سیف الدین فاروقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ سیف الدین فاروقی خانوادہ مجددیہ کے اہم رکن ہیں (19یا 26 جمادی الاولی 1049ھ۔ بمطابق 1096ھ )

ولادت[ترمیم]

محی السنۃ خواجہ سیف الدین عروۃ الوثقیٰ حضرت خواجہ محمد معصوم نقشبندی کے پانچویں صاحبزادے اور خلیفہ ارشد ہیں۔ آپ کی ولادت 1049ھ میں سرہند شریف میں ہوئی۔

علوم ظاہری و باطنی[ترمیم]

آپ کو فطرۃِ سلیمہ کے ساتھ نیکی، اتباع شریعت اور اعلاء کلمۃ الحق کے انعامات ترکہ میں حاصل تھے۔ کمال یہ کہ محض گیارہ سال کی عمر میں دینی تعلیم حاصل کرکے فارغ التحصیل عالم و فاضل بن چکے تھے۔ اسی عمر میں والد محترم (حضرت قیومِ ثانی) نے فناء قلب کی بشارت دی تھی۔

سنت کی پابندی[ترمیم]

سلطان اورنگزیب عالمگیر جو نظامتِ ملتان کے زمانہ سے حضرت عروۃ الوثقیٰ کے حلقہ ارادت میں داخل تھے، جب پورے ہندوستان کے والی بن گئے تو ان کی تربیت کے لیے حضرت عروۃ الوثقیٰ نے آپ کا انتخاب فرمایا۔ آپ جیسے ہی شاہی قصر معلّیٰ کے پھاٹک پر پہنچے تو دو ہاتھیوں کے مجسمے دیکھے۔ پہلے انکو تڑوایا پھر اندر داخل ہوئے۔ اسی طرح شاہی باغ میں جواہر اور موتیوں کی آنکھوں والی مچھلیوں کو تڑوادیا۔ سلطان اورنگزیب عالمگیر عروۃ الوثقیٰ کے اس حسنِ انتخاب پر ہمیشہ آپ کے مشکور رہے۔ سلطان صالح کی للہیت اور حضرت محی السنۃ کی کمال روحانی تربیت تھی جس نے سلطان کو سالکِ طریقت بنادیا۔

القابات[ترمیم]

سلطان الاولیاء،قطب الاقطاب ،قدوۃ اربا ب الکشف والیقین وسلطان الاولیاء و المتقین، آپ کے والد ماجد نے آپ کا نام "محتسبِ امت" رکھا تھا۔[1]

اولاد[ترمیم]

شیخ محمد اعظم، شیخ محمد شعیب،شیخ محمد حسین،شیخ محمد عیسی، شیخ محمد موسیٰ،شیخ کلمۃ اللہ،محمد عثمان عبد الرحمن،جنت بانو، حبیبہ،سائرہ شہری،رفیع النساء۔[2]

معمولات[ترمیم]

اس قدر قرب سلطانی کے باوجود اہل دنیا کی صحبت سے ہمیشہ محترز (بچتے)رہے۔ یہاں تک دولت مندوں کے ساتھ کھانا نہ کھاتے تھے۔ کبھی بھی بادشاہ یا کسی امیر سے شرعی معاملہ میں رو و رعایت نہیں کی۔ خلافِ شرع کام سے بہت سختی سے روکتے تھے۔ آپ کا یہ معمول تھا کہ ظہر و عصر کے درمیان خواتین کو درس حدیث دیا کرتے تھے۔ مرشد کامل (جو آپ کے والدِ گرامی بھی تھے) اور جد امجد حضرت مجدد الف ثانی سے آپ کو فنائیت کے درجہ کی والہانہ عقیدت و محبت تھی جس کی ایک جھلک درج ذیل اشعار میں نظر آتی ہے، جو آپ رات کے وقت ان دونوں بزرگوں کے مزارات پر روتے اور گڑگڑاتے ہوئے پڑھتے تھے:

من کیستم کہ باتو دمِ دوستی زنم

چندیں سگانِ کوئے تو یک سگ منم

ترجمہ: میری کیا مجال کہ آپ سے دوستی کا دعویٰ کروں؟ میں تو بس آپ کے دربار کے کتوں میں سے ایک کتا ہوں۔

وصال[ترمیم]

آپ کا وصال 47 سال کی عمر میں 19 یا 26 جمادی الاولیٰ 1096ھ میں ہوا۔ مزار پر انوار سرہند شریف میں ہے۔[3]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. گلزار اولیاء،ا بو الحسنات سید عبد اللہ شاہ محدث دکن
  2. اذکار معصومیہ نور الحسن تنویر صفحہ 22،مکتبہ انوار مدینہ سیالکوٹ
  3. جلوہ گاہِ دوست