قاضی سلطان عالم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ قاضی محمد سلطان عالم صدیقی مجددی آستانہ گلہار شریف کوٹلی کے جد امجد۔

نسب[ترمیم]

قاضی سلطان عالم صد یقی خاندان کے چشم وچراغ ہیں۔ آپکا سلسلہ طریقت 33واسطوں اور سلسلہ نسب92واسطوں سے سیدنا صدیق اکبر تک پہنچتا ہے۔ آپکے آباﺅاجداد ہر زمانہ میں شریعت وطریقت کے مقتداءوپیشواہونے کے ساتھ ساتھ دنیوی لحاظ سے مناصبٍ رفیعہ پر فائز رہے۔ خاندان کے کئی بزرگ مختلف زمانوں میں مدینہ طیبہ ،یمن،سیستان ،روہتک،اورمیرپورمیں حاکم،قاضی القضاة، مفتی،محتسب،میرعدل،متولی اور خطیب رہے۔ قاضی فتح اﷲصدیقی روہتکی1501ھ میں میرپور کے قاضی القضاة مقرر ہوئے جو صدیقیان میر پور کے جد امجد ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

قاضی سلطان عالم خواجہ محمد رکن عالم کے گھر 1870ء چیچیاں شریف نزد فتح پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجدخواجہ محمد رکن عالم سے حاصل کی۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپکے والدگرامی نے آپ کو موہڑہ گجراں متصل انب ،جہاں اب نیو ڈڈیال آباد ہے ایک جید عالم کے پاس دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ے چھوڑدیا۔ دوران ِِتعلیم ایک غیر معمولی واقعہ ہواجس کی وجہ سے آپ کے استادمحترم ڈر گئے اور آپ کو موہڑہ گجراں سے ادھوری تعلیم کے ساتھ آپکے والد ماجد واپس چیچیاں شریف لے آئے۔ دوران ِِِتعلیم ایک عورت محلے و الی نے کسی وجہ سے استاد صاحب کو گالی گلوچ کی جب آپ نے سنا تو دوسرے طالب علموں سے پوچھا وہ کونسی عورت ہے جس نے استاد صاحب کو گالی دی انہوں نے کہا کہ تم اس سے جھگڑو گے آپ نے کہا کہ میں صرف دیکھنا چاہتا ہوں۔ دوسرے دن وہ عورت کنویں پر پانی بھرنے کے لیے مسجد کے قریب سے گزر رہی تھی تو طالب علموں نے بتایا آپ نے صرف انگلی کے اشارہ سے فرمایا کہ یہ عورت ہے بس وہ گزر کر کنویں پر چلی گئی جب اس کی واپسی ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس عورت نے پانی کا مٹکا ہا تھ پر اٹھا رکھا ہے اورڈانس کرتی شور مچاتی گھرکی طرف جا رہی ہے گھر جا کر مٹکا زمین پر پھینک دیا جو ٹوٹ گیا ۔گھر میں شور مچ گیا گھر والے پریشان ہوئے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ بعد میں جب گھر والوں کو اصل حقیقت معلوم ہوئی تو انہوں نے استاد صاحب سے معافی مانگی۔ آپ کے استاد کو اصل بات معلوم تھی۔ آپ نے قاضی سلطان عالم صاحب ؒکو فرمایا بیٹا اس عورت کو دم کرو جب آپ نے دم کیا تو عورت بالکل ٹھیک ہو گئی۔

بیعت[ترمیم]

قاضی سلطان عالم کے والد گرامی آپ کو اپنے پیر خانہ باؤلی شریف لے گئے کیونکہ آپ کی جستجو تھی کہ کسی اﷲ والے کی دست بوسی کے بعد روحانی تسکین حاصل کی جائے۔ اس سلسلہ مے ں آپ اپنے والدگرامی کے ھمراہ باولی شریف پہنچے اور خواجہ محمد بخش کے دست گرفتہ ہوئے۔ خواجہ محمد بخش خواجہ خان عالم باولی شر یف والوں کے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ خواجہ قبلہ عالم باولی شر یف میں ہی اپنے پیر خانہ پر قیام پزیر ہو گئے اور باطنی سلوک کی منازل طے کرنے لگے۔ قاضی سلطان عالم کے مرشد خواجہ محمد بخش کی وفات کے بعد آپ نے اپنے مرشد کے حکم کے مطابق حافظ حیات محمدڈھنگروٹ شریف والوں کے پاس قیام فرمایا اور بقایا سلوک کی منازل طے کر کے خلافت تک پہنچ گئے۔ اس دوران پیر نیک عالم شاہؒ نقشبندی مجددی گوہڑہ سیداں متصل پرانا میر پوراپنے آبائی گاﺅں میں تشریف لائے۔ پیر نیک عالم شاہ کی خدمت میں آپ نے حاضری دینا شروع کر دی۔ سلسلہ سیفیہ مجددیہ کی منازل طے کر کے پیر نیک عالم شاہ سے بھی خلافت حاصل کی۔ دوران قیام ڈھٹنگروٹ شریف آ پ زیادہ تر کھیتی باڑی کا کام اور لنگر کا کام سر انجام دیتے تھے۔ کھانے کے وقت سنگیوں کے کھانے کے بچے ہوئے ٹکڑے تناول فرمالیا کرتے۔ ہر دو جگہ سے فارغ ہو کر آپ اپنے گھرمقیم ہو گئے۔ کھیتی باڑی کا کام شروع کیا اور بندگان خدا کو بھی اﷲکا راستہ دکھانے میں مشغول ہو گئے۔ ہزاروں بندگان خدا آپکے دست اقدس پر بیعت ہوئے۔

وفات[ترمیم]

قاضی سلطان عالم کا انتقال 9مئی 1934 میں ہوا آپ کے ہاں ایک صاحبزادے اور چارصاحبزادیاں موجود تھے ں۔ آپ کا مزار مبارک جہلم (کالا دیو)میں ہے جہاں ہر سال 9مئی کو سالانہ ختم شریف ہوتا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اولیائے پنجاب ،انجم سلطان شہبازصفحہ 122 ورگو پبلشر لاہور