مظاہر علوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مظاہر علوم سہارنپور
Mazahir Uloom Jadeed.jpg
جامعہ مظاہر علوم جدید
قسمجامعہ اسلامیہ
قیام9 نومبر 1866 (154 سال قبل) (1866-11-09)
بانیاناحمد علی سہارنپوری، محمد سعادت علی، محمد مظہر نانوتوی
ریکٹر
  • محمد عاقل سہارنپوری (مظاہر علوم جدید)
  • محمد سعیدی جانشین فقیہ الاسلام مفتی مظفر حسین صاحب رحمہ اللہ(مظاہر علوم وقف قدیم)
مقامسہارنپور، اتر پردیش، بھارت
عرفیتمظاہر
ویب سائٹمظاہر علوم جدید مظاہرعلوم قدیم

جامعہ مظاہر علوم سہارنپور ، اترپردیش میں واقع ایک اسلامی مدرسہ ہے۔ رجب 1282ھ نومبر 1866ء میں سعادت علی فقیہ نے شروع کیا اور محمد مظہر نانوتوی اور احمد علی سہارنپوری کے زمانہ میں مزید ترقی کی۔ اسے بھارت کا دوسرا بااثر اور سب سے بڑا دیوبندی مدرسہ سمجھا جاتا ہے۔ مدرسہ کے ابتدائی فارغین میں مشہور محدث خلیل احمد سہارنپوری شامل ہیں۔

یہ مدرسہ 1983 میں مظاہر علوم جدید اور مظاہر علوم وقف قدیم میں تقسیم ہو گیا۔ موجودہ مہتمم بالترتیب مولانا محمد عاقل سہارنپوری اور جانشین فقیہ الاسلام مولانا محمد سعیدی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

9 نومبر 1866 کو دار العلوم دیوبند کی بنیاد کے چھ ماہ بعد[1][2][3] مظاہر علوم کو "مظہر علوم" کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔[4] اس کے بانیان میں احمد علی سہارنپوری ، محمد مظہر نانوتوی ، قاضی فضل الرحمن اور مولانا سعادت علی شامل ہیں۔[5] مظاہر علوم کو دارالعلوم دیوبند کے بعد دوسرا بڑا دیوبندی مدرسہ سمجھا جاتا ہے۔[6]

بانیان کے علاوہ اولین اساتذہ میں احمد حسن کانپوری ، سعادت حسین بہاری ، سخاوت علی امبیٹھوی اور محمد صدیق شامل ہیں۔[7] اولین فضلاء میں خلیل احمد سہارنپوری ، مشتاق احمد امبیٹھوی اور قمر الدین سہارنپوری شامل ہیں۔[8]

محرم 1338ھ میں اس مدرسہ میں دار الافتاء قائم کیا گیا۔[9] مدرسہ کے مفتیان میں اشفاق الرحمن کاندھلوی ، محمود حسن گنگوہی ، عبد القیوم رائے پوری اور محمد شعیب بستوی شامل ہیں۔[9]

حالیہ ترقیاں[ترمیم]

1982 کو دار العلوم دیوبند کی تقسیم کے بعد؛ 1983 میں مظاہر علوم بھی جامعہ مظاہر علوم جدید اور مظاہر علوم وقف قدیم میں تقسیم ہو گیا۔[10][11] مظاہر علوم جدید میں 1988 میں "امینِ عام" (جنرل سکریٹری) کا منصب اپنایا گیا ، محمد طلحہ کاندھلوی کو پہلا جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا، جو 1993 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔[12]

پروگرام[ترمیم]

مدرسہ میں درس نظامی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔[13] اس مدرسہ کے سابق مہتمم عبد اللطیف مظاہری نے درس نظامی کے نصاب کا تفصیلی دفاع لکھا۔ جب کچھ علمائے کرام نے نصابی ترمیم کی بات کی تھی۔[13] مدرسہ کے نصاب میں بروقت کچھ کتابوں کی تبدیلی عمل میں آئی ؛ لیکن اس میں مکمل طور پر ترمیم نہیں کی گئی اور نہ ہی وہاں تبدیلیِ نصاب یا تبدیلیِ نظام سے اتفاق کیا گیا۔[13]

ممتاز فضلائے جامعہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. برینن ڈی. اِنگرام (2019). "موڈرن مدرسہ: دیوبند اینڈ کلونیل سیکولیرٹی". ہسٹوریکل سوشل ریسرچ / ہسٹوریشے سوزیل فورشنگ. 44 (4): 211. JSTOR 26747455. اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2021. 
  2. سید محبوب رضوی. تاریخ دار العلوم دیوبند (انگریزی). 1 (ایڈیشن پہلی اشاعت، 1980). ادارۂ اہتمام، دار العلوم دیوبند. صفحہ 356. 
  3. شاہد سہارنپوری، علمائے مظاہر علوم اور ان کی علمی و تصنیفی خدمات، 1 (اشاعت 2005۔)، صفحہ 68 
  4. شاہد سہارنپوری، علمائے مظاہر علوم اور ان کی علمی و تصنیفی خدمات، 1 (اشاعت 2005۔)، صفحہ 108 
  5. شاہد سہارنپوری، علمائے مظاہر علوم اور ان کی علمی و تصنیفی خدمات، 1 (اشاعت 2005۔)، صفحہ 70 
  6. شاہد سہارنپوری، علمائے مظاہر علوم اور ان کی علمی و تصنیفی خدمات، 1 (اشاعت 2005۔)، صفحہ 67 
  7. شاہد سہارنپوری، علمائے مظاہر علوم اور ان کی علمی و تصنیفی خدمات، 1 (اشاعت 2005۔)، صفحہ 109 
  8. شاہد سہارنپوری، علمائے مظاہر علوم اور ان کی علمی و تصنیفی خدمات، 1 (اشاعت 2005۔)، صفحہ 116 
  9. ^ ا ب شاہد سہارنپوری، علمائے مظاہر علوم اور ان کی علمی و تصنیفی خدمات، 1 (اشاعت 2005۔)، صفحات 333–334 
  10. ڈیٹریچ ریٹز (2008). "چینج اینڈ اسٹاگنیشن اِن اسلامک ایجوکیشن: دی دار العلوم آف دیوبند آفٹر دی اسپلیٹ اِن 1982". In احمد نور، فاریش؛ سکند، یوگندر؛ برائنسن، مارٹن وان. دی مدرسہ اِن ایشیا: پولیٹیکل ایکٹیوزم اینڈ ٹرانسنیشنل لنکیجز (ایڈیشن 2008). ایمسٹرڈیم: ایمیسٹرڈیم یونیورسٹی پریس. صفحہ 89. ISBN 978-90-5356-710-4. 
  11. محمد اللّٰہ خلیلی قاسمی (26 مئی 2011). "مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور 1866-2011". اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2021. 
  12. رفیع الدین حنیف قاسمی (ستمبر 2019). "مولانا محمد طلحہ: حیات و خدمات". ماہنامہ دار العلوم. دار العلوم دیوبند. 193 (9). اخذ شدہ بتاریخ 05 اپریل 2020. 
  13. ^ ا ب پ شاہد سہارنپوری، علمائے مظاہر علوم کی علمی و تصنیفی خدمات، 1 (اشاعت 2005۔)، صفحات 131–132 

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]