قاسم بن محمد بن ابی بکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قاسم بن محمد[ترمیم]

( ولادت 24 ہجری،متوفی 106ھ یا 108ھ / 724ء )

قاسم بن محمد ۔محمد بن ابی بکر کے صاحبزادے،حضرت ابوبکرؓ کے پوتے اور مدینہ منورہ کے عظیم فقیہ، امام، عالم، متقی اور کثیر الروایت بزرگ تھے۔ آپ امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے، امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی اور سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نانا تھے۔[1]

تاریخ ولادت[ترمیم]

تاریخ ولادت 23 شعبان 24 ہجری جائے ولادت مدینہ منورہ۔

تربیت[ترمیم]

امام قاسم نے اپنے والد ماجد کے قتل ہونے کے بعداپنی پھوپھی عائشہ صدیقہ کے ہاں پرورش پائی۔ فاروق اعظم کےدور خلافت میں یزدجرد شاہ فارس کی تین لڑکیاں غنیمت میں آئیں جنہیں سیدناعلی نے خرید لیا ایک امام حسین کو دی جس سے امام زین العابدین پیدا ہوئے۔دوسری حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو دی جس سے سالم پیدا ہوئے۔اور تیسری محمد بن ابوبکر کو دی جس سے قاسم پید ہوئے۔گویا امام زین العابدین، سالم اور قاسم خالہ زاد بھائی ہیں۔آپ کا انتساب علم باطن میں حضرت سلمان فارسی سے ہے۔

علمی مقام[ترمیم]

قاسم، علم وعمل کے جامع اور مدینہ کے فقہاء سبعہ میں سے ایک تھے، اپنی پھوپھی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت امیرمعاویہؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت فاطمہ بنتِ قیسؓ سے حدیث پڑھی اور تعلیم حاصل کی اور آپؒ کے بیٹے عبدالرحمنؒ، امام زہریؒ، ابن المنکدرؒ، ربیعہ الرایؒ، افلح بن حمیدؒ، حنظلہ بن ابی سفیانؒ، ایوب السختیانیؒ جیسے آئمہ علم نے روایات لیں اور اکتسابِ علم کیا، آپؒ سے دوسو کے قریب حدیثیں مروی ہیں، ابوالزناد عبدالرحمٰن (۱۳۱ھ) کہتے ہیں: "مارأیت فقیہاً اعلم من القاسم ومارأیت احدًا اعلم بالسنۃ منہ"۔ [2] ترجمہ: میں نے قاسم سے بڑا فقیہ کسی کونہیں دیکھا اور نہ کسی کودیکھا جو ان سے زیادہ سنت جاننے والا ہو۔ یحییٰ بن سعیدؒ کہتے ہیں: "مَا أَدْرَكْنَا بِالمَدِيْنَةِ أَحَداً نُفَضِّلُهُ عَلَى القَاسِمِ"۔ [3] ترجمہ: ہم نے مدینہ شریف میں کسی کونہ پایا جسے قاسم بن محمدپر فضیلت دے سکیں قاسم کبار تابعین اور فقہائے سبعہ(سعید بن المسیب، عروة بن زبیر، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، قاسم بن محمد، سلیمان بن یسار، خارجہ بن زید ، ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہم اللہ تعالی۔ کو فقہائے مدینہ یا فقہائے سبعہ کہا جاتا تھا۔) میں سے ہیں[4]۔

زہد و تقوی[ترمیم]

زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے۔ یہاں تک کہ یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا سانچہ:ع ما ادرکنا فی المدینۃ احدانفضلہ علیٰ القاسم بن محمد کہ مدینہ طیبہ میں قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر فضیلت والا ہمیں کوئی نظر نہ آیا۔ اس کے باوجود کہ آپ مدینہ عالیہ کے مشہور سات فقہاء میں سے تھے، پھر بھی فرماتے تھے ”لانعلم کل ما نسئال عنہ“ یعنی ضروری نہیں کہ جو کچھ ہم سے پوچھا جائے وہ ہم جانتے ہی ہوں۔ نیز فرمایا ”و من العلم لا قولک ”لا ادری“ “، یعنی یہ کہنا کہ میں نہیں جانتا بھی ایک طرح کا علم ہی ہے۔

عائشہ کے علاوہ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر سے حدیث سنی۔ آپ سے بہت سی احادیث رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم مروی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ”اعظم النساء برکۃ ایسرہم مؤنۃ“ کہ عورتوں میں بہتر عورت وہ ہے جس کے اخراجات آسان ہوں۔

سلسلہ نقشبندیہ کے مطابق آپ نے فیض ولایت سلمان فارسی سے حاصل کیا جبکہ انہوں نے سیدنا ابو بکر صدیق سے حاصل کیا۔

امام قاسم سے نقشبندیہ کا فیض امام جعفر صادق کو منتقل ہوا۔

وصال مبارک[ترمیم]

آپ نے ستر70 یا بہتر72 سال کی عمر میں مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے درمیان مقام قدید میں وفات پائی اور مُثَلَّل میں دفن ہوئے۔سن وفات میں اختلاف ہے۔ابن سعد نے طبقات میں 108ھ لکھا اور ابن معین و ابن المدینی نے 24 جمادی الاول 106 ھ لکھا ہے۔ جبکہ 24 جمادی الاول 101 ہجری بھی ہے۔[5] جب وفات کا وقت قریب آیا تو وصیت کی کہ مجھے ان کپڑوں میں کفنانا جن میں میں نماز پڑھا کرتا تھا یعنی قمیص ،ازار (تہہ بند)اورچادر۔آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا ابا جان کیا ہم دو کپڑے اور زیادہ کر دیں تو جواب دیا حضرت ابوبکر صدیق کا کفن بھی تین کپڑے تھا مردے کی نسبت زندہ کو کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہے۔[6]۔

حوالہ جات[ترمیم]

سلسلہ نقشبندیہ

  1. ^ http://www.islahulmuslimeen.org/urdu/books/jalwagah/h04.htm
  2. ^ تذکرۃ الحفاظ،:74،محمد بن أحمد بن عثمان الذہبى،ناشر: دار الكتب العلمیہ بيروت-لبنان
  3. ^ الكتاب : سير أعلام النبلاء المؤلف : شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد الذَهَبی
  4. ^ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ نور بخش توکلی صفحہ 56،57 مشتاق بک کارنر لاہور
  5. ^ جہان امام ربانی،اقلیم ہشتم،صفحہ 377،امام ربانی فاؤنڈیشن کراچی
  6. ^ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ نور بخش توکلی صفحہ 56،57 مشتاق بک کارنر لاہور