محمد افتخار الحق قاسمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد افتخار الحق قاسمی
پیدائش محمد افتخار الحق
22 اپریل 1931ء
محلہ ناظر پورہ ،بہرائچ اتر پردیش، ہندوستان
وفات 31جنوری2008ء
مدفن مولوی باغ قبرستان بہرائچاتر پردیش ہندوستان
رہائش محلہ گڈری شہر بہرائچاتر پردیش ہندوستان
مؤثر شخصیات محمود حسن دیوبندی، رشید احمد گنگوہی
مذہب اسلام
اولاد حافظ اظہار الحق صاحب نوری، مولانا قاری نثار الحق صاحب قاسمی، مولانا ابرار الحق صاحب قاسمی اور ایک بیٹی

محمد افتخار الحق قاسمی تخلص منورؔ بہرائچی 22 اپریل 1931کو محلہ ناظر پورہ شہر بہرائچ میں پیدا ہوئے، آپ کے آبا واجداد قصبہ رسٹرا ضلع بلیا کے باشندے تھے اور وہاں سے آکر مستقل بہرائچ میں سکونت پزیر ہو گئے تھے۔ محمد افتخار الحق قاسمی ایک علمی خانوادہ کے چشم وچراغ، حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحبؒ مہتمم اول کے فرزند امجداور بانی جامعہ حضرت مولانا محفوظ الرحمن نامیؒ کے بھتیجے تھے

تعلیم[ترمیم]

محمد افتخار الحق قاسمی نے متوسطات تک تعلیم جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچ میں حضرت مولانا سید حمید الدین صاحبؒ شیخ الحدیث جامعہ، صاحب مصباح اللغات حضرت علامہ عبد الحفیظ صاحب بلیاویؒ، حضرت مولانا محمد سلامت اللہ بیگ صاحبؒ صدر المدرسین جامعہ، حضرت مولانا حافظ نعمان بیگ صاحب مہاجر مکیؒ ناظم تعلیمات جامعہ،اور حضرت مولانا حافظ حبیب احمد صاحبؒ اعمیٰ سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم ازہر ہند دار العلوم دیوبند میں اس وقت کے مایہ ناز علما میں شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا اعزاز علی صاحب امروہیؒ، حضرت علامہ ابراہیم صاحب بلیاویؒ، حضرت مولانا فخر الحسن صاحبؒ، حضرت مولانا بشیر احمد صاحبؒ وغیرہ سے حاصل کرکے 1950 ؁ء میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی اور قاسمیؔ سلسلۃ الذہب میں شامل ہو گئے۔

خدمات[ترمیم]

محمد افتخار الحق قاسمی ایک متبحر عالم دین ہونے کے ساتھ خطاطی کے ماہر اساتذہ میں سے تھے، اس فن خطاطی وخوش نویسی میں آپ کی مہارت موروثی تھی، قریبی اضلاع میں وہ اپنے فن میں منفرد تھے، اچھے اشتہارات ودیگر کاغذات کی کتابت کے لیے لوگ بالعموم آپ ہی سے رجوع ہوتے تھے اور شوقین طلبہ کتابت کے فن کو سیکھنے کے لیے آپ کو گھیرے رہتے تھے، فن تفسیر آپ کا مخصوص فن تھا، کار اہتمام کے ساتھ علی العموم جلالین شریف، ترجمہ قرآن کریم کا درس آپ سے متعلق رہتا تھا اور اس فن کی کتابیں آپ بلا تکان پڑھاتے تھے۔ اسباق آپ بہت ہی تیاری وعمیق مطالعہ کے بعد پڑھایا کرتے تھے اور متعلق طلبہ کا بیحد خیال فرماتے تھے، انہیں درس میں مطمئن کرنے کی پوری کوشش فرماتے تھے، جلالین شریف کے درس میں صاحب جلالین کی اضافہ کردہ عبارت کی وجہ، شانِ نزول، مشکل صیغوں کا حل اور تراکیب پر خصوصی توجہ فرماتے تھے، الفیۃ الحدیث بھی مخصوص تحقیق کے ساتھ مخصوص انداز میں پڑھایا کرتے تھے، قرآن کریم سے بہت گہرا شغف تھا، موقع پاتے ہی تلاوت میں لگ جاتے تھے، حفاظِ قرآن تراویح میں اگر کوئی غلطی کرتے تو فوراً لقمہ دیتے اور حضرت مہتمم صاحب کی موجودگی حافظ کے لیے کسی حافظ کی موجودگی سے کم نہ ہوتی، اسی طرح نعت گوئی کا بھی پاکیزہ ذوق آپ کو تھا، منورؔ آپ کا تخلص تھا، آپ کی کئی حمد ونعت رسائل وجرائد میں شائع ہوئیں ہیں، جس کو اہل علم نے پسند بھی کیا ہے، آپ نہایت حلیم وبردبار، خوش اخلاق، خردوں پر بے پناہ شفیق ومہربان تھے، خلوت نشینی کو ہمیشہ پسند فرماتے اور ترجیح دیتے تھے، بیعت وسلوک میں آپ کا تعلق حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی سے تھا، لیکن اجازت آپ کو ایک صاحبِ سلسلہ بزرگ حضرت مولانا حکیم منیر الدین صاحب امام شاہی مسجد مؤ سے حاصل تھی اور اسی سلسلے سے آپ لوگوں کو بیعت بھی کرتے تھے، عاقل پور، نرہرگونڈہ کا علاقہ آپ کے خاص معتقدین میں تھا، عیدین کی نماز اور ویسے بھی وقتاً فوقتاً اس علاقے میں آپ کی آمد ورفت کا سلسلہ تھا، طبیعت میں غایت درجہ عاجزی وانکساری تھی، ہر ایک کے ساتھ بڑی شفقت ومحبت کا معاملہ فرماتے تھے، طلبہ واساتذہ کے ساتھ ہمیشہ بڑا خیر خواہانہ معاملہ رکھتے تھے، آپ کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد جامعہ او رملک کے مختلف اداروں میں مختلف مناصب پر فائز رہ کر علم دین کی خدمت انجام دے رہی ہے، جو انشاء اللہ موصوف کے لیے توشۂ آخرت اور رفع درجات کا باعث ہوں گے، آپ نے زندگی کا بیشتر حصہ گھر یا مدرسہ میںگزارا ایک زمانے تک کتابت اور اکلیل پریس جو آپ کے دادا مولانا شاہ نور محمد بہرائچی صاحبؒ کا قائم کردہ تھا اور جہاں سے انھوں نے اپنے شیخ ومرشد حضرت مولانا عبد الحق صاحبؒ مہاجر مکی کی تصنیف کردہ حاشیہ تفسیر ’’الاکلیل علی مدارک التنزیل‘‘ شائع کی تھی اس سے وابستگی رہی، مچھلی کے شکار کے بھی آپ شوقین تھے، اس کے علاوہ اللہ نے آپ کو بہت سی خوبیوں سے نواز رکھا تھا۔ دار العلوم سے فراغت کے بعد ہی جامعہ نور العلوم میں تدریس کے لیے مقرر ہو گئے، دوران تدریس 1953 میں الہ آباد بورڈ سے فاضلِ دینیات ہوئے، 1954میں بانی جامعہ حضرت مولانا محفوظ الرحمن صاحب نامیؒ نے جامعہ ہذا کی مجلس شوریٰ کی رکنیت کے لیے انتخاب فرمایا اور 22 جنوری1961کو جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچکے سابق کارگذار مہتمم حضرت مولانا کلیم اللہ نوری کی تجویز اور اس دور کی مجلسِ شوریٰ کے اہم فیصلے کے مطابق جامعہ کے منصبِ اہتمام پر فائز ہوئے اور اس وقت سے تادمِ آخر تقریباً 46 سال ایک ماہ بڑی ہی خوش اسلوبی سے اہتمام کی مفوضہ ذمہ داری کو نبھایا، آپ کے دورِ اہتمام میں نور العلوم مدرسہ سے ’’جامعہ‘‘ کے مقام کو پہنچ گیا۔

اولاد[ترمیم]

محمد افتخار الحق قاسمی کے پانچ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہوئی، دو بیٹوں کا انتقال ہوچکا ہے، اس وقت تین صاحبزادے حافظ اظہار الحق صاحب نوری، مولانا قاری نثار الحق صاحب قاسمی، مولانا ابرار الحق صاحب قاسمی اور ایک بیٹی بقید حیات ہیں۔

تدفین[ترمیم]

محمد افتخار الحق قاسمی کی نماز جنازہ شہر کی جامع مسجد کے صحن میں آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا ابرار الحق صاحب قاسمی نے پڑھائی اور تدفین مولوی باغ قبرستان میں ہوئی۔

ت
میرے دل میں ان کا خیال اللہ اللہ مقدر کا میرے کمال اللہ اللہ
تجلی ہے آنکھوں میں کعبہ کی اب تو زہے کس قدر ہے جلال اللہ اللہ
اگر کاش ہوتی حضوری حرم کی تو ہوجاتا میں بھی نہال اللہ اللہ
پہنچتا ترے در پہ حسرت ہے دل کی ختم ہوتا میرا ملال اللہ اللہ
گناہوں کی کثرت سے مایوس ہے دل کرم کا ہے ان کے خیال اللہ اللہ
یہ طیبہ ہے طیبہ محمدؐ کا طیبہ ہر اک سمت ان کا جمال اللہ اللہ
ڑپتا ہے دل ان کی زیارت کو یا رب نہیں دل میں کوئی خیال اللہ اللہ
دوبارہ حضوری کی ہے اب تمنا زہے گر ہو پورا سوال اللہ اللہ
رسائی اگر ان کے روضے پہ ہوتی تو مٹ جاتے سارے ملال اللہ اللہ
خدا کے ہیں پیارے خدا کے دلارے محمد نبی خوش خصال اللہ اللہ
بیاں کر سکوں کیا تمہاری صفاتیں ارے کیسی میرے مجال اللہ اللہ
بیاں آپؐ کا اور زبانِ منورؔ ارے چپ یہ تیری مجال اللہ اللہ

[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  • نورالعلوم کے درخشندہ ستارے (مطبوعہ 2011)
  • نعت النبیﷺ نمبر مدرسہ شاہی مرادآباد
  1. نعت النبیﷺ نمبر مدرسہ شاہی مرادآباد