مسعود حسن رضوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسعود حسن رضوی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1893  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1975 (81–82 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مترجم،  ومصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:اردو ڈراما اور اسٹیج) (1959)[1]
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

اردو ادب کے محقق اور نقاد۔ پیدائش 29 جولائی 1893ء کو محلہ ناظر پورہ شہر بہرائچ میں ہوئی[2] اور ان کا نام محمد مسعود رکھا گیا عرفیت ننھے قرار پائی،کیوں کہ وہ جسمانی طور پر بہت کمزور اور منحنی تھے، لیکن ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے انہوں نے اپنے نام میں تبدیلی کر لی اور اپنا نام سید مسعود حسن رکھ لیا جس میں بعد میں رضوی اور پھر ادیب کا اضافہ ہوا۔ ادب سے ان کی دلچسپی اسکول کے ہی زمانے میں شروع ہو گئی تھی کیوں کہ انہوں نے ایک بیاض تیار کی جس کا عنوان تھا ”اشعار برائے بیت بازی۔“ اس کتاب میں الف سے لے کر ے تک حروف تہجی کے اعتبار سے اشعار درج تھے۔ یہ ان کی پہلی تالیف تھی جو صرف تیرہ برس کی عمر میں تیار ہوئی، جس وقت وہ پانچویں درجہ کے طالب علم تھے۔ وہ بیت بازی کے مقابلوں میں تنہا پوری جماعت کو ہرا دیاکرتے۔ طالب علمی کے ہی زمانے میں انہیں امانت کی اندر سبھا کے بہت سے حصے زبانی یاد تھے جو کبھی کبھی اسکول میں وہ ترنم سے سنایا کرتے تھے۔ امانت کی اندرسبھا سے دلچسپی کا ہی نتیجہ تھا کہ انہوں نے بعد میں’لکھنئو کا عوامی اسٹیج‘ جیسی گراں قدر کتاب لکھی۔ جسے اردو ڈراموں میں سنگِ میل کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔

مرثیہ[ترمیم]

ادیب کے والد کا انتقال جلدی ہی ہو گیا، لیکن ان کی والدہ کا تعلق صاحبِ علم گھرانے سے تھا ا س لیے وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا بھی علم حاصل کرے۔ مسعود حسن کی نانی میر انیس کے خاص شاگرد میر سلامت علی مرثیہ خواں لکھنئو کی بیٹی اور خود اہل زباں تھیں۔ وہ ادیب کو غلط یا غیر فصیح زبان بولنے پر ٹوکتی رہتی تھیں۔ نانی کے بھائی عبد العلی نے ادیب کو حساب کے علاوہ مرثیہ خوانی بھی سکھائی تھی۔ میرعبد العلی کے نانا میر انیس کے یہاں داروغہ تھے اور ان سے ادیب انیس کے واقعات سنا کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے میر عبد العلی سے حاصل ہونے والی معلومات کو اپنے بہت اہم مضمون میر انیس کے کچھ چشم دید حالات میں لکھا بھی ہے۔ ان بزرگوں کی وجہ سے مسعود کو انیس اور صنفِ مرثیہ سے ایک خاص تعلق پیدا ہو گیا۔ بچپن میں ہی انہوں نے فرمائش کر کے اپنے لیے انیس کے کئی مرثیوں کی نقلیں تیار کروائیں اور آگے بڑھ کر انیس شناسوں اور مرثیے کے محققوں میں سر فہرست ہو گئے۔

لکھنؤ[ترمیم]

ادیب سنہ 1908ء میں لکھنئو آ گئے تھے اور انہوں نے حسین آباد ہائی اسکول میں داخلہ لیا جہاں جوش ملیح آبادی بھی زیرِ تعلیم تھے۔ لکھنئو کے طالب علمی کے زمانے میں ادیب کے ادبی ذوق کو جلا ملی۔ دوسری طرف ان کو اس مٹتے ہوئے شہر اور اس کی ختم ہوتی ہوئی ادبی اور تہذیبی روایات نے مسحور کرنا شروع کر دیا۔ ان کی ملاقات بہت سے ایسے اصحاب سے ہوئی جنہوں نے اپنی آنکھوں سے واجد علی شاہ کا زمانہ اور 1857ء کا آشوب دیکھا تھا ان کے پاس عبرت ناک حکایتوں کا خزانہ تھا۔ جس کو سن کر ادیب بہت متاثر ہوئے اور یہی سبب بنا کہ وہ واجد علی شاہ اور لکھنوی تہذیب کی جانب متوجہ ہوئے اور ان دونوں موضوعات پر متعدد کتابوں کی تدوین کر کے اس موضوع پر سندکی حیثیت اختیا رکر لی۔

کتابیں[ترمیم]

سنہ 1915ء سے 1917ء تک وہ کیننگ کالج کے طالب علم رہے اور اس کے بورڈنگ ہاؤس کے ساتھیوں میں علی عباس حسینی اور مرزا حامد حسین وغیرہ ادب کے مطالعے میں غرق رہتے تھے۔ ان میں ادبی موضوعات پر گرما گرم بحثیں ہو تی تھیں۔ جن میں مرزا محمد ہادی رسوا، مولانا بے خود موہانی اور مرزا یاس یگانہ چنگیزی شریک ہو تے تھے۔ ان اہل قلم نے ادیب کے ذہن کو وسعت دی۔ بی اے پاس کرنے کے بعد ادیب نے ریاستی حکومت کے محکمہٴ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی اور ملازمت کے دوران میں ہی انہوں نے پہلی کتاب سنہ 1920”امتحان وفا“ شائع کی جو لارڈ ٹینی سن کے ایک منظوم انگریزی قصے اینوک آرڈن (Enoch Arden) کا اردو نثر میں ترجمہ ہے۔ انہوں نے گولڈ اسمتھ کی نظموں کا بھی اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ سنہ 1922میں وہ لکھنئو یونیورسٹی میں اردو کے لکچرر ہوئے اور اس کے بعد وہیں سے سبک دوش ہوئے۔ انہیں کتابیں جمع کرنے کا بے حد شوق تھا اور اس شوق نے ہی ان کے گھر کو ایک لائبریری میں تبدیل کر دیا ۔

کارنامہ[ترمیم]

سعود حسن رضوی ادیب کا سب سے بڑا کارنامہ اردو ڈراما اور اسٹیج ابتدائی دور کی مفصل تاریخ ہے۔ جس میں انہوں نے اردو ڈرامے کو پوری تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امانت کی اندر سبھا اور واجد علی شاہ کی کتابوں کی بھی تدوین کی ہے۔ میر تقی میر پر بھی ان کا کام بہت اہمیت کا حامل ہے۔

انتقال[ترمیم]

مسعود حسین رضوی ادیب 60برسوں تک لکھتے پڑھتے رہے اور مضامین نو کے انبار لگا دیے۔ اس نابغہ روزگار شخصیت کا 29نومبر سنہ 1975ء کو لکھنئو میں کتابوں کے اس ذخیرے میں ہی انتقال ہوا جہاں بیٹھ کو وہ لکھا پڑھا کرتے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  2. مسعود حسن رضوی ادیبؔ :حیات و خدمات از مرزا جعفر حسین مطبوعہ 1977