شاہ رسول طالقانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مولانا سید شاہ رسول طالقانی سلسلہ نقشبندیہ سیفیہ کے معروف مشائخ میں سے ہیں۔افغانستان کے مشہور استاذ ،شیخ المشاٰئخ اورجامع معقول ومنقول تھے۔

نام و نسب[ترمیم]

شاہ رسول طالقانی نام شاہ رسول مگر مولانا طالقان کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کا اصل وطن تگاب تھا۔ ابتداء میں ہی علوم نقلیہ وعقلیہ اپنے زمانہ کے صاحب کمال اساتذہ سے حاصل کیے۔ بعد از فراغت تدریس کا آغاز کیا اور اعلیٰ مدرس کی حیثیت پہچان ہونے لگی۔

تصوف سے رغبت[ترمیم]

مکتوبات امام ربانی کے مطالعہ سے علوم باطنیہ کا شوق پیدا ہوا اور کسی کامل ومکمل مرشد کی تلاش شروع کی ۔ حصول معرفت کے لیے آخوند زادہ تگاب سے بیعت کی اور تین سلاسل (چشتیہ قادریہ سہروردیہ ) مکمل کئےاور اپنے پیرو مرشد سے اجازت و خلافت ملی۔تینوں سلاسل کے بعد سلسلہ نقشبندیہ کی طرف متوجہ ہوئے اورسیدنا شمس الحق کوہستانی کی روحانی شہرت سن کر ان کی خدمت میں پہنچے۔پہلی صحبت نے ہی ایسا اثر کیا کہ مولانا شمس الحق کے ہی ہو کر رہ گئے۔بیعت ہونے کی درخواست کی جسے قبول فرما لیا گیا اور حکم ہوا کہ کچھ دن یہاں گزاریں چند دن کی توجہ نے تمام اسباق مکمل کر دئیے اور مرتبہ کمال پر پہنچ گئے اس کے ساتھ ہی اجازت تلقین اور توجہ بھی مل گئی۔

خلافت[ترمیم]

شاہ رسول طالقانی کو شمس الحق کوہستانی نے ان کی لیاقت و استعداد دیکھ کر بہت تھوڑے عرصہ میں خلافت عطا فرما دی ۔حالانکہ ابھی اسباق باقی رہتے تھے ۔ابھی ارشاد خط عطا نہ فرمایا تھا کہ شمس الحق کوہستانی کا 1350ھ میں وصال ہو گیا ۔ اپنے پیرو مرشد کے وصال کے بعد آپ اپنے وطن تگاب تشریف لے لے گئےاور درس و تدریس میں مشغول ہو گئے اور تشنگان علم و معرفت کو ظاہری و باطنی علوم سے مزین فرمانے لگے۔

جب علم و معرفت کا دریا موجزن ہوا تو حاسدین نے مخالفت شروع کی کہ آپ بغیر خلافت کے اور ارشاد خط کے پیری مریدی کررہے ہیں شکایا ت حکام بالا تک گئی یہ بات مولانا شمس الحق کے صاحبزادے اور خلیفہ تک بھی پہنچی انہوں نے بغیر طلب کے خود ہی ارشاد خط تحریر فرما کر مولانا شاہ رسول طالقانی کو ارسال فرما دیا۔ مگر حاسدین کی مخالفت جاری رہی تو آپ نےاپنے علاقہ تگاب سے ہجرت کر کے طالقان چلے آئے اور بقیہ زندگی وہاں پر ہی تشریف فرما رہے۔

وفات[ترمیم]

1360ھ کو سید شاہ رسول طالقانی کی وفات ہوئی۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ مشائخ سیفیہ، مؤلف حافظ محمد عرفان، بہار اسلام پبلیکیشنز لاہور
  2. تاریخ اولیاء المعروف بالہامات غیبیہ فی سلاسل سیفیہ،صفحہ 151، علی محمد بلخی نورانی کتب خانہ قصہ خوانی بازار، پشاور، پاکستان۔