یوسف ہمدانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خواجہ یوسف ہمدانی سلسلہ نقشبندیہ کے اکابرین اور اہم بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔

نام[ترمیم]

یوسف ہمدانی یا ابو یعقوب محمدیوسف بن ایوب ہمدانی کا نام گرامی یوسف اور کنیت ابویعقوب ہے۔

مقام و مرتبہ[ترمیم]

خواجہ یوسف بن ایوب ہمدانی علم، عامل،عارف ،زاہد، پرہیز گار، صاحب احوال جلیلہ اور علوم و معارف میں قدم راسخ رکھتے تھے۔اپنے وقت میں یگانہ شیخ تھے۔آپ کی مجلس میں علماء و فقہاء و صلحاء کا بڑا مجمع ہوتا۔ خراسان میں مریدین کی تربیت آپ پر ختم تھی۔ آپ کی مجلس میں علماء فقہاء ،اور صلحاء کا بڑا مجمع رہا کرتا تھا جو آپ کے کلام سے مستفیض ہوتا تھا۔ آپ ساٹھ سال سے زیادہ مسند ارشاد پرمتمکن رہے۔ کچھ عرصہ کوہ زرا [مضافات حوزان سے ہے جو خراسان میں نواح مردِ رود سے ہے] میں بھی مقیم رہے اور سوائے نماز جمعہ کے کبھی باہر نہ نکلتے تھے[1]

ولادت[ترمیم]

آپ موضع بوزنجرد (ہمدان کے دیہات میں سے شہر سادہ کی طرف ایک منزل کے فاصلے پر واقع ہے)میں 430ھ میں پیدا ہوئے ۔"آپ کے آباؤ اجداد ہمدان کے تھے"[2]

ظاہری علوم کا حصول[ترمیم]

اٹھارہ سال کی عمر میں بغداد آئے۔ وہاں ابو اسحاق شیرازی سے فقہ پڑھی۔ قاضی ابو الحسین محمد بن علی بن مھتدی باللہ، ابو الغنائم عبد الصمد بن علی بن مامون اور ابو جعفر محمد بن احمد بن مسلمہ سے سماع حدیث کیا اور اصفہان و سمرقند میں بھی سماع کیا۔

القابات[ترمیم]

امام ارباب طریقت،مستغرق در بحر حقیقت،عارف ربانی، پیشوائے قوم۔

باطنی علوم کا حصول[ترمیم]

ظاہری علوم کے بعد باطنی علوم کی طرف متوجہ ہوئے،تصوف میں آپکی نسبت شیخ ابو علی فارمدی سےہے جبکہ شیخ عبد اللہ جوینی نیشا پوری اور شیخ حسن سمنانی کی صحبت میں بھی رہےاور مقدم الذکر سے خرقہ پہنا ۔ پہلے مرو میں رہے وہاں سے ہرات آئےپھر مرو چلے گئےو ہیں پر وصال ہوا۔

شیخ عبد القادر جیلانی کی ملاقات[ترمیم]

جب شیخ عبد القادر جیلانی تحصیل علم سے فارغ ہوئے تو بغداد میں خواجہ یوسف ہمدانی سے ملاقات ہوئی فرماتے ہیں "بغداد میں ایک شخص ہمدان سے آیا جسے یوسف ہمدانی کہتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ قطب ہیں وہ ایک مسافر خانے میں اترےمیں وہاں گیا مگر معلوم ہوا کہ وہ سرداب میں ہیں وہاں گیا تو مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہو گئےمجھے اپنے پاس بٹھایا میرے تمام حالات مجھ سے ذکر کئے اور میری تمام مشکلات کو حل فرمایا پھر فرمایا اے عبد القادر تم لوگوں کو وعظ سنایا کرو میں نے عرض کی میں عجمی ہوں فصحائے بغداد کے سامنے کیسے گفتگو کروں یہ سن کر فرمایا کہ تم کو فقہ ،اصول فقہ اختلاف مذاہب،نحو،لغت،اور تفسیر قرآن یاد ہےتم میں وعظ کہنے کی صلاحیت و قابلیت بھی موجود ہےبر سر منبر لوگوں کو وعظ سنایا کرو کیونکہ میں تم میں ایک جڑ دیکھتا ہوں جو عنقریب درخت ہو جائیگی"[3]

کرامات[ترمیم]

آپ سید الکاملین صاحب کرامت ولی تھے۔ایک دفعہ ایک عورت روتی ہوئی آپ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ فرنگی میرے لڑکےکوپکڑکےلےگئےہیں دعافرمایئےکہ وہ آجائے۔آپ نےفرمایا صبرکرو اور گھر واپس جاکر دیکھو تمھارا لڑکاتوگھرمیں موجودہے۔ وہ عورت جب واپس گھر پہنچی تو دیکھاواقعی اس کالڑکاگھرمیں موجود تھا۔ لڑکے سے حال دریافت کیاتواس نے بتایامیں ابھی قسطنطنیہ میں قیدتھا۔ پہرےدار اردگردموجود تھےکہ اچانک ایک نامعلوم شخص آیا اورمجھ کو آنکھ جھپکتے ہی گھر پہنچادیا۔ اس عورت نے آپ کے پاس آکرتمام واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا تجھے حکم خدا سے تعجب آتاہے۔ ایک دفعہ آپ وعظ فرمارہےتھے وعظ کی تاثیرسےتمام مجمع مسحورتھا۔ دو فقہیہ بھی حاضرین میں موجود تھے۔ وہ یہ منظربرداشت نہ کرسکے اور آپ سے کہنے لگے چپ رہو کہ تم بدعتی ہو۔ آپ نے ارشاد کیاتم خاموش رہو کہ تمہیں موت آنےوالی ہے۔ چنانچہ وہ دونوں اسی وقت اسی جگہ مرگئے۔[4]

وصال مبارک[ترمیم]

اخیر سفر مبارک ہرات سے مرو کو آرہے تھے کہ راستے میں ہرات اور بغشور کے درمیان موضع بامئین میں بروز دو شنبہ 22 ربیع الاول، 535ھ میں وصال فرمایا اور وہیں دفن ہوئے۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ کے مریدین میں سے ابن النجار آپ کے جسد اطہر کو مرو لے گیا اور وہاں خطیرہ میں دفن کیا جو آپ کے نام سے موسوم ہے۔[5]

فقہی مسلک[ترمیم]

فقہاء اربعہ میں سے آپ امام الآئمہ سرج الامہ امام ابو حنیفہ کے مقلد اور حنفی تھے۔

تصنیفات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/abu-yaqoob-yousuf-bin-ayub
  2. سفینۃ الاولیاء صفحہ108
  3. بہجۃ الاسرار 396
  4. http://www.hazratmuradali.com/_ur/naqshbandia/10%20abdul%20khaliq.htm
  5. تذکرہ مشائخ نقشبندیہ محمد نو ر بخش توکلی صفحہ 93 تا 96 مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور
  6. نفحات الانس408