[2]۔

۔

  1. ^ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ نور بخش توکلی صفحہ 56،57 مشتاق بک کارنر لاہور
  2. ^ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ نور بخش توکلی صفحہ 56،57 مشتاق بک کارنر لاہور