سید بڈھن بہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مخدوم سید بڈھن بہرائچی
سید بڈھن شاہ بہرائچی کی مزار مبارک
پیدائش محلہ بڑی ہاٹ شہر بہرائچ اتر پردیش ہندوستان
وفات 5فروری 1476ء مطابق 8 شوال 880ھ
اسمائے دیگر مخدوم سید بڈھن شاہ بہرائچی
وجہِ شہرت سلسلہ سہروردیہ،سلسلہ نقشبندیہ سلسلہ نظامیہ،سلسلہ مداریہ کے مشہور بزرگ
مذہب اسلام
اولاد مخدوم سید شاہ فتح چشتی

سید بڈھن بہرائچی کی پیدائش شہر بہرائچ کے محلہ بڑی ہاٹ میں ماہ رمضان [1] میں ہوئی تھی۔ ولادت کے وقت آپ کے سر کے تمام بال سفید تھے اس لیے آپ کا نام بڈھن [1] پڑ گیا تھا۔ آپ کے والد کا نام مخدوم سید اللہ داد تھا۔[1]

حالات[ترمیم]

سید بڈھن بہرائچی کا خاندان ساتویں صدی ہجری میں ہلاکو خاں کے پر فتن زمانہ سے پناہ حاصل کرنے کے لیے بغداد سے ہندستان آیا تھا اور علاقہ ادوھ کے بہرائچ میں اقامت اختیار کی اور بہرائچ میں ایک محلہ آباد مخدوم پورہ کے نام سے آباد کیا جو موجودہ وقت میں بڑی ہاٹ کے نام سے مشہور ہے۔[1] سید ظفر احسن بہرائچی اپنے والد مولانا سید شاہ اعزازالحسن نقشبندی مجددی (سجادہنشین خانقاہ نعیمیہ بہرائچ سے نقل کرتے ہے کہ

قدیم زمانے میں بہرائچ میں دو مرتبہ ّآتش زنی ہوئی چوں کہ اس وقت بہرائچ کی ساری آبادی پھوس کے مکانات پر مشتمل تھی اس لیے سارا شہر جل گیا اور کوئی بھی اپنا سامان بچا نہ سکا اسی آگ میں میرا مکان بھی جل گیا اور میرے گھر کا اثاثہ قیمتی نوادرات اور کتابیں وغیرہ سب ضائع ہو گئیں اسی میں مخدوم سید بڈھن بہرائچی کے خاندانی حالات وغیرہ بھی تھے ۔اب صرف آپ کی تاریخ وفات اور سلسلہ نسب کے کچھ بزرگوں کے نام معلوم رہ سکے۔

[1]

شہری زمینداری بہت تھی۔ کچھ دیہات مثلاً ڈیہا ،بخشی پورہ ،امام گنج وغیرہ آپ کے خاندان کے باقی تھے انگریزی دور حکومت میں وہ بھی جاتے رہے۔ شہر بہرائچ کا موجودہ بہرائچ ریلوے اسٹیشن آپ ہی کی زمین پر بنا ہے۔[1]

سلاسل اربعہ[ترمیم]

سید بڈھن بہرائچی نے شیخ عبد المقتدر بن رکن الدین شریحٰی کے واحد شاگرد مخدوم شیخ حسام الدین فتح پوری سے حاصل کی تھی اور ان ہی سے سلسلہ چشتیہ کی اجازت پائی تھی۔ مخدوم شیخ حسام الدین فتح پوری کی وفات کے بعد آپ سید اجمل شاہ بہرائچی کی خدمت میں پہنچے اور ان سے مکمل باطنی تعلیم حاصل کر کے ان کے جلیل القدر خلیفہ ہوئے۔[1] مولانا سید عبدالحئی حسنی نے اپنی کتاب الإعلام بمن في تاريخ الہند من الأعلام ( نزهتہ الخواطر وبهجتہ المسامع والنواظر) میں لکھتے ہے کہ اردو ترجمہ

اشیخ الصالح الفقیہ السید بڈھن البہرائچی کا شمار مشہور و معروف مشائخ کرام میں ہو تا تھا۔آپ نے علوم ظاہری کی تعلیم اور سلسلہ چشتیہ کی اجازت شیخ حسام الدین فتح پوری سے حاصل کی جو شیخ عبدالمقتدر بن رکن الدین شریحی کے شاگرد ت اور فیض یافتہ تھے۔سید بڈھن بہرائچی نے سلسلہ مداریہ و سہروردیہ اور دیگر مشہور سلاسل کی اجازت وخلافت سید اجمل شاہ بہرائچی سے حاصل کی اور ان سے شیخ (درویش) محمد بن قاسم اودھی نے اجازت اور خلافت حاصل کی۔

[1][2]

درگاہ سید بڈھن شاہ بہرائچی

سید بڈھن شاہ بہرائچی قاضی سید عبد المالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچی کے خلیفہ تھے۔ آپ کو بے شمار سلاسل سے نسبت حاصل تھی۔ سید بڈھن بہرائچی کو سسلسلہ چشتیہ نظامیہ [3]میں اجازت اپنے پیر و مرشد قاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچی سے انہیں اپنے مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں سے اور انہیں خواجہ نصیرالدین روشن چراغ دہلوی سے انہیں سلطان المشائخ شیخ نظام الدین محمد بن احمد البداؤنی سے انہیں خواجہ فریدالدین گنج شکر سے حاصل تھی ۔[3]اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کی اجازت آپ کو اپنے پیر و مرشد قاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچی سے انہیں اپنے مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں سے حاصل تھی انہیں حضرت شاہ رکن الدین عالم سے انہیں اپنے والد شیخ بہاؤالحق زکریا ملتانی سے انہیں شیخ شہاب الدین سہروردی سے ۔[3] اسی طرح سلسلہ کبوریہ میں سید بڈھن شاہ کو اجازت حاصل تھی اپنے پیر و مرشدقاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچی سے انہیں اپنے مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں سے انہیں اپنے دادا سید جلال الدین بخاری سے انہیں حمید الدین سمرقندی سے انہیں شمس الدین ابو محمد بن محمود بن ابراہیم الفرغانی سے انہیں عطایا ء الخالدی سے انہیں شیخ احمد سے انہیں بابا کمال جنیدی سے انہیں نجم الدین الکبری سے انہیں عمار یاسر سے انہیں شیخ الدین ابو نجیب سہروردی سے ۔سلسلہ قادریہ میں آپ اپنے مرشد قاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچیسے انہیں اپنے مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں سے انہیں سید جلال الدین بخاری سے انہیں عبید غیبی سے انہیں ابوالقاسم فاضل سے انہیں شیخ ابوالمکارم فاضل سے انہیں قطب الدین ابوالغیث سے انہیں شیخ شمس الدین علی الافلح سے انہیں شیخ مشس الدین الحداد سے انہیں شیخ محی الدین ابو محمد سید عبد القادر جیلانی سے۔ سلسلہ مداریہ قلندریہ کی اجازت آپ کومرشد قاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچی سے انہیں شاہ بدرالدین بدیع الزماں شاہ مدار سے بغیر کسی واسطہ سے حاصل ہوئئی انہیں طیفور شامی سے انہیں عین الدین شامی سے ۔[3] اسی طرح سلسلہ نقشبندیہ میں اپنے مرشد قاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچی سے سید اجمل شاہ بہرائچی خلیفہ تھے شاہ عبد الحق کے وہ خلیفہ تھے خواجہ یعقوب چرخی کے اور وہ خلیفہ تھے خواجہ بہاؤالدین نقشبندی کے ۔[4]تاریخ نقشبندیہ ابوالعلائیہ کے مصنف نے خواجہ عبد الحق امشتہر بہ محی الدین کے احوال میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سید اجمل شاہ بہرائچی سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ عبد الحق امشتہر بہ محی الدین کے خلیفہ تھے۔[5]

خلفاء[ترمیم]

سید بڈھن بہرائچی کے خلفاء آپ کے فرزند اکبر سید شاہ فتح چشتی آپ کے خلیفہ اور جانشین ہوئے اور دوسرے شیخ درویش محمد اودھی بن شیخ قاسم اودھی بہت مشہور ہوئے۔ شیخ درویش محمد اودھی(متوفی 896ھ) کے خلیفہ شیخ عبد القدوس گنگوہی (متوفی 944ھ) ان کے خلیفہ شیخ رکن الدین گنگوہی (متوفی 983ھ) ان کے خلیفہ مخدوم عبد الاحد سرہندی (متوفی 1007ھ) ان کے خلیفہ حضرت مجدد الف ثانی (متوفی 1034ھ)۔

اولاد[ترمیم]

آئینہ اودھ کے مصنف مولوی ابوالحسن مانکپوری اپنی ملازمت کے دوران 1875ء میں بہرائچ آئے اور مخدوم سید بڈھن بہرائچی کی اولادوں سے ملے تھے۔ مصنف آئینہ اودھ سید بڈھن بہرائچی کے حالات میں آپ کی اولاد کا ذکر اس طرح کیا ہے۔

ان مخدوم سید بڈھن بہرائچی کی اولاد میں مولوی سید ابوالحسن بہرائچی نواسئہ شاہ نعیم اللہ بہرائچی خلف الرشیدمولوی شاہ بشارت اللہ بہرائچی صاحب ہیں۔ مولانا سیدنا مخدوم سید بڈھن ؒ کے طہارتِ نسب میں کوئی شق نہیں،مگرعلی الاتصال شجرہ پدری مؤلف کو نہ ملا اس باعث سے اس کے لکھنے میں معذوری ہوئی،اور کچھ چکوک و دیہات معافی کے اس خاندان میں تھے۔عمل داری سرکار انگلیشیہ میں اثر قانونی سے ایک تعلقہ دار کے قبضہ مٰیں جاتے رہے۔اب محض توکل پر بسر اوقات ہے۔

[1][6]

وفات[ترمیم]

سید بڈھن بہرائچی کی وفات 17 رجب 880 مطابق 17 نومبر 1475ء میں سلطان بہلول لودی کے زمانے میں ہوئی تھی۔[1] آپ کا مزار شہر بہرائچ میں بہرائچ ریلوے اسٹیشن روڈ پر پورب جانب ایک بلند ٹیلہ پر واقع ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ آثار حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ ازمرتب سید ظفر احسن بہرائچی مطبوعہ2015
  2. الإعلام بمن في تاريخ الہند من الأعلام ( نزهتہ الخواطر وبهجتہ المسامع والنواظر)
  3. ^ ا ب پ ت معمولات مظہریہ از شاہ نعیم اللہ بہرائچی
  4. تاریخ اولیاء،ابو الاسفارعلی محمد بلخی،صفحہ266،نورانی کتب خانہ قصہ خوانی بازار پشاور
  5. تاریخ نقشبندیہ ابوالعلائیہ
  6. آئینہ اودھ از مولوی ابوالحسن مانکپوری

* معمولات مظہریہ از شاہ نعیم اللہ بہرائچی* آثار حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ ازمرتب سید ظفر احسن بہرائچی مطبوعہ2015* نزهتہ الخواطر وبهجتہ المسامع والنواظر* تاریخ اولیاء،ابو الاسفارعلی محمد بلخی،صفحہ266،نورانی کتب خانہ قصہ خوانی بازار پشاور

  • تاریخ نقشبندیہ ابوالعلائیہ
  • آئینہ اودھ از مولوی ابوالحسن مانکپوری

==بیرونی روابط==* http://www.hazratmuradali.com/_ur/chishtia/24%20hazrat%20syed%20buddan%20shah%20bharaichi.htm* http://www.kazmis.com/skq.html