حاجی محمد صفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حاجی محمد صفی الفاروقی کا نام حاجی صفی اللہ اور حاجی محمد صفی سے شہرت رکھتے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 4 ذو القعدہ 1156ھ ہے۔خواجہ معصوم ثانی کو حضرت آدم علیہ السلام نے خواب میں بشارت دی کہ کل آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا جو بہت برگزیدہ ہو گا۔ اس کا نام میرے نام پر رکھنا جس کی وجہ سے ان کا نام صفی اللہ رکھا گیا۔

کمالات[ترمیم]

حاجی محمد صفی پیدائش کے فوراًبعد رونے سے پہلے بکمال فصاحت تین مرتبہ لفظ اللہ کہا اور جب کان میں اذان و تکبیر کہی گئی تووقت تکبیر ہونٹ مبارک ہل رہے تھے موجود لوگوں نے اس کی گواہی دی۔ ایام طفولیت میں ہی والد انتقال فرما گئے۔ ان کے بعد تربیت اپنے برادر بزرگ شاہ غلام محمد سے حاصل کی۔ آپ نے زیادہ تر سکونت کابل میں رکھی اور گردو نواح کو فیوض باطنی سے منور کرتے رہے ۔

شاعری[ترمیم]

آپ بہت اچھے شاعر تھے ایک دیوان لکھا ایک مرتبہ حالت جذب ووجد میں اسے دھو ڈالا چند اشعار ہی باقی بچ سکے۔

تصنیفات[ترمیم]

آپ صاحب تصنیف بھی ہیں دیون جو ضائع ہو گیا اس کے علاوہ تین کتابیں تصنیف فرمائیں۔

  1. آداب الاسرار جسے معدن الاسرار بھی کہتے ہیں
  2. مخزن انوار صفی احمدی جس کا پورا نام مخزن الانوار احمدی فی کشف الاسرار المجددی کے نام سے موجود ہے
  3. رسالہ چہار جوی

سفر حرمین[ترمیم]

آپ اپنے بیٹے حضرت ایشاں شہید برادر بزرگ فضل اللہ عمدۃ المقامات اور بی بی قیومہ کے ساتھ زیارت حرمین اور سفر حج کے لیے براستہ غزنی ،قلات سندھ اور بلوچستان روانہ ہوئے لیکن راستے ہی میں واصل بحق ہوئے۔

وفات[ترمیم]

دوران میں سفر حج بیمار ہوئے اور بروز سوموار 6 ذوالقعدہ 1212ھ کو آپ کی وفات ہوئی۔

مزار[ترمیم]

آپ کا مزار شہر حدیدہ یمن کے گردو ونواح میں ہے۔ یہ مسجد روشن ہندی کے قریب ایک درخت کے نیچے ہے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حافظ محمد عرفان قادری (1413ھ)۔ تذکرہ مشائخ سیفیہ۔ لاہور: بہار اسلام پبلیکیشنز لاہور۔ pp. 157.
  2. تاریخ اولیاء المعروف بالہامات غیبیہ فی سلاسل سیفیہ،صفحہ 122،علی محمد بلخی نورانی کتب خانہ قصہ خوانی بازار پشاور پاکستان۔